مرغیوں کے بہکاوے میں مت آئیں

یہ کہانی آپ نے ضرور سنا یا پڑھا ہو گا کہ ایک مرتبہ ایک کسان نے عقاب کے انڈے کو اپنے فارم میں لے آیا اور اسے اپنی مرغیوں میں سے ایک کے ڈربے میں رکھ دیا ۔ ایک دن اس انڈے میں سے ایک پیارا سا ننھا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ وہ زندگی بھر اپنے آقا کا دیا ہوا دانہ دنکا چگتا رہا اور پوری زندگی اس صحن کی مٹی میں لٹ پٹ ہو کر کیڑے مکوڑے کھاتا رہا۔

ایک دن باقی مرغیوں کےساتھ کھیلتے ہوئے اس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اڑتے دیکھے۔اور حسرت سے ایک آہ بھری اور خود  سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’کاش میں بھی ایک عقاب پیدا ہوا ہوتا اور آسمان کی ان بلندیوں کا پرواز کرتا ۔  جب اس  خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں پر عیان ہوا  تو انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا تم ایک مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اڑنا نہیں۔تم ایک پالتو حقیر پرندہ ہو، تمہارا کام آقا کا دیا ہوا سستا اناج کھانا اور انڈے دینا ہے ۔ یو ں اگر باغیانہ روش اختیار کرو گے تو نہ  صرف تم لقمہ اجل بنو گے بلکہ ساتھ ساتھ ہمیں بھی زندان نما پنجرے کی صحبتیں سہنے پڑئنگے۔ یہ سن کر اس عقاب نے اڑنے کی حسرت دل میں دبائے مرغیوں کی طرح جیتا رہا، راہ چلتے جس کسی نے بھی خیرات میں جو دانہ ڈالا چگتے اپنی حسرتوں پہ روتا رہا  اور ایک  دن ہوا یوں کہ ایک دانا و بینا شخص کا یہاں سے گزر ہوا ۔ دیکھتا کیا ہے  کہ ایک شاہین مرغیوں کے ساتھ اپنی شناخت بھولے دانے چگ رہا ہے ۔ دانا شخص اس عقاب سے گویا ہوا ۔

آخر تمہیں ہوا کیا ہے تم ایک عقاب ہو،تمہارے اندر خدا نے پرواز کی صلاحیت رکھا ہے ،تم  سمندر میں غوطہ مارنے کی صلاحیت رکھتے ہو، تمہارا خوراک تمہاری محنت و خون پسینے کا حاصل تازہ غذا ہے اور تم پرندوں کا بادشاہ ہو۔ تم ایک آذاد مخلوق ہو جسکا نشیمن بلند و بالا پہاڈوں کی چوٹیاں ہے ، تم کہاں ان مرغیوں کی باتوں آئَے ہو،  چل میں تجھے پہاڈ کی چوٹی پر لےجاتا ہوں جہاں تیرے آباواجداد کا نشمین ہے۔ تجھے اس پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دو گا اگر تو ڈر گیا تو زمین سے ٹکرا کر مر جاوگے اور اگر ہمت کی توبادِ مخالف تجھے آسمان کی بلندیوں میں لے جائے گا۔تجھے تیرا کھویا ہوا شناخت مل جائَے گا۔

عقاب یہ باتیں سن کر پہلے تو ڈر سا گیا کہ کہیں دوسرے مرغیوں کو پتہ چلے تو وہ اسکا شکایت کہیں اس ظالم کسان سے نہ کرئے جو اسے زندان میں ڈال کر ظلم کی انتہا کرے گا۔ مگر عقابی روح جو ایک بار اس میں بیدار ہوئی تو کہاں کا ڈر اور کس کا ڈر، اور اس دانا، ںڈر و بہادر آدمی کے ساتھ چل دیا، اس عقلمند انسان نے اسے پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دیا، عقاب تیزی سے زمین کی طرف گرنے لگی لیکن جونہی اپنے پر کھول دیَے آسمان کی بلندی کی طرف اڈان بھرنے لگی ۔

اگر دیکھا جائے تو ہماری قوم کا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے قدرت نے جس احسن تقویم پر انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ انسان اس معاشرےمیں کہیں ڈونڈھنے سے بھی نہیں ملتا۔ نہ جانے اس  سیدھی قامت اور دو ٹانگوں سے چلنے والی اس مخلوق کو کس قسم کے رائلر مرغی کے زیر سایہ پرورش  ملی ہے کہ جس کے ہاتھ سے علم کی دریا بہتی تھی۔ جس کے پیر ہزاروں میل کا راستہ چل کر بھی نہیں تھکتے تھے۔ جس کے خیال اور ہمت ایسی کہ وہ  بادلوں سے اوپر سیاروں تک کو تسخر کرنے کی جستجو میں رہتے۔اسکی تیراکی ایسی  کہ سمندری مخلوق  دھنگ رہ جاتے۔ اس کی آنکھیں ایسی کہ غیب کی رازوں کو نمایاں کرئے اورانکے کان ایسے ستاروں پر پہنچے انسانوں سے ہم کلام ہو جائَے ۔کبھِی پہاڑوں کے اندر سرنگیں بنائے تو کبھی آبشاروں کو ہوا میں معلق کر دے۔ کبھی سمندروں کا رخ موڈے تو کبھی ریگستانوں کو سیراب کرے ، وہ انسان آج مرغیوں کی طرح سبسڈی گندم کھانے پہ مجبور ہے  وہ انسان آج بنیادی انسانی حقوق سے محروم اپنی ہی صحن سے  آسمان پر ان ہی جیسے انسانوں کی اڈان دیکھ کر خواہشوں کی آگ میں جلنے ہر مجبور ہے ۔ وہ انسان آج خوف و ہراس میں مبتلا سہما ہوا ہے۔ ایک دنیا جہاں انسان تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہے وہاں اس معاشرے کا انسان ذہنی غلامی کے اشکنجےمیں جھکڑا ہوا ہے۔ اس معاشرے  کی ذہن سازی بھی انہی مرغیوں کی طرح ہوئی ہے جو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ایک جرم سمجھتے ہیں، انہیں دانہ چکنا سکھایا گیا ہے۔انکی شناخت کو مسخ کر کے انہیں فارمی مرغی بنا دیا گیا ہے۔

