ابن آدم کے قتل پہ تیرا دل گیرنہیں

Advertisements

خلیل جبران کا یہ کلام گلگت بلتستان تیرے نام

کیا بڑے شاعروں کے پاس ایسی کوئی حس ہوتی ہے جس انھیں مستقبل میں آنے والے واقعات کی جھلک دکھا دیتی ہے؟ اگر یہ بات درست نہیں ہے تو پھر لبنانی شاعر خلیل جبران کی آج سے 77 سال پہلے تحریر کردہ نظم پڑھتے ہوئے یہ کیوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج ہی کے دن لکھی گئی ہے؟

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

یہ خلیل جبران کی ایک نظم کا اقتباس ہے جو اس نے 1934ء میں لکھی تھی۔ جبران لبنان کا رہنے والا تھا اور عین ممکن ہے کہ یہ نظم اپنے وطن کے حالات بلکہ حالاتِ زار کی نشان دہی کرتی ہو، لیکن یہ آج کے حالات پر یوں منطبق ہوتی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔ نظم ملاحظہ فرمائیے:

میرے دوستو اور ہم سفرو
افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو
جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو
ایسی شراب پیےجو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو

افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے
افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں
اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو
اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو

لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ خلیل جبران کی اسی نظم سے متاثر ہو کر مشہور نراجیت پسند امریکی شاعر لارنس فرلنگیٹی نے 2007ء میں ایک نظم لکھی، جو بلاتبصرہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے:

افسوس اس قوم پر جس کے عوام بھیڑیں ہوں
اور جنھیں اپنے ہی چرواہے گم راہ کرتے ہوں
افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں
اور دانا خاموش 

جہاں منافق ہوا کے دوش پر راج کرتے ہوں
افسوس اس قوم پر جو آواز بلند نہیں کرتی
مگر صرف اپنے فاتحوں کی تعریف میں
اور جو داداگیروں کو ہیرو سمجھتی ہے
اور دنیا پر حکومت کرنا چاہتی ہے
طاقت اور تشدد کے بل پر

افسوس اس قوم پر 
جو صرف اپنی زبان سمجھتی ہے
اور صرف اپنی ثقافت جانتی ہے
افسوس اس قوم پر جو اپنی دولت میں سانس لیتی ہے
اور ان لوگوں کی نیند سوتی ہے جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہوں
افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر
جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے

پاکستان کے حالات شروع سے ایسے رہے ہیں مگر گلگت بلتستان خوصّا ہنزہ جہاں خواندگی ۱۰۰ فی صد ہے ایکایمان دار اور عوام کے دکھ درد میں شامل ہونے والا نماینئدہ منتخب نہیں کر سکے

یہ نظم انکے نام

سانحہ ہنزہ اور جشن آزادی

وادی ہنزہ کے مقام علی آباد میں اس روز بارش ہورہی تھی. سربز وادی باران رحمت کی مہک میں جھوم رہا تھا . گھنے بادل وادی میں زینہ زینہ اتر رہے تھے، گویا آسمانوں سے بیزار ہو کر  اس جنت نظیر خطے کی خاک کو چومنا چاہ رہے ہوں٠

ہنزہ کے سارے مکین اپنے کاموں میں مگن تھے، ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ لمحے بعد ان کے پر امن علاقے کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہونے جارہا ہے٠

دریاۓ ہنزہ کی بندش سے وجود میں آنے والی جھیل کے کچھ متاثرین ایک مقامی بینک کے سامنے کھڑے تھے، وہ اپنے اکاونٹ سے پیسے نکال کر زندگی کی کچھ بنیادی ضروریات پوری کرنا چاہتے تھے.  ان متاثرین میں وادی گوجال کے گاؤں آئین آباد کا شیر اللہ بیگ اور اس کا جوانسال بیٹا، شیر افضل، بھی شامل تھے٠

بینک کے عملے نے متاثرین کو بتایا کہ ان کے اکاونٹ میں  حکومت کی طرف سے  ابھی پیسے نہیں آئے ہیں اس لیے وہ کی مدد کرنے سے قاصر ہیں٠

پریشان حال متاثرین بینک کی عمارت کے باہر نکلے اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک احتجاجی مظاہرہ کریں گے.  یہ بے گھر، لیکن معزز لوگ پچھلے عطاءآباد کے مقام پر آنے والی قدرتی آفت کی وجہ سے بننے والی جھیل کی زد میں آکر اپنے زمینوں اور گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور ہزاروں حکومتی وعدوں کے باوجود اپنی زندگی کو دوبارہ سے شروع نہیں کر پارہے تھے. ١٨ مہینوں تک خیموں اور کراۓ کے مکانوں میں زندگی گزارنے والے لوگوں نے جب سنا کہ ان کے علاقے کے وزیر اعلی ہنزہ نگر کا دورہ کرنے والے ہیں تو انہوں نے  فیصلہ کیا کہ وہ اپنے رہنما تک اپنی مشکلات پہنچانے کے لیے جمہوری طریقے سے پر امن احتجاج کریں گے.٠

