ہنزہ میں نوروز کا سماں کیسا ہوتا ہے ؟

1925177_10152001119291592_1366068598_n

Advertisements

معاشرے کے حواس خمسہ

دور حاضر کی اس گہماگہمی میں شاید ہی کسی کو اس امر سے انکار ہو کہ میڈیا معاشرے کے حواس خمسہ کی مانند ہے۔ پاکستانی معاشرہ جو امیر غریب، مسلک ، رنگ نسل، ذات پات، سوچ و فکر اور طبقاتی رواج  وغیرہ جیسی ہزارچیزوں میں  بٹا ہوا ہے، میں جہاں ایک کمزور فرد کبھی سر اٹھا نہیں سکتا وہاں صرف میڈیا ، صحافت ، سچے اور نڈر صحافی ہی ہیں جو اس معاشرے کی قوت سماعت ،بینائی اور گویائی بن جاتے ہیں۔ سچی  صحافت اس اندھیر نگری میں امید کی کرن ہے ، طاغوتی طاقتوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔

mmqپاک اور حقیقت ہر مبنی صحافت ایک صحت مند انسان کی مثال پر ہے جسکے حواس مکمل اور تازہ ہوں ۔ حواس سے بے بہرہ انسان زندہ رہ کر بھی مردہ کہلاتا ہے وہ ایک  زندہ لاش بن جاتا ہے۔  میڈیا اور صحافیوں پر حملے معاشرے کے حواس پر حملے کے مترادف ہے اور طاغوتی و ظلماتی طاقیتں اس معاشرے کے کان ، آنکھ اور زبان کاٹ کر اسے مردہ کرنا چاہتے ہیں ۔ حکومت وقت اور اس کے حامیوں پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہیں کہ وہ معاشرے کی اس  اہم حصے کو فراموش کیں بغیر نہ صرف اسکی حفاظت کریں بلکہ جہاں اصلاح کی ضررت ہیں وہاں اسکی مدد کریں ۔

ریاست کی اس اہم ستون کو جہاں فرد واحد دولت کی حوس میں انسانی اقدار سے غافل ہو کر اپنا من مانی کرتا ہے  وہاں مذہبی انتہا پسند دہشت گرد تنظمیں قابض ہونے کی نہ صرف  سعی کر رہے ہیں بلکہ اپنی سوچ اور عقائد کو لوگوں پر زبرستی تھوپنے کی کوشش میں مگن ہیں۔ پاکستاںی معاشرے کا صیح آواز نہ مذہبی انتہا پسند رویے میں ہیں اور نہ  مغربی طور وطریقوں میں ،یہ دونوں سرے معاشرے کے صیح چہرے کو نہ صرف مسخ کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو اپاہیچ کر دیتے ہیں ۔ اس لئے یہ لازمی ہے کہ آزاد صحافت کو انسانی اقداراور اعتدال  پر مبنی آصولوں پر گامزن کی جائے۔