تو ایسا میں کیا کیا جائَے ؟ایسے میں ایک ایسا باہمت ، ںڈر ، بے باک ، بہادر، دور اندیش ، عاقل، انسان پرست، رہمنا کی ضرورت ہے جو ہمیں بھِی اس عقاب کی طرح  خود شناس بنائَے ، جو اس معاشرے کو خودار بنائَے ، اور دانا و بہادر کسان سر زمین گلگت بلستان کا سپوت بابا جان ہے جو ہمیں مرغیوں کی بہکاوئے سے نکال کر ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائَے گا۔  وہ جو ہمارے نمائندے بنے اسمبلیوں میں بٹھیے ہیں وہ پالتو فارمی مرغیاں ہے جن کا مطلب  و مقصد صرف دانہ چگنا ہے،

اگر آپ ذی شعوروعقلمند  انسان  ہیں اور آپ کے خواب آپکا زندہ ضمیر  تسخیر کائنات کے ہیں  آپ کو محنت و حلال کی روٹی کھانے کو جی چاہتا ہے عقلی عروج چاہتے ہیں انسانی عظمتوں کا ادراک چاہتے ہیں امن و انصاف چاہتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو کرپشن و رشوت  سے آذاد روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ اپنی کھوئی ہوئی شناخت چاہتے ہیں  تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیئے، کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیئے کیونکہ انہوں نے آپکو بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنی ووٹ کا صیح استعمال کرئے ، اور یہ حکم خدا وندی  بھی ہے کہ إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا  ما  بأنفسهم یعنی یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔

یہ کالم پامیر تائمز ،پھسو تائمز، اوررپوٹر ٹائمز پر بھی شائع ہوا

نوروز نام ہے خود احتسابی کا

کوئی بہار سے بھلا منہ کیسے موڑسکتا ہے۔جناب یہ  بہار کا موسم ہی تو ہے جو ہر سال ایک نیا پن لے لاتا ہے۔ زمین ایک نئی زندگی پاتی ہے تو ادھر درختوں پر پھولوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ سورج اور زمین سمیت اس پورے نظام شمسی میں ایک  ارتقاء یا تبدیلی   جنم لیتا ہے۔ سردی سے ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﮯ ﺭﻭﺯ ﻭﺷﺐ کے ایام  بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں تو  روئے زمین پر بسنے والے تبدیلی پسند لوگ  QIZILLزندگی میں آنے والی تمام تبدلیوں کو اجتماعی طور پر نوروز سے منسوب کر کے اس تبدیلی کو  مناتے ہیں۔

جناب ۱ اہل فار
س  اسے عید کے طور پر برسوں سے مناتے ہیں کہتے ہیں مشہور ایرانی بادشاہ زرتشت کے دور میں نوروز کو خصوصی مقام حاصل ہوا۔ زرتشت کے دور میں نوروز چار قدرتی عناصر پانی ، مٹی ، آگ اور ہوا کا مظہر اور علامت سمجھا جاتا تھا۔  ۔مغربی چین سے ترکی تک،  ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان،پاکستان کے علاقے اور شمالی عراق کے لوگ نوروزبڑے اہتمام سے منا تے ہیں

 تو کچھ لوگوں کا دعویٰ ہیں کہ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت و وصایت کا رسمی اعلان اسی دن ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دن منجی عالم بشریت  یعنی امام مہدی کے ظہور فرمائیں گے۔  تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار سورج کی روشنی اسی دن سیارہ زمین پرپڑی۔جناب وہ نوروز کا دن ہی تھا جس دن طوفان نوح تھم گیا۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضر ت موسی نےعصا کا معجزہ  دیکھایا اور فرعون کے جادو گروں کو مات دی۔۔ تو جناب عالی ۱ ان دعوں کا ایک بہت بڑی لیسٹ ہے۔ ۔ ۔  ان میں کتنی صداقت ہے اس سے مجھے کوئی لین دین نہیں ۔۔ مگر جناب میں زندگی کے ہر شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلی کا خواہاں ضرور ہوں ۔

 بلا کوئی کیوں نہ ہو کیونکہ زندگی ۔۔ تبدیلی کا دوسرا نام  ہی تو ہے۔ ۔ اور یہ مثبت تبدیلی ہی ہے جو مجھے اور آپ سب کے لئے وجہ مسکراہٹ ہے۔ تو دوستو مسکراتے  رہیــــــے ،خوش رہیــــــے،شــــاد رہیــــــے آباد رہیـــــــــے ۔۔

