دی میجک بائی ہونڈا بائرن – بک ریویو بائی ایم قیزل

کیا آپ پریشان ہیں؟ کیا آپ زندگی سے مطمعین نہیں ؟ کیا آپ کو اپنی زندگی میں کوئی رونق یا چاشنی نظر نہیں آتی؟ کیا رشتوں میں وہ حرارت اب نہیں رہی جسکا ذکر آپ کے آباو اجداد کرتے تھے ؟ کیا آپکےمعاشی حالت میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی ؟ کیا آپ اپنی نوکری سے تنگ آچکے ہیں؟ کیا آپ کا بوس یا سپروائزر بدتمیز اور تعصب پسند ہے ؟ کیا آپکا کاروبار آگے نہیں بڑھ رہا ؟ کیا آپ کو زندگی میں کہیں روشنی اور امید نظر نہیں آتی ؟ کیا آپ کو یہ معاشرہ اخلاقی وروحانی برائیوں کامسکن نظر آتا ہے ؟ کیا آپ نے بھی ہار مان لیا ہے کہ یہاں کام شرافت و صداقت سے نہیں بلکہ جھوٹ و images (1)مکاری سے ہوتا ہے ؟ ۔ ۔ ۔ تو جناب ٹھہریئں ۔۔۔۔۔
یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ ہماری اپنی نقطہ نظر ہے ۔ ہم نے اس دنیا کو یوں پرکھا اور جانا ہے ، جس رنگ کے عینک ہم نے پہن لی ہے یا پہنایا گیا ہے ہمیں دنیا بھی ایسا ہی دیکھ رہا ہے ۔اور اگر ایسا ہے بھی تو اسکا علاج کیا ہے ؟ ہم ایک بیمار معاشرے میں رہتے ہیں نا شکرا ہونا بیماری ہی تو ہے اس بیماری سے شفا آپ کو ایک دن میں نہیں مل جاتی ۔
اگر آپ اپنی نقطہ نظر بدلنا چاہتے ہیں ؟ سکون ،اطمینان قلبی ، تسکین روح اور ذہنی آسودگی چاہتے ہیں تومشہور کتاب دی میجک بائی ہونڈا بائرن ضرور پڑھیں ۔ مشہور ناول نگارایلف شفق کہتی ہیں اگر آپ محبت کرنے سے پہلے اور بعد میں ایک ہی انسان ہیں تو آپ نے محبت کی ہی نہیں ہے۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ ایک اچھی کتاب پڑھنے سے پہلے اور بعد میں ایک ہی انسان ہیں تو آپ نے وہ کتاب پڑھی ہی نہیں ہے ۔ یہ کتاب آپ پر ضرور مثبت نقوش چھوڈ جائے گا جو آپ کے لیے یقنا راحت بخش ہونگے۔
دی مجیک جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کسی جادو کے بارے میں ہوگا مگر ایسا نہیں بلکہ یہ کتاب ہے شکرگزاری کے بارے میں، منونیت کے بارے میں ، تَشَکُّر کے بارے میں۔ سپاس گُزاری کے بارے میں ہے۔یہ کتاب ہے انسان کوانسانیت کے حدود میں لاکر لازاوال مہربانیوں کا ادراک کے بارے میں ۔ یہ کتاب آپ کو جھنجھوڑ دیتی ہیں یہ آپ سے پوچھتی ہیں کہ کیا آپ نے اپنی آتی جاتی سانس کا شکر ادا کیا؟ کیا آپ نے کبھی سورج ہوا پانی خوراک اور اپنی صحت کا شکر ادا کیا؟کیا آپ نے کبھی اپنی آنکھوں کا شکریہ ادا کیا جن کی بدولت آپ کئی نعمتوں کو دیکھتیں ہیں؟ کبھی اپنے ذہن ، اور دوسرے حواس کا شکریہ ادا کیا ؟ کیا آپ نے کبھی اس خوبصورت صبح کا خیر مقدم کیا شکرگزاری کی جو ایک تازہ دم زندگی کی نوید لے کر آئی ہے ؟ کیا آپ نے اپنے آفیس میں موجود اسیسٹنٹ، ریسپشنیسٹ، آفس کولیگز، آفس میں موجود سہولیات کا سپاس گزار رہے کہ یہ آپکو میسر ہیں ،کیا آپ ان رشتوں کا شکرگزار ہے جنہوں نے تمہارے لیےوقت، جان اور مال کی قربانی دی ؟ کیا آپ سپاس گزار رہے جو آپکی گلیاں ، گھر، آفیس ، واش رومز وغیرہ روز آپ کے لیَے صاف کرتے ہیں ؟
رائٹر ہمیں اس کتاب میں سکھاتی ہیں کہ آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنی آنکھوں کو اپنے چہرے کو غور سے دیکھیں ۔پھر آنکھیں بند کریں اور یہ سوچیں کہ آپ دیکھ نہیں سکتے ۔ خوبصورت دن ۔تاروں بھرے آسمان ۔ٹھنڈی ہواوں سے بھری شام ، ڈوبتے سورج اور خوبصورت درختوں کو آپ دیکھ نہیں سکتے ۔۔ اب آپ آنکھیں کھولیں اپنی آنکھوں کو غور سے آئینے میں دیکھیں ۔ اب دل پر ہاتھ رکھ کر اس بات پر شکر ادا کریں کے آپ دیکھ سکتے ہیں اور اس وقت جو مسرت اور خوشی آپ محسوس کرتے ہیں وہ ہوتی ہے شکرگزاری کی اصل روح! اسی طرح کے اٹھائیس پریکٹسس اس کتاب میں ہیں جو ہماری سوچ کےزاویعے کو بدل دیتی ہے۔
اور نہ جانے کیا کیا زندگی میں ان گنت مہربانیاں ذکر و ادراک ہے حو ہم پر قدرت ہر لمحا نچھاور کرتا رہتا ہے ہم ہیں کہ بس شکایات لیے خفا بیٹھے ہیں۔
یہ کتاب مثبت سوچوں کا ایک انمول تحفہ ہے دل چاہتا کہ راہ ملنے والا ہر شخص کے ہاتھ یہ کتاب تھاما لوں اور بولوں کہ اسے پڑھ لیے ، زندگی بہت حسین ہے ، زندگی کی رونق اور اصلیت ان سب سے جوڈ کر بنتی ہے جن سے ہمار ا ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ملاقات ہو، زندگی حسین ہے لحاظہ شکرگزار بنیں ، سپاساس گزار رہیے،