PT

گندم سبسڈی نہیں، آئینی حقوق چاہیے

 آذادی گلگت بلتستان کے ہیروز اور عوام کو کہاں معلوم تھا کہ ڈوگروں سے آذادی حاصل کرنے کے بعد انکی آنے والی نسل پر ایک اور قوت قابض ہو جائے گی جنہیں یہ اپنے  اسلامی بھائی سمجھ بیٹھے تھے. انہیں کیا معلوم تھا کہ جسے یہ آذادی سمجھ بیٹھے تھے وہ دراصل غلامی اور محرومی  کی ایک نہ ختم ہونے والی زنجیر ہےجسے یہ اپنی اولاد کے گلے میں ڈال رہے ہیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ آذادی حاصل کرنے کے بعد انکی نسل انحطاط کا شکار ہوگی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ ان پر قابض حکمران انہیں آپس میں لڑا کر منتشر کرینگے ۔ انکو کیا معلوم تھا کہ انکی نسل فرقہ وارانہ فسادات کی بھینٹ چڑھ گی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ انکی ذبانیں اور رسم الخط مخدوش ہونگی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ انکی شناخت ، پہچان ان سے چیھن جائیگی ۔ انہیں کیا معلوم کہ کہ انکی نسل کو تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے گا ۔انہیں کیا معلوم تھا کہ انکے سپوت اس ملک کے دفاع کے لیے شہید اور غازی تو بن جائینگے  لیکن اس فوج کا سپاسالار نہیں بن پاینگے ،وہ  قومی اسمبلی کے ممبر نہیں بن سکیں گے اور  نہ ہی سینیٹ کے ۔۔۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اس علاقے کے قدرتی وسائل  اور نعمتوں سے انکی اولاد محروم رہے گی اور اغیار ان پر قابض ہونگے ۔یہ بھی انہیں معلوم نہیں تھا کہ عوام اپنی حقوق کے لئے جب نکلیں گے تو انہیں  ان کے اپنے محافظ ، جنہیں سرکاری ملازم اور عوام کا خادم سمجھا جاتا ہے،  گولیاں ماریں گے.  انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ڈوگروں کے بعد ان پر مسلط ہونے والی قوت ان  سے بھی بری ہوگی ۔ انہیں یہ بھِی معلوم نہیں تھا کی وہ جس ایمان اور  جذبہ حب اواطنی سے اپنے خطے کا الحاق کرانے جا رہے ہیں وہ سر زمین  نصف صدی سے زیادہ تک سر زمین بےآئین کہلائے گا۔ انہیں سستی روٹی سکیم دے کر انکی نسل کو لاغر، سست اور  کاہل بنا دیا جائیگا. انہیں روٹی اور آٹے کی لڑائی میں الجھا کر ان کی قدیم قومی حمیت اور غیرت ختم کی جائیگی!

Qizilہمیں نہیں چاہیے سستی روٹی کی سکیم ، ہمیں گندم سبسڈی نہیں چاہیے. ہم احسانمند نہیں رہنا چاہتے. ہمیں کسی کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں. ہمیں آئینی حقوق چاہیے ، وہ آذادی چاہیے جو فطرت نے ہر انسان کودی ہے ۔ ہمیں اپنیا تاریخی وقارچاہیے ،ہمیں شناخت چاہیے ، انصاف چاہیے خومختاری چاہیے۔

گندم سبسڈی دراصل قوم کو سست، لاغر اور کاہل کرنے کی  ایک سکیم ہے ، بھٹو نے ہماری قوم کو سستی روٹی دے کر ذیادتی کی ہے ۔جسکا خمیازہ آج بھِی ہم بھگت رہے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر بٹھو کوئی علم درسگاہ کی بنیاد رکھتا ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ صحت عامہ کے درد انگیز مسائل کا کوئی حل دیتا اور بہت سارے کام ہو سکتے تھے مگر گندم سبسڈی ہی کیوں ؟

یہ سستی روٹی کا ہی نتیجہ  کہ نصف صدی تک گلگت بلتستان کے عوام کو علم کی روشنی سے دور رکھا گیا، یہ اس قوم کی کمزور سوچ نہیں تو اور کیا ہے؟ ںصف صدی بعد ایک فوجی ڈکٹیٹر نے ایک جامعہ دیا ،، ان جمہوری اقدار کے دعوداروں نے ہمیشہ قوم کو انحطاط کی طرف دھکیل دیا ۔ اس ساءینسی دور میں آج بھی ہم صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ ملک کے دوسرے حصوں میں نہیں  بکنے والی ادویات آج بھِی  یہاں بک جاتے ہیں ، ہر دو نمبر شے کا کاروبار عام ہوچکا ہے ،مگر ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں.