اور یہی نو روز کا پغام بھی ہے جو مجھے اور آپ کو ایک لمحے کے لئے غور و فکر کرنے کا موقعہ دیتا ہے۔یہ سوال کرتا ہے  کہ اے اہل خرد ، اے حضرت انسان، نہ جانے تو کتنے ایسے مذہبی، ثقافتی و دنیاوی تہوار ازل سے  مناتے آ  چلے ہو، مگر کچھ ہی لوگ ہیں جنہوں نے ان رسومات سے حقیقی خوشی و شادمانی حاصل کی ۔ ذرا تو یہ بتا کہ نہ جانے تیرے زندگی میں کتنے  اس طرح کے ماہ وسال آتے اور جاتے رہتے ہیں اور  اس کا تجھے احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ میرے عزیز تہوار اچھے کھانے ، نئے کپڑے زیب تن کرنے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کا نام نہیں  بلکہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر سوچنے کا نام ہے  آنے والے سال کو کس طرح کارآمد اور قیمتی بنا سکتے اس پر کچھ  غور وفکر کرنے کا ایک موقعہ ہے۔ میرے رفیق ، یہ تہوار مادی و معنوی  خود احتسابی  کرکے سال نو کیلئے منصوبی بندی کا  نام ہے۔ یہ تہوارت  ایک فکری لمحے کا نام ہے۔ یہ ہمیں بغیر ٹہرے گزرتے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی گھنٹی ہے، یہ ایک ایسی فکری لمحے کا نام ہے جو انفرادی و اجتماعی بالخصوص قوموں کی زندگی میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر زندگی کے یہ لمحات چند گھنٹوں کی مادی خوشی کی نذر ہو، فضولیات اور خرافات میں گزارے۔ اور اگر ہم اپنے گزرے ہوئے لمحات کے آئینہ میں اپنے عمل کا محاسبہ نہ کریں  تو جناب سمجھ لیجے گا۔ کہ یہ ایک لمحہ کی بھول آپ کے کارموں پر پانی پھیر سکتی ہے جبکہ اس ایک لمحے کا صیح استعمال نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر قوموں کی زندگی سنوار سکتی ہے ۔ ۔ تو بس وہی لوگ بازی لے جاتے جو ماہ وسال کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ تو نوروز ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم خود احتسابی کر کے ایک نئی امنگوں بھری مستقبل کی طرف روان دواں ہوں

تودوستو ہم بات کر رہے تھے نوروز کی  یعنی شمسی سال کا  نیا دن یا پہلا دن جو کہ علامت ہے تبدیلی کا، بہار کی آمد کا موسم سرما کی موت اور فطرت میں خوبصورت رنگ بھرنے کا، خواب و غفلت سے انسان کے بیدار ہونے کا،سوچ و فکر کے نتجے میں جاگ جانے کا ، فطرت سے متصل ہوجانے کا،تو آیئے زندگی میں آنے والی ہر اس فطری تبدیلی کا خیرمقدم کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کی قدر کرے، ہر لمحے کو غنیمت جان کر اسے اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسل کے لئے بیش قمیت بنائے۔

سال نو آپ اور آپ کے خاندان ۔ ملک و ملت میں خوشیوں کا بہارلے آئے، ملک و ملت میں موجود گوناگونی مثل باغ و گلشن بن جائے۔ آمین

یہ کالم پامیر تائمز پر بھی شائع ہوا

( ناول: ٘محبت کے چالیس اصول (ایک جائزہ

40qiz٭٭ ناول: ٘محبت کے چالیس اصول ٭٭ از ٭٭ ایلف شفق ٭٭
**٭٭ تحریر: ایم ایم قیزل
محبت کے چالیس اصول ترکی اور انگریزی کے مشہور ناول نگارایلف شفق کی ایک بہترین ناول ہے جس میں انہوں نے رومی ا شمس تبریز کی دوستی میں تصوف کو بیان کیا ہے، اس ناول میں انہوں نے آٹھ سوسال قدیم رومی و شمس کی محبت کو اکیسوی صدی کی ایک کردار کے ذریعے نہایت دلچسپ انداز میں قرطاس قلم کی ہے
اس خوبصرت ناول کو پڑھ کر قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ زندگی محبت کا نام ہے عشق کی حلاوت بہت میٹھی ہوتی ہے چاہیے اس میں جتنا بھی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو، محبت کی کوئی تعریف نہیں ہوتی یہ پاک و صاف اور سادہ ہوتی ہے
اس ناول کو جس کردار کے ذریعے قرطاس قلم کی وہ ایک مانچسٹر میں رہایش پزیر چالیس سالہ ایلا ہے جسکی زندگی تین بچوں کی دیکھ بھال اور گھر میں طرح طرح کے کھانے پکانے میں گزر رہی ہے جبکہ شوہر کی غفلت انکے لئے باعث پریشانی بھی ہےانکی نظر میں محبت کو ایک فضول کام سمجھتی ہے اس لئے بیٹی کی پسند کی شادی کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔ ایلا کی زندگی میں تبدیلی تب آجاتی ہے جب انہیں ایک ادبی ایجنسی میں ایک ناول پڑھنے اور اسکا جائزہ لینے کی نوکری ملتی ہے یہ ناول دراصل فورٹی رولز آف لو ہی ہوتا ہے جس میں شمس تبریز اورمولانا رومی کی ملاقات اور انکے درمیان عشق کی داستان بیان کی گئی ہوتی ہے
یہ ناول شروع سے آخر تک نہایت ہی دلچسپ انداز میں دو متوازی محبت کے حکایاتی تذکرے کو قاری کے پر رنگین وخوبصورت وادی کی طرح صفحہ در صفحہ نہ صرف عیان کرتی ہے، بلکہ ہر صفحہ قاری میں ایک تجسس بھی پیدا کرتی ہے۔