مووی ریویو ۔ میگن لیوی

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ روۓ زمین پر سب زیادہ خطرناک جانور کونسا ہے ؟ تو میرا جواب ہوگا انسان۔ کیونکہ انسان کے اندر ان تمام جانوروں کی عادات مدفون ہے پتہ نہیں کب کونسا جانور جاگے ۔
“ہر انسان کے اندر ایک دھوپ میں تپتی سحرا ، ایک گھنا جنگل اور زہریلے پانی کا تالاب ہوتا ہے اور اس سحرا ۔۔ گھنے جنگل اور پانی میں ہر قسم کے جانور رہتے ہیں جو انسان کے اندر سے وقتن فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں بس ہر وہ جانور جو اس مسکن کا باسی ہے تاک میں رہتا ہے کہ کب انسان پہ اس کا دورا پڑتا ہے اور وہ کود کر اس پر حاوی ہو ۔
انسان اگر بھادری اور بے خوفی پہ آئے تو اس میں سے
شیر جھلکتا ہے ۔
جب انسان اپنے اندر حسد اور نفرت کا زھر پالتا ہے توimages ایک سانپ بن جاتا ہے اور موقع ملتے ہی اگلے کو ڈس لیتا ہے اور جب رشتوں کا تقدس نکل جائے تو سوئر بن جاتا ہے ۔
اور جب مکاری اور کمینے پن پے اتر آئے تو لومڑی بن جاتا ہے اور جب حرام کھانے کی بات آئے تو یہ انسان گدھ بھی بن جاتا ہے ۔
پھر جب وفاداری کی بات آئے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” تو ایک نام جو ہر شخص کی ذہن میں اجاگر ہوتا ہے اور اسی وفادار جانور جسے کچھ لوگ جانور کہنا مناسب نہیں سمجھتے ۔۔۔یہ فلم بھی ایک ایسی وفادار جانور کے گرد گھومتی ہے ۔ اور وہ یے کتا ۔۔۔ کتا؟ جی کتا ؟ جو کئی انسان نما سانپ ،گدھ ۔۔۔۔سے بہتر ہے۔
یہ فلم ایک ایسے کتے کی کہانی ہے جو ١٩٩٩ میں پیدا ہوا اور سن ٢٠١٢ میں مر گیا مگر مرنے سے پہلے اس نے ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائیں ۔ جی جناب کئی جانیں بچائی ہمارے معاشرے میں کتا تو گالی ہے وہ کس طرح انسان کا دوست ہو سکتا ہے اور کس طرح مدد کرتا ہے دیکھ کر میں تو حیران ہوگیا ۔ عراق میں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں کھوجنے والا یہ کتا۔۔ریکس پورے فوجی اعزازوں کے ساتھ ریٹائر ہوا۔۔۔ جی پورے فوجی اعزازوں کیساتھ ریٹائرڈ ہو ا ۔۔۔۔۔ اور اسے الوداع پوری دنیا کے سامنے بیس بال گراونڈ میں جس طرح سے استقبال کرکے ان کو عزت دی گئی سچ پوچھے تو وہ قابل تعریف ہے۔ ہمارے ہاں اگر انسان کسی ادارےریٹائر ہو جاۓ تو اسے اگلے دن آفس کے دروازے پر ہی روکا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔ اور کیا نہیں ہوتا آپ خود ہی جانتے ہیں اس فلم کا اینڈ تو کمال ہے ۔
یہی تو فرق ہے ان ترقی یافتہ ملکوں کی جہاں کام کی قدر ہے چاہیے وہ جو بھی کرے ۔۔۔ انسانی جانوں کی قدر ہے انسانیت کی حرمت کی قدر ہے ۔۔سیکھنے اور سوچنے کے بہت کچھ ۔ ۔۔۔ ایک شاندار فلم میں تو یہ کہوں گا کہ اپنے فالتو وقت کو اس فلم سے چار چاند ضرور لگائیں اور ہمیں اپنی رائے سے آگاہ رکھیں