وقت آچکا ہے کہ ہم ذاتی اور انفرادی مصلحتوں کو چھوڈ کر ایک قوم بن جائیں۔ ملی غیرت کا احساس بیدار کرے ۔ اس خطے کے مظلوم قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرے ۔ اپنی شناخت کا پرچم بلند کرنے کے لئے انفرادیت سے نکل کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دے ۔پاکتستان کے تمام  وفاقی سیاسی جماعتوں کا بائیکاٹ  کر کے اپنی قومی پہچان کو ترجیح دے ۔ کٹھ پتلی حکمرانوں کو عوامی انصاف کے کٹھرے میں لا کھڑا  کرے ۔

یہ اس وقت ممکن ہوگا جب نوجوان نسلی ، مذہبی ، لسانی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہوکر پوری  قوم کو صیح سمت کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اغیار کے جھنڈے تلے کھڑے ہو کر نٰرہ لگانے کے بجائے قوم کو ایک جھنڈے تلے جمع کریں ۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ،،،

PT

مسلم معاشرےکا عقلی اور علمی انحطاط

مسلم معاشرہ آج جس عقلی اور علمی انحطاط کا شکار ہے شاید کسی اور زمانے میں نہ ہوا ہوگا۔ چوری چکاری، قتل و غارت، ناانصافی، طلم و جبر کی ایسے انگنت واقعات روزانہ رونما ہو رہے ہیں جسے دیکھ کرانسان حواس باختہ ہو جاتا ہے ۔ ظلم ایسا کہ انسانی روح کانپ اٹھتا ہے۔ اور یہ سب بنام اسلام ہو رہا ہے۔حالانکہ اسلام اپنے اندر سلامتی کامفہوم پنہاں رکھتا ہے۔ مغرب آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہا ہے،اور مشرق خصوصا اسلامی معاشرہ تنزلی کا شکار ہےمشرق تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہیں اور تسخیر نفس کے ذریعے ہزار ہا بیماریوں کے آسان علاج بھی دریافت کرنے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں.

مسلم معاشرے کو پیغمبر اسلام رسول اللہ صلم نے جن منطقی، علمی اور عقلی اصولوں پر گامزن کیا تھا ان اصولوں سے آج پورا معاشرہ انحراف کرتا نظر آرہا ہے. آج پورا عالم اسلام ہمہ گیر زوال کا شکار ہے،جو حالت مسلمانوں کی آج ہے اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں اور اسکا دوش کسی اور کو دینا مناسب نہیں۔اسکا اندازہ تب ہوگا جب ہم اپنی کوہتائیوں اورغلطیوں پر نظر ڈالیں گے ۔

Qizilاہل مغرب جب سائینسی تجربات سےمعاشرے کو منطق اور مشاہدے پر یقین رکھنے کی تعلیم دے رہا تھا تب مسلم معاشرہ پیرو فقیر کے دئیے ہوے وظائف اور دعاوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کر رہے تھے اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔ اہل مغرب جب تجربہ گاہیں اورلائبریریاں بنا رہے تھے۔ اسوقت مسلمان مغل بادشاہ شاہ جہاں تاج محل کی تعمیر پر ریاست کی مال و دولت صرف کر رہا تھا جبکہ دوسرے مسلم سلطنتیں عبادت گا ہیں اور مقبروں کے  بناّو سنگار میں مصروف عمل تھے۔ جب مغرب جدید علم کی تلاش میں کتابوں کے ترجمے اپنی مادری ذبانوں کر رہے تھے اسوقت ہم کتابوں کو بغیر کسی فہم کے رٹ  رہے تھے ۔اہل مغرب آج بھی بے پناہ مصرویات کے باوجود کتب بینی کرتے ہیں چاہے وہ سفر میں ہوں یا آفس میں ہوں فراغت کے لمحات کتب بینی سے جوڈ دیتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ کتب بینی کا شوق ہی نہیں۔آج بھی ہمارے نوجوان اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر کانوں میں ہیڈفونز لگائے یا تو کسی بولی وڈ کے گانے پر گنگنا رہے ہوتے ہیں یا گاڈی میں سفر کے دوران روڈ پر آویزاں رنگ برنگ کے اشتہارات سے محظوظ ہوتے ہیں۔