ایلا کو جب سویٹ بلاسفمی نامی تاریخی و پر اسرار ناول جو کہ ممتاز صوفی و شاعر مولانا رومی اور شمش تبریزسے متعلق ہوتی ہے پر کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے تو وہ اس کتاب کے منصف عزیز زاہرا سے شروع میں بذریعہ سی میل پھر فون پر روجوع کرتی ہےبن دیکھے انکے خیالات و افکار سے متاثر ہوتی ہے اور ان سے محبت کرنے لگتی ہےمحبت کو خام سمجھنے والی ایلا کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی محبت کے بغیر بے کار اور ادھورا ہے جب انکے شوہر کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انکی بیگم کسی کے محبت گرفتار ہوئی ہے تو وہ اسے منانے کی کوشش کرتا ہے وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اب کے بعد وہ اسے وقت دے گا اور وفادار رہے گا اسے نظر انداز نہیں کرے گا مگر تب تک ایلا عشق میں اتنا آگے بڑھ چکی تھی کہ واپسی محال ہوگیا تھا ۔ ایک دن عزیز ان سے ملنے انکے شہر آجاتا ہے جہاں ایلا سے وہ ایک ہوٹل میں ملاقات کرتا ہے ایلا انکے ساتھ جانے کا ارادہ کرتی ہے مگر عزیز انہیں بتاتا ہے کہ وہ انہیں کوئی روشن مستقبل نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ جلد کنسر کا مریض ہے نہ جانے کب اس کی سانس دم توڈ دے مگر ایلا سب کچھ چھوڈ چھاڈ کر شمس تبریز کے اس اصول کی پروی کرتی ہے اپنے دل کے فیصلے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔
ایلا اپنے شوہر اور تین بچوں کو چھوڈ کر عزیز کے ساتھ چلی جاتی ہے، ایک دن دونوں شہر قونیہ (ترکی) جہاں مولانا رومی مدفن ہے کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں کہ اچانک عزیز فرش پر گر پڑتا ہے اسے قریبی ہسپتال لے جایا جاتا ہے ۔ ایلا ہسپتال میں عزیز کے بسترسے لگی بیٹھی انکے ہاتھ تھامے ان سے بات کرنے کی آرزو مند ہوتی ہے مگر عزیز نیم بے ہوش آنکھیں بند کئے بستر مرگ پہ لیٹا ہوتا ہے ۔ایلا چند لمحوں کے لئے مایوسی کے عالم میں کمرے سے باہر نکلتی ہے اور ہسپتال کے باہر جھیل کنارے کھڑی ہوکر جھیل میں کنکر پھنکتی ہے اور مایوسی کے عالم میں خدا سے شکایت کرتی ہے کہ زندگی کے کئی سال بیت جانے کے بعد انکے دل میں عشق کی چنگاری لگا دی اور اس کم عرصے میں پھر ان سے اسکی محبوب کو چھین لیا ۔
کچھ دیر بعد جب وہ کمرے میں واپس آتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک ڈاکٹر اور نرس نے عزیز کو سر سے پاوں تلک سفید چادر میں ڈھانپ لیا ہے عزیز اس دنیا سے جا چکا تھا انکی خواہش کے مطابق انہیں انکے مرشد مولانا رومی کی آرام گاہ کے پاس دفن کر دیا جاتا ہے اور ایلا ایک درویشانہ زندگی گزارنا شروع کرتی ہے

جبکہ دوسری جنانب شمس تبریز اور مولانا رومی کی داستان عشق کی کہانی قاری کو اپنی گرفت لئے آگے بڑھتا ہے شمس تبریزجو کہ بچپن سے روحانی خیالات کا پیکر ہوتا ہے وہ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتا ہے اور ملکوں ملکوں ، شہر شہر درویشوں کی تلاش میں قونیہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ مولانا رومی سے ملتے ہیں، شمس جہاں بھی جاتے وہاں درویشوں کی دلوں پرانمٹ نقوش چھوڈ جاتے ہیں ۔ جیسے ہی رومی شمس تبریز سے ملتے ہیں وہ اپنی ظاہری نمود و نمایش ،عام مجالس ، اور تدریسی کام سے نکل کرعارفانہ و صوفیانہ راہ پر گامزن ہوتے ہے، شمس کی باتیں ہر عام شخص کی فہم میں نہیں آتی اور وہ انہیں بدعتی ، اسلام مخالف وغیرہ سمجھنے لگتے ہیں شمس کہتا ہے کہ ہر شخص کو کھلی اجازت ہے کہ اپنے طریقہ سے عبادت کرئے۔خدا کواس سے کوِئی سروکار نہیں وہ صرف دلوں کی دیکھتا ہے۔
مولانا رومی جب خطبے و تقایر، درس و تدریس چھوڈ کر خودشناسی کے سفرپر شمس تبریز کے ساتھ گوشہ نشنی اختیار کرتے ہیں توانکے گھر والے اورقونیہ کے لوگوں کو انکی خلوت پسندی و گوشہ نشنی پسند نہیں آتی وہ شمس تبریز کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شمس نے رومی پر کالا جادو کر کے اسے اپنی قابو میں کر لیا ہے۔ روز بہ روز شمس تبریز کے بد خواہوں میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مولانا رومی کا نرینہ اولاد علاوالدین انکا دشمن بن جاتا ہے۔ جبکہ مولانا رومی عشق کی انتہا کو چھو جاتے ہیں یہاں تک ایک دن شمس رومی سے شراب خانہ جا کے شراب لانے کو کہتے ہیں اور رومی بغیر کسی سوال کے سر عام شراب لے آتے ہیں ، رومی اپنے مرشد کے اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں یعنی ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﯾﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﮯ قربان کر جاتے ہیں ۔ شمس تبریز ایسے میں رومی کو چھوڈ کر چلے جاتے ہیں مولانا سے انکی جدائی برداشت نہیں ہوتی اور ہجر یار میں زار و قطار روتے ہیں رومی عشق کا پیکر بن جاتے ہیں انکے منہ سے نکلی ہر لفظ شاعری میں ڈھل جاتی ہے ، سلطان ولید سے اپنے والد کا یہ حال سہا نہیں جاتا اور شمس کو ڈھونڈ کر واپس لے آتے ہیں رومی اور شمس میں پھر وہی صحبتیں شروع ہو جاتی ہے مولانا کے مرید اور گھر والے سب مولانا کا قرب چاہتے ہیں مگر رومی ہے کہ وہ اپنے مرشد سے پل بھر کے لئے بھی دوری نہیں چاہتے ، آخر کار مولانا رومی کا ایک بیٹا علاو الدین اور قونیہ کے کچھ اوباش مل کر شمس کو قتل کرتے ہیں ۔اب رومی کی دنیا اجڑ جاتی ہے اور وہ شعر گوئی کے ذریعے غم جاناں کا تذکرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہر سنے والے پر اثر کرتی ہے اور انکے ان اشعار سےدیوان رومی بن گئی جسےمثنوی مولوی معنوی / هست قران در زبان پہلوی کہا جاتا ہے۔
یہ ناول اہل ادب کے لئے ایک منفرد تحفہ ہے جو قاری کے اندار صبر، محبت ، حق گوئی کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔

میرغضنفر کا سیاسی اقتدار میں خاندانی حصار

ماہ ستمبر ۱۹۴۶کو میر محمد جمال خان کی تاج پوشی ہنزہ میں پولیٹیکل ایجنٹ گلگت میجرکاب کی زیر نگرانی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جسمیں بالاورستان / بروشال کے میروں و راجاوں وغیرہ نے شرکت کی ۔ ہنزہ والوں نے اپنی روایات کے مطابق تین دن تک جشن منایا اور بھر پور مسرت کا اظہار کیا. ایسا نہیں تھا کہ ہر کوئی میری نظام سے نفرت کرتا تھا بلکہ میر آف ہنزہ سے ہنزہ کے لوگ دل و جان سے محبت بھی کرتے تھے۔ ۔میر جمال خان بذات خود اصلاح پسند آدمی تھے مگر زمانے کی نزاکتوں سے بے خبر تھے۔ اس نے وہ تمام ٹیکس جو انکے آباواجداد نے رائج کئے تھے سب معاف کیے ۔ علم حاصل کرنے کے لئے کسی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگایا ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہنزہ کے نوجوان علم حاصل کرئے کیوںکہ سر آغاخان سوئم نے انہیں تاکید کی تھی کہ انکی جماعت کو انگریزی ،عربی اور دوسری زبانیں سکھنے کی حوصلہ افزائی کرائے۔ اور میر جمال خان خود اسماعیلی سپریم کونسل فار سنٹرل ایشاء کے صدر بھی تھے ۔

پھر ایسا کیا ہوا کہ میری نظام کے خلاف ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئَے ؟

ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان جو کہ اس وقت کراچی میں مقیم تھے وہ ہنزہ میں اصلاحات چاہتے تھے وہ ہنزہ میں بہترین تعلیمی درسگاہیں، علاج ومعالجے کی اچھی سہولتیں، روزگار کے مواقعے وغیرہ چاہتے تھے ، مگر میر کے درباری ان نوجوانوں اور میر کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ میر اور عوام میں ایک خلا پیدا ہو چکا تھا ۔ ان اکابرین کی مخالفت نے میر آف ہنزہ کے خلاف طلباء کو مظاہرہ کرنے پہ مجبور کیا۔ جب میر آف ہنزہ کے خلاف اندرونی خلفشار نظر آیا تواسوقت کے پیپلز پارٹی پاکستانی حکومت نے اپنے اثر و رسوخ سے ان نوجوانون کی حوصلہ افزائی کی اور میرکے خلاف بغاوت پر اکسایا۔ ہنزہ کے نوجوان طالب علموں نے اپر ہنزہ پھسو گاوں میں پی پی پی کا پہلا دفتر کھولااور یوں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا ہنزہ آنا شروع ہوا۔ جب وزیر اعظم پاکستان ذولفقارعلی بھٹو کے حکم پر صدر پاکستان چودھری فضل الہی ہنزہ تشریف لائے تو ہنزہ کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو خوب مارا پیٹا۔ بھٹوصاحب کو یہ ناگوار گزرا اور ۲۴ ستمبر ۱۹۷۴ کو ریاست ہنزہ وریاست نگر کو ختم کر کے پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا ۔اور بس قصہ مختصر یوں عایشو خاندان کا ہنزہ پر حکومت ختم ہوئی۔

آج پھر میر غضنفر علی خان وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو میر جمال خان نے کی۔ میر صاحب سیاسی اقتدار حاصل کرتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہے۔ اپنے ارد گرد بیٹھے حضرات کی خوش آمد پر خوش ہے۔ ہنزہ کے پڑھے لکھے حضرات کیا چاہتے اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ وہ اپنی گھر تک محدود ہو گئے ہیں جو انکی اورانکے اولاد کے سیاسی کریئر کو ہمیشہ ہمیشہ ختم کر دے گی ۔انہیں موروثی و خاندانی سیاست سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

آج ہنزہ کا بچہ بچہ برابری چاہتا ہے ۔ انصاف چاہتا ہے ، اپنی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔ ہنزہ ایک نڈر، بے باک، غیور، دور اندیش، قابل ،بے لوث اور بےغرض رہنما چاہتا ہے۔ ہنزہ میرٹ کی بالادستی اور انصاف چاہتا ہے۔ ہنزہ تکثریت و گوناگونی چاہتا ہے ، ہنزہ اب کسی خاص فکری سوچ سے نکل کرزمانے کے اصولوں کی پاسداری چاہتا ہے، ہنزہ این جی اوز کے فنڈ نہیں بلکہ شہری حقوق چاہتا ہے ۔ ہنزہ لسانی، نسلی یا علاقائی تعصب کے دلدل سے نکلنا چاہتا ہے،ہنزہ والے آج کسی عایشو کے ذیر اثر نہیں بلکہ انکے سماج ،انکی معاشی و معاشرتی اوپر نیچے سے وقف ، انکے درمیان رہنے والا یا والی ، انکے دکھ درد کو سمجھنے والا ، کسی فرد کو اپنا رہنما چننا چاہتے ہیں۔ اور یقینا یہ گلگت بلتستان کا ہر فرد چاہتا ہے۔

