ہنزہ کی حسین راتیں

ہنزہ کی حسین راتیں

Advertisements

گلگت بلتستان پر ثقافتی یلغار – آخری حصہ

تحریر: مولامدد قیزل

جب بھی کسی قوم کو اس کی تاریخ ، اس کے ماضی ، اس کے تہذیب و تمدن، اس کی ثقافت ، اس کے تشخص، اس کے مذہبی، سیاسی ، سماجی، علمی، پہچان سے جدا کردیاجائے ، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیاجائے، اس کے رسم و رواج کو قدیم اور بے کار گردانا جائے ، اس کے رسم الخط کو ختم کردیاجائے تو وہ قوم اغیار اور بیگانوں کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ یہ قوم مردہ ہوجاتی ہے اور اسے دوبارہ زندگی دینے کے لیے ،اس میں روح ڈالنے کے لیے ، نجات حاصل کرنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتاہے اور وہ راستہ ہے ایک عظیم لیڈر ، رہنما اور شخصیت کا بیدار ہونا، جو اس قوم کو اس صورتحال سے باہر نکالے اور ہم اس معاملے میں اب تک بدقسمت رہے ہیں۔

 Qizilllگلگت بلتستان کی گوناگوں تہذیب و ثقافت سدا بہار باغیچے کی مانند ہے جس میں مختلف شیریں زبانیں، باغ میں کوئل اور بلبل کی طرح سماعتوں کو راحت پہنچاتی ہیں اور جس میں مختلف مکتبہ فکرکے لوگ باغ کے مختلف گلابوں کی خوشبو کی طرح ماحول کو خوشگوار اور عقل کے لیے باعث راحت بناتے ہیں۔ جس طرح ہمارے جذبات ہمیشہ سرسبز اور شاداب ، جوان اور ایک دوسرے کے لیے باعث تسکین ہوتے ہیں،ہماری ثقافت ہماری پہچان اور چہرہ ہے ۔

 یہ اس مربوط ،منظم ، جاندار اور باکمال ثقافت ہی کی مرہون منت ہے جس نے ہمارے آبا و اجداد کوسربلند و سرفرا ز اور عزیز و باوقار بنا کر کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ ہماری ثقافت نے ہمیں وسیع تر سطح پر انسانوں کی دوسری انواع سے ممتاز کیا۔پاکستان میں پائی جانے والی گونا گونی چاہے وہ عقیدے کی شکل میں ہو یا زبان کی شکل میں یا رسم و رواج کی شکل میں، جس رنگ میں بھی ہو، ہماری طاقت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے اور ہماری ثقافت و تہذیب ہمیں ایک ہی کڑی میں پروئے ہوئے موتی کی مانند مربوط کرتی ہے جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آباو اجداد کی طرح سطحی اختلاف سے نکل کر ثقافتی رنگ میں رنگ جائیں۔ اپنے کھوئے ہوئے ثقافتی تشخص کے حصول کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ہماری بقاءکا دارومدار بھی اسی امر پر ہے کہ ہم اپنے تشخص یعنی پہچان کا دوبارہ اثبات کریں۔ اغیار اور بے گانہ ثقافت کو اپنانے کی بجائے اپنی

 ثقافت کو وقت او رحالات کے مطابق عقلی بنیادوں پر استوار کریں۔ دنیا عالمی گاﺅں میں بدل چکی ہے۔ تہذیب اور ثقافت ارتقاءکے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہم آج اپنی ثقافت کی حفاظت نہیں کرسکے اور اسے عقلی بنیادوں پر آگے نہ بڑھا سکے تو گمنام ہوجائیں گے۔ہمیں ایک دوسرے کی زندگیوں کو فائدہ مند بناتے ہوئے رہنا ہوگا ورنہ غلط فہمی، تناﺅ، تصادم اور المیے رونما ہوں گے۔ ہمیں اپنی ثقافت اور تہذیب کا پرچم ہمیشہ بلند رکھنا ہوگا۔ہمیں اپنوں پر بھروسہ اور اعتماد کرنا ہوگا ۔ہمیں اس خطے سے ہی ایک رہنما کو چنا ہو گا جو ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت دلا سکے۔ہمیں اپنی اولاد جدید علم سے آرستہ کرنا ہوگا۔

اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کا مددگار بنائے (آمین)