مغربی معاشرہ افلاک کی تسخیر میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں اور ہم 14 سو سال پرانے رسومات میں الجھے ہوئَے ہیں۔مغرب انسانی زندگی کو آسان بنانے میں کوشاں ہے اور ہم نے زندگی کو ایک معمہ بنا دیا ہے۔ اہل مغرب نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا اور انکا اصلاح کی، جدید علوم کی راہیں ہموار کی، کلیسا اور گرجاگھر سے جاری ہونے والے فتوے پر یقین کرنے کی بجائے اپنے تجربے اور مشاہدے کو مستند جانا، سوچ و فکر کی آزادی دی، جس نے انسانی عقل کو پروان چڑھایا۔ انقلاب برپا کی ۔ تہذیب و تمدن ، معشیت ومعاشرت کے اصول تبدیل ہوگئے۔سائنسی انقلاب نے مذہبی انتہا پسندی سے نکل کر پادری اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے چنگل سے آزاد کرایا۔جمہوریت وجود میں آئی صنعتی اور ٹکنالوجی کے انقلاب نے دنیا جہاں میں مثبت تبدیلیاں رونما کی۔ ایک سے بڑھ کر ایک درسگاہیں، یونیورسٹیاں قائم کی جس میں طب سے لےکر عرش وفرش کی بلندیوں اور گہرایوں کی تعلیم دی اس علمی اور عقلی سفر میں مسلمان کہیں نظر نہیں آتے۔؟ انقلاب کے اس دور میں مسلمان شریک ہی نہیں ؟ مسلمان صارفین بن چکے ہیں۔

اس واضح انقلاب کے باوجود مسلم معاشرہ آج بھی اسی تسلسل کے ساتھ انحطاط اور زوال کی طرف رواں دواں ہے مجال کہ منطق و خرد کی کوئی آصول پر کام کریں۔ عرب ممالک آج بھی عقلی جہالت میں لپٹے نظر آتے ہیں۔ رنگ برنگ کھانوں کیلئے دنیا بھر سے مسالہ جات تو مانگوا سکتے ہیں مگر علم نہیں۔۔ دسترخوان ہزار ہا کھانوں سے سجائنگے مگر مجال کہ غریب معاشرے کی مدد کریں۔دقیانویس قسم کے فکری تصورات میں آج بھی یہ معاشرہ مقید ہو چکا ہے۔اہل عرب جن کے پاس آج بھی کوئی ایک یونیورسٹی نہیں انہیں برج خلیفہ بنانےکی کیا ضرورت ؟؟؟ کوئی تجربہ گاہ بنا لیتے۔ علمی درسگاہ بنا لیتے۔ وغیرہ ۔مگر نہیں یوں لگتا ہے کہ انہیں علم جدید سے کوئی خوف ہے کہ کہیں انکا کمزور عقیدہ خطرے سے دوچار نہ ہوں ۔

دور حاضر کا مسلم معاشرے سے تقاضا ہے کہ ہم انسانی عقل کو پرواں چڑھانے میں اپنی کردار ادا کریں۔تحقیق و تجربات کو فوقیت دے ۔کائنات کی تسخیر کیلئے نئی نسل کو تیار کریں ۔ہمیں بھی چاہیے کہ آسمان کی بلندیوں کی طرف پرواز کریں۔زمین کی گہرایوں میں جھانکے۔ سمندر کی گہرایوں میں جائے۔۔علم طب میں کوئی کردار ادا کریں۔فطری تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جیئے۔ اور یہی دین اسلام کا مغز ہے ۔جو ہمیں فکر،جستجو، عمل صالح، تجربات، مشاہدات، اورسعی کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔سطحی چیزوں میں الج کر زندگی کو مشکل بنانے کی بجائے۔ اسے خوشگوار بنانے کی ضررت ہے۔ اور معاشرے کو عقلی اور علمی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضررت ہے

PT