مگر میر صاحب کو عوامی مینڈیٹ ملتے ہی اپنے گھر کوہی ہنزہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جناب والا آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کے آباواجداد نے ہنزہ کو انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا تھا گوجال ، سنٹرل اور لور ہنزہ ،اب تک آپ تین کجا ایک انتظامی حلقے کے ساتھ انصاف نہ کر سکے ۔ خود گورنر ہمیں خوشی اور قابل فخر لیکن مشیر اپنا بیٹے کو رکھنا اور خواتین کی مخصوص نشت پر رانی صاحبہ اور اب کے انتخابات میں شہزادہ سلیم کو لے آنا کی کوشش ، کہاں کا انصاف اور عوام دوستی ہے ؟ آپ کو عوامی شکایات اور خواہشوں کا علم ہیں؟ اہل گوجال کی محرومیاں اور ایک الگ سیٹ کا مطالبہ ، متاثرین عطاآباد پر ریاستی دہشت گردی،پچھلے چھ سالوں سے متاثرین عطاآباد کا مذہبی و سیاسی طور پر استحصال، وغیرہ جیسے ناانصافیاں ان حالات میں کیسے حل کریں گے ؟ آپ تو اپنے گھر کے ہی ہوگئے ہیں ۔

میرصاحب وقت بہت بدل چکا ہے۔ زمانے کی نزاکت کو سجمھ لیجے، بات صرف ان پانچ سالوں کی حکومت کا نہیں ہیں ۔آپ سے گلگت بلستان کے توقعات وابستہ ہیں۔ عوام میں پذیرائِی چاصل کرنا چاہتےہوتو اپنے اردگرد موجود ڈرائیور حضرات کی جگہ ہنزہ کے تعلیم یافتہ لوگوں رکھے ، ان سے مدد لے ، اپنی انا اور چاردیواری سے نکل کر عوامی خدمت کرے، ہنزہ کی نمائندگی ہنزہ والوں سے ہی کرائے نہ کہ اسے اپنی گھر تک محدود رکھے۔ ورنہ میری نظام کی طرح آپکا مورثی سیاسی مسقبل بھی ختم ہوسکتا ہے ۔کیونکہ آج بھی ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان ایسے تمام غیر مہذب، غیر قانونی، ناانصافی پر مبنی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ آپ کو ان ممالک سے سیاست سیکھنی چاہیےمثلا برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک جہاں موروثی بادشاہت ہونے کے باوجود ان کے خاندان کے افراد عمومی طور پر اقتدار کے ایوانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انکی عزت و احترام اب بھی موجود ہے۔مگر جناب والا آپ اقتدار میں آتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہیں۔

Also Published on
PT and Passu Times

کیا ہم آزاد ہیں ؟

آذادی کیا ہے ؟ شاید ہم اس کی معنوی حقیقت سے اب بھی آگاہ نہیں ہیں، ہم مادیت پرستی کا عروج کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم بےجا طاقت و اقتدار کےحصول اور اسکا نچلے طبقوں پر اطلاق کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم مذہبی انتہا پسندی کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم ذہنی غلامی کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم اقتدار کی خاطر سچے انسانی جذبوں کو لگام دینے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم انسانی روح کو مقید کرنے کی کوشش کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور اس منبے کو سنگسار کرنے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ہمیں حقیقی آزادی کا ادراک کرنے کی از حد ضرورت ہیں ۔
ہم غیر اخلاقی رویوں کوآزادی سمجھ بیٹھے ہیں اس معاشرے میں تہذیب آذاد نہیں، سچ آذاد نہیں ، انصاف آزاد نہیں، باقی سب آذاد ہیں۔
دودھ بیچنے والا آزاد ہے، جتنا مرضی ، پانی ڈال سکتا ہے، ہمارا میڈیا آزاد ہے۔ لفافے میں لپٹی ” صحافت” آزاد ہے۔پیسے دو اور چرچے لو۔ ہمارے ادھر انصاف بھی بکتا ہے، صرف دام بڑھاء.. فیصلہ اپنے حق میں کروائو ہمارا تاجر آزاد ہے۔ ملاوٹ شدہ مال بیچتا ہے، دوا فروش آزاد ہے دو نمبر ادویات بجتے ہیں،ہمارا ، ہر طبقہ آزاد ہے،حد تاکہ ٹریفک سگنل پہ کوئی قاعدہ و قانون نہیں کوئی روک ٹھوک نہیں آذادی ہے۔قاتل آذاد ہے اہل مقتول پابند سلاسل ۔جھوٹ آزاد ہے سچ پہ سزا ہے ۔ اور کیا کیا گنوا لوں ۔۔
اگر برصغیر کی تاریخ کاغایرانہ نگاہ سے مطالعہ کی جائے تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ جو انسانیت کی تذلیل اور ظلم بنی نوع انسان پر مذہب و آزادی کے نام پر سر زمین پاکستان پر ہوئی ہیں وہ سر زمین برصغیر پر اس سے پہلے نہیں ہوا۔ ۔۔ پاکستان اس لئیے آزاد نہیں ہوا کہ یہاں طاقتور اور اہل زر حکومت کریں اور نہ ہی اس لئیے کہ کمزوراور شریف انسانوں کے گلے میں غلامی کا دائمی طوق یا غلامی کی زنجیریں، ہاتھوں میں ظلم وجبر کی ہتھکڑیاں اور پیروں میں بے کسی و بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے کے لئے آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی جسمانی آزادی کی غرض سے کم بلکہ عقلی و ذہنی آزادی کی خاطر ہوا تھا ۔ یہ آزادی انساتیت کو معراج بخشنے کے واسطے ہوا تھا ۔مگر سب کچھ الٹا ہوا ۔ اب بھِی وقت ہیں ہمیں سوچنا چاہیے
غلامی صرف جسمانی غلامی نہیں بلکہ غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔مثلا ۔۔۔میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ آج جسمانی غلامی ، قانونی غلامی ، نفسیاتی غلامی اور ذہنی غلامی پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی ہیں غلامی کی اس بدترین شکل کے نتیجے میں آج اس ملک جسمانی غلام ، نفسیاتی غلام ، اور ذہینی غلام بغاوت پر اتر آئےہیں۔ ۔۔۔
عصر حاضر کی عین ضرورت ہیں کہ اس ملک میں بسنے والے تمام انسانوں کو بغیر کسی تفرق کے علم سے آراستہ کیا جائے ۔۔۔ گلگت بلتستان کو مکمل خود مختاری دی جائے، خیبر پختونخواہ کےقبائلی علاقوں کی پسماندہگی دور کی جائے ، بلوجستان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے عزم کا اعائدہ کیا جائے، سندھ میں نسلی تعصب ختم کی جائے ۔۔پنجاب میں جاگیردارانہ یا برادری نظام کو ختم کیا جائے ۔۔۔۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں دی جائے ، اور پاکستان کو انسانیت پرست ملک بنا دیا جائے ۔۔۔۔ تو عین ممکن ہے کہ اس ملک میں امن و امان، ہو ،،،،،