انہوں نے علی آباد کے بیچ میں سے گزرنے والے شاہراہ قراقرم پر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ، اور سڑک کے بیچ میں کھڑے ہو کر اپنے جائز مطالبات کے حق میں نعرہ بازی شروع کردی. نعرے کیا تھے، بے بسی اور لاچاری کا اظہار تھا. وفاقی حکومت کی طرف سے دیے جانے والے فنڈ کی جلدی سے منتقلی، بہتر سفری سہولتوں کی درخواست، اٹھارہ مہینوں سے قائم جھیل سے پانی کا اخراج، بچوں اور بچیوں کی تعلیمی خرچ کے لیے مختص فنڈز کی منتقلی اور صحت کی بہتر سہولیات…..٠

پولیس کے ایک افسر کو ان متاثرین کی یہ جسارت ناگوار گزری، اور اس نے اپنے ماتحت عملے کو حکم دیا کہ وزیر اعلی کی آمد کے موقعے پر روڈ کو خالی رکھا جاۓ ، اور متاثرین کو ہٹا دیا جاۓ٠

مجبور اور حکومتی بے حسی سے بیزار متاثرین نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا. وہ کسی بھی صورت میں اپنی گزارشات گلگت بلتستان کے منتخب وزیر اعلی تک
پہنچانا چاہتے ہیں٠

. بشکریہ  اکرام نجمی …مظاہرین پر لاٹھی چارج کی تصویر

دوسری طرف پولیس کے اہلکار اور افسران بھی ان مظاہرین کو ہٹانے کے لیے بضد تھے. پولیس نے انگریز دور کی یاد گار، لاٹھی چارج، کا مظاہرہ کیا اور مظاہرین پر آنسو گیس پھینکے.   متاثرین کو حیرت تھی کہ آخر ان پر ڈنڈے کیوں برساۓ جارہے ہیں؟ ان کا جرم کیا ہے؟ کیا اپنا حق مانگنا جرم ہے؟ کیا حکومتی نا اہلیوں کے خلاف احتجاج کرنا غیر قانونی ہے؟

پولیس کے ڈنڈے پڑے تو مظاہرین بھی اشتعال میں آئے اور چند جذباتی نوجوانوں نے  پولیس کے اہلکاروں پر پتھراو شروع کیا.  ایک پتھر ڈی ایس پی صاحب کے ماتھے پر لگا، اور ان کے چہرے سے خون بہنے لگا٠

بس، پھر کیا تھا، فائرنگ کا آرڈر دیاگیا، انگلی ٹریگر پر ، گولیاں باہر، اور وادی ہنزہ کی پرامن فضاء بارود کی مکروہ بدبو سے بھر گیا. خون کے فوارے پھوٹ پڑے. گولیوں کی آوازیں تھم گئیں تو لوگوں نے دکھا کہ چار افراد زمین پر پڑے کراہ رہے تھے٠

پچاس سالہ شیر الللہ بیگ اور اس کا ٢٢ سالہ بیٹا شیر افضل، دونوں، زمین پر گرے ہوے تھے، اور ان کے جسم سے خون بہتا ہوا ہنزہ کی سرزمین کو داغدار کر رہاتھا. بارش کی بے رنگ بوندیں اس روز زمین پر گریں تو ان کا رنگ  لال تھا٠

 علی آباد کے بازار میں موجود لوگوں نے سکتے کے عالم میں یہ منظر دکھا، لوگوں کی مدد کو پہنچے، زخمیوں کو قریبی ہسپتال تک پہنچایا جہاں شیر اللہ بیگ نے اپنی  زندگی کی آخری سانسیں لیں. شیر اللہ کے قتل کی خبر سن کر لوگ مشتعل ہو گیے اور سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو کر   پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاج شروع کیا.  پولیس نے ان کوبھی طاقت دکھانے کی کوشش کی تو عوام بپھر گیے، اور پھر کوئی سرکاری عمارت بچا نہ اس علاقے میں سرکار کی  عزت٠

بد قسمتی سے  گھراو جلاو کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا   لیکن حکومت اور انتظامیہ  کے ذمہ دار افراد یا تو وزیر اعلی صاحب کی پروٹوکول ڈیوٹی میں لگے رہے، یاپھر گدھے کے سر سے سنگ کی طرح غائب . ان مشتعل مظاہرین کو روکنے والا کوئی نہیں ملا اور تباہی و بربادی کا ایک افسوسناک سلسلہ شروع ہو گیا٠

پرتشدد احتجاج کا سلسلہ ناصر آباد سے سے سوست اور گلمت تک پھیل گیا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل گیے٠

گلمت میں مقامی سماجی رہنماؤں نے پولیس کے نوجوانوں کو پناہ دی اور ان کو مشتعل ہجوم کے غیض و غضب کا ںشانہ بننے سے بچا لیا. انہی رہنماؤں کی وجہ سے گلمت پولیس سٹیشن کی عمارت بھی  جلنے سے بچ گیا ٠

تباہی و بربادی کا یہ قابل مذمت سلسلہ شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا. سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے سے علاقے کے کونسے مسائل حل ہوے یا متاثرین کے کونسے مطالبات پورے ہوے؟  ہمیں اپنے نوجوانوں اور بچوں کو یہ تربیت دینی چاہیے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر ہم کوئی کار خیر نہیں کر رہے بلکہ
کاغذات وغیرہ کو تباہ کر کے بہت سارے افراد  کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں. تشدد کا راستہ ہمیشہ غلط ہوتا ہے. بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوے قانون کو اسکا کام کرنے دیا جانے چاہیے تھا. کاش تباہی کا یہ طوفان نہیں آتا… کاش

گلگت شہر میں بھی ہزاروں لوگوں نے پولیس کی اس بزدلانہ فعل کے خلاف زبردست پر امن  احتجاج کیا اور مجرموں کی سرکوبی کا مطالبہ  کیا٠

 اسلام آباد، گاہکوچ، گلگت، کراچی، لاہور اور ملک کے دوسرے علاقوں میں گلگت بلتستان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور حکومتی نااہلی کے خلاف یکجا ہو کر زبردست احتجاج کیا.   یہ مظاہرے ابھی جاری ہیں اور ایسے آثار نظر آرہے ہیں کہ  پر امن مظاہروں کا یہ سلسلہ آیندہ بھی جاری رہے گا٠

مظاہرین کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کو وسعت دیتے ہوے پولیس کی بہتر تربیت کا تقاضا بھی کرے. صرف تنخواہیں بڑھانے سے شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے٠

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ خونیں واقعہ پاکستان کی یوم آزادی سے ٣ دن پہلے رونما ہوا، اور ابھی عوامی غم و غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے…  یقینآ اسی وجہ سے آزادی کا رنگ بھی پھیکا سا لگ رہا ہے….  حکومت نے ہنزہ میں  دفعہ ١٤٤ نافذ کر کے تو گویا اس بات کا پورا اہتمام کر لیا کہ علاقے میں ملکی آزادی کا جشن نہیں منایا جائیگا. ایسا ہنزہ کی جدید تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے، اور ہم سب کو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے؟

حکومت کی طرف سے  واقعے کی عدالتی تحقیقات کا فیصلہ خوشآئند ہے لیکن یاد رہے کہ اگر انصاف نہیں کیا گیا تو ریاست اور شہریوں کے درمیان  موجود اعتماد کے  رشتے کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے  ، جو کسی کے مفاد میں بھی نہیں٠

ہنزہ کے لوگ پر امن تھے اور انشا اللہ ہمیشہ پرامن ہی رہیں گے. ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے اور اس خوبصورت علاقے کو جہنم بنانے والوں کے مکروہ عزائم ناکام بنا کر امن بحال کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے اور مقامی افراد اور اداروں کی مدد کرے تاکہ علاقے کے مسائل حل ہو سکے اور لوگ اپنی زندگیوں کی طرف توجہ دے سکے

source..

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ

مجھے سوچنے دے

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا

زندگی تلخ سہی ، زہر سہی، سم ہی سہی
دردو آزار سہی، جبر سہی، غم ہی سہی

لیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھ
ظلم کی چھاوں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھ

اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ

جلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہ
رہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کا گروہ

بھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیں
تیرہ و تار مکاں، مفلس و بیمار مکیں

نوعِ انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضاد
امن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فساد

ہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلابِ عظیم
نت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیم

لہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماں
اور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواں

یہ فلک بوس ملیں دلکش و سمیں بازار
یہ غلاظت پہ چھپٹتے ہوئے بھوکے نادار

دور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطار
سرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گلزار

درو دیوار پہ انوار کا سیلابِ رواں
جیسے اک شاعرِ مدہوش کے خوابوں کا جہاں

یہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دے
کون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دے

اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