قیزل

بدلا نام ،گم ہوئی تاریخ گلگت بلتستان

کرنل ڈین کے مطابق کسی قوم کو بغیر جنگ کے غلام بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ذہن کنٹرول کیئے جائیں۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان۔ جب تک کسی انسان کا ذہن آزاد ہو گا وہ غلامی کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی عوام کا زندگی کے بارے میں نظریہ اور اقدار اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے تو وہ عوام کی سمت بھی کنٹرول کر سکتا ہے اور انہیں بڑی آسانی سےغلامی یا تباہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ اس قوم کو غلام بنانے کے لئے لازمی ہے اس قوم کی جڑوں کو کاٹ دیا جائَے یعنی انکی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرئَے یا انہیں انکی تاریخ سے دور رکھا جائے

تاریخی معلومات کو دو طریقوں سے مسخ کیا جاتا ہے ایک غیر ارادی طور پر جسے روایات کے ذریعے اگلی نسل کومنتقل کیا جاتا ہے اور دوسرا ارادی طور پر جسے کسی خاص منصوبے کے تحت، جان بوجھ کر مسخ کیا جاتا ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ کو نئے نسل تک حقیقی حالت میں پہنچانے سے گریز ارادی طور پر کیا گیا ۔ اسے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محض غلط فہمی یا لا پرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں مگر اس عمل میں شدت اس وقت آجاتا ہے، جب ایک شخص یا گروہ اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرتے ہیں ۔مثلا گلگت بلتستان کی تاریخ کو پاکستان اور کشمیر کے سیاسی و مذہبی رہنماوں نے اپنے مفادات کے خاطر تاریخ کو مسخ کرتے آرہے ہیں جس میں گلگت بلتستان کے نام نہاد سیاسی و مذہبی مفاد پرست لوگ بھی شامل ہیں۔ ہمیں جان بوجھ کر تاریخ سے دور رکھا جا رہا ہے، ہمیں ذبرستی کبھی پاکستان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر کا تو کبھی ہندوستان کا ،ہماری تاریخی کارناموں کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ، ہمیں وہ اپنی تاریخی کارنامے ، اپنے سیاسی و مذہبی قائدین کے قصے، اپنی ثقافت و روایات ، اپنے طرز معاشرت ، وہ اپنی زبان ، اپنی ادب وغیرہ وغیرہ پڑھتاتے ہیں ، پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں ہم نے اپنی زبانوں کو نہیں پڑھا، ہم نے اپنے روایات و ثقافت کا علمی تشہیر نہیں کی ، ہم اپنے طریقہ نظام حکومت سے نا واقف ہیں، ہمیں اپنے راجاوں و میروں کی تاریخ کو مسخ کر کے بتاایا گیا یا انکے صرف کمزریوں کو نما یاں کر کے ان سےنفرت پیدا کرایا گیا ۔

اول تو ہمیں علمی دنیا سے دور رکھا گیا اور اگر کہیں درسگاہیں ، اسکول، اور آذادی کے نصف صدی بعد کوئی یونیورسٹی بنایا بھی گیا تو ان مِیں طالب علموں کو غیر ممالک کے قدیم بادشاہوں کے حالات، میدان جنگ کے نقشے، اور واقعات پڑھائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے تو ہم ہندوستان ، عرب و عجم کے قدیم بادشاہوں کے حالات ایک ایک کرکے بتادئنگے لکین مادر وطن کے میروں و راجاوں، جنگ آذادی کے اعظیم رہنماوں کے متعلق پوچھو تو گونگے ہو جاتے ہیں یا کچھ حتمی علم نہیں ہوتا۔ انگلستان و برطانیہ کے بادشاہوں ۔رچرڈ، چارلس، اور جیمز خاندان کے حالات پوچھو تو بڑے فخر سے فرفر بتائے گے لیکن راجہ بغیر تھم، شری بدت، مغلوٹ، گرکس، میر جمال خان، ،خاندان تراخان و مقپون، علی شیر ایچن ، آزادی گلگت بلتستان کے نامور رہنما کرنل مرزا حسن خان وغیرہ کے بارے میں پوچھو تو لاعلمی کا اظہار کرئنگے۔ ہندوستان ،انگلستان و عرب کے قدیم باشاہوں کے کارناموں کا ،طرز سلطنت، عدل پروری، اور اصلاحات کے مداح ہونگے لیکن رانی جوار خاتون کی شجاعت،انصاف، رعاء پروری، اور اصلاحات سےکوئی فرد واقف نہیں ہوگا۔ اور دور حاضر میں ہم بھٹو، عمران خان، میاں ، اور الطاف و ذر کے شعلہ بیانی پر واہ واہ کرینگے لکین شہید وطن مرحوم حیدر شاہ رضوی، نواز خان ناجی، بابا جان،منظور پروانہ وغیرہ جیسے ںڈر سپوت کے فکر انگیز تقاریر سن کر خاموشی سادھ لیتے ہیں

ایسا کیوں ہے ؟ کسی قوم انکی تاریخ سے کیوں دور رکھآ جاتا ہے ؟؟ ہمارے اندر ایسا راویہ کیوں پیدا ہوا ہے ؟؟ایسا اس لیے ہیں کہ ہم تاریخ شناس نہیں اس لئے ہم باآسانی پنجابی، سندھی، پٹھان وغیرہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ہماری اپنی کوئی نمایاں پہلو نہیں رہا ہے ہمیں کالونیل حکومتوں کے ذہنی غلام بنانے کے لئے تاریخ سے دور رکھا گیا ہے، یا ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ سیاسی خاندانوں کی تبدیلی کی تاریخ ہے اسکی تاریخ میں کوئی فکر ، خیالات کی گوناگونی اور تبدیلی کی کشمکش نہیں ۔ ہماری تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کا تعلق ماضی سے ٹوٹ جائَے، جب لوگ تاریخ سے بیگانے ہوجائے ، ان میں تاریخ شناسی ختم ہوجائے تو اسکے نتیجے میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ انہیں اپنی شناخت کی کوئی فکر نہیں رہتی ۔ان کے پاس تاریخ سے حاصل کرنے والا کوئی جذبہ نہیں رہ جاتا ۔وہ مکمل طور پر ذہنی غلام بن جاتے ہیں۔

تاریخ شناسی ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں میں شناخت کو پیدا کرتا ہے مزاحمت کا احساس دلاتا ہے، حقیقی تبدیلی کے لئے ذہنوں کو تیار کرتا ہے اپنی مارد وطن کی خدمت انجام دینے کا احساس پیدا کرتی ہے اپنی وطن سے محبت ان میں پیدا کراتی ہے۔ تو وقت حاضر اور دور جدید کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو کھونے نہ دے ، اپنی تاریخ کو آنے والی نسل تک درست انداز میں منتقل کرے، تعلمی اداروں میں اپنی زبان و ثقافت اور تاریخ کو پڑھائے ۔ تاریخ پر ریسریچ کرنے کے مواقعے فراہم کرئے۔حکومت وقت سے یہ امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جس سے قوم کے اندر شعور پیدا ہو۔


وفاقی جماعتوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

مولا مدد قیزل

یہ کوئی بہادر ، عوام دوست ، غریب پرست ، یا ان کا ماضی عوامی خدمت میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ  میرے پڑھے لکھے نوجوان دوست انہیں اس لئے  ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے ، کہیں انکو گورنمنٹ سروس کا کوئی راستہ ملے ۔۔پاک چین راہ داری کا جو سوشا ہے اس میں کہیں کوئی دو چار آنے کمانے کا موقعہ نصیب ہو ۔۔اور وجہ کیونکہ یہ فیڈرل پارٹیز کے کارندے ہیں جو انہیں ترقیافتہ کاموں کے لئے فنڈز دینگے ۔ بس اتنی سی ہے ہمارے سوچنے اور غور کرنے کی حد ؟؟؟ بقول انکے کہ جب حق پرست ، نڈر ، بہادر ، سرزمین گلگت بلتستان کا سپوت نواز خان ناجی صاحب جیت کے اپنے لوگوں کے لئے کیا کیا ؟؟؟  ایک با شعور اور باضمیر ، انسانی جذبوں سے آراستہ و پوستہ فرد کے لئے نواز خان ناجی کا جیت جانا ہی سب کچھ ہے ۔ ان کے لئے امید کا ایک کرن ہے ،شبسنان میں رہنے والوں کے لئے طلوع آفتاب ہے ، کیونکہ انکی زندگی دو وقت کی روٹی نہیں ، انکا مقصد گلے میں زنجیر باندھے بادشاہ کے حکم پر ناچنا نہیں، یہ لذید کھانے کا شوقین نہیں۔ بلکہ انکی روح میں آزادی کی چاہت ہے ، انکی جذبوں میں برابری ، مساوات ، اور انسانی حقوق کی روانی ہے ،

جبکہ پاکستانی  فیڈرل پرست لوگوں کا رویہ افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کی ہے جو سفید فام ظالموں کے خلاف مزاحمت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان ، اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی،کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار انکے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے ۔انہیں نشان عبرت بنا دیتے ۔مگر انسانی ذیست میں رب کائنات نے جو آذادی کے جراثیم رکھے ہیں ان سے کوئی روگردانی کیسےکر سکتا ہے ۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ، مذاحمت کرتا ہے ، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے سہنے  والی جبر و ظلم کو  کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

ںواز خان ناجی کا جیتنا اور انہیں اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کا مدد نہیں کرنا، انہیں اور عوام کو مجبور کرنا ، ہم پر مسلط باشاہوں، حکمرانوں اور غاصبوں  کا شیوہ رہا ہے اور یہ چال ہے کہ تمہیں یہ سب دیکھا کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر دلیر ۔ بہادر اور دور اندیش نوجوان کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ، اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں ووٹ ایک نوکری کی مد نہیں دینی چاہیے ، ہمیں رشتہ دار ، ہم زبان ، اور ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر نہیں دینا چاہیے ۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی اور حال میں درپیش مشکالات، سنحاحات، اورمسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے ، ہمیں ایک روشن آذاد مستقبل کی مد میں ووٹ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ریاستی غنڈا گردی کا جواب سوچ و بچار سے دینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اصلی اور کھوٹے سکوں  میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ووٹ کا صیحی حقدار وہ ہے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی دلانے کی
Published@ GBVotes & Pamirtimes