گلگت بلتستان میں خواتین کی حکمرانی


اگر بزمِ انساں میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی

کچھ دن قبل “End Violence Against Women” کے موضوع پر ترقی پسند نوجوانوں کی ایک تنظیم نے ایک سمینار میں گلگت بلتستان کی تاریخ میں خواتین کی حکمرانی پر کچھ بولنے کی دعوت دی، جس میں اپنی ناقص علم و سمجھ کے مطابق اپنے خیالا ت کا اظہار کیا، اس میں کچھ شک نہیں کہ عورت ایک خوشحال اور زندہ معاشرے کا روح رواں ہے۔

انسانی معاشرے بحیثیت اجتماعی ہو یا انفرادی جب اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں تو وہ غیرصحت مندانہ معاشرہ یا فرد کہلاتا ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ مرد اور عورت ایک زندہ معاشرے کے دو پر ہیں جس پر پورے معاشرے کا اڑان اور بلندی کی طرف پرواز منحصر کرتا ہے اگر ان میں سے کوئی ایک پر بھی کاٹ دی جائَے تو یہ معاشرہ لنگڑا، گونگا، بہرا معاشرہ بن جاتا ہے،اور یہ لنگڑا معاشرہ کسی درندہ صفت مخلوق کا نظر ہوجاتا ہے اور آخر کار موت اسکا مقدر بن جاتا ہے ۔

ایم ایم قیزل

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھِی عورت کو کو بہت اونچا مقام دیا تو کبھی اسکی اتنی تزلیل کی کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اسے کبھی دیوی بنا کر اسکی پوجا کی گئی تو کبھی شیطان ، کند ذہین ، فتنہ و فساد کی جڑ گردان کر زندہ درگور کیا گیا۔ اسے کبھی جنس لطیف، وجہ سکون، صنف ناک، جیسے الفاظ سے تعبیر کیا تو لونڈی، وجہ شر جیسے نازیب الفاب سے تشبہ دی گئی۔

جب فطرت کی جدید تخلیق، یعنی عورت معضوع گفتگو ہو اور تو کوئی وادی حسن و جمال، سر زمین آبشار، وادی گل پوش و برف پوش گلگت بلتستان کی بلند و بالا پہاڈوں پر بسیرا کرنے والی عورتوں کو کوئی صرف نظر کیسے کر سکتا ہے ۔ جس طرح گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے بلند اور اونچا ہے اسی طرح ان بلندیوں میں رہنے والی خواتین بھی با ہمت ، دلیر، بہادر اور بلند کردار کے مالک ہیں۔ اس کی مثال تاریخ میں حکمرانی کرنے والی ملکہ نوربخت، دادی جواری اور نور بی بی تھے اور عصر حاضر میں علم و فن ،سپورٹس، تحقیق اور آرٹ میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر نمایاں کردار ادا کرنے والے کئی خواتین آپ کے سامنے ہیں ۔

آئیں آپ کو گلگت بلتستان پر حمکرانی کرنے والے ان با صلاحیت خواتین سے روشناس کراوں جنہوں نے تخت بادشاہت پر جلوہ فرما ہو کر حکومت سنبھالی۔ یہ قدیم دردستان ہو کہ بروشال یا موجودہ گلگت بلتستان گلگت ہمیشہ سے درالخلافہ رہا، کہتے ہیں کہ قصر نامی راجہ جو کہ بدھ مت کا پیروکار تھا نے یار قند، ترکتسان، بدخشان، اور چترال کو فتح کرتے ہوئے گلگت پر وارد ہوئے اور یہاں “بغیرتھم” کو اپنا گورنر بنا کر یہاں سے نکل پڑے۔اس کے بعد بغیر تھم کے خاندان نے اس علاقے پر حکومت کی، بغیرتھم کے بعد اس کا بیٹا آغور تھم نے تخت گلگت سنبھالا، جس سے تارِیخ گلگت بلتستان کے ظالم و جابر حکمران شری بدت پیدا ہوئَے۔اس جابربادشاہ کے متعلق بہت سی غیر یقینی روایات مشہور ہیں جو سینہ بہ سینہ چل کر یہاں تک پہنچیں ہیں، اس آدم خور بادشاہ شری بدت کی صرف ایک اکلوتی بیٹی نور بخت تھی جس کی پرورش انکا رضاعی باپ “جٹئےلوٹو” کے زمے تھا۔ لوگ اس آدم خور بادشاہ سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے مگر کرے بھی تو کیسے، ایک دن ہوا یوں کہ ایران سے ایک قافلہ پہنچا جس میں وہاں کے شاہی خاندان کا ایک فرد آزرجمشید تھا، جٹئے لوٹو، اور شری بدت بادشاہ کے دو وزیرشردہ بین اور اردہ کون نے اس شاہی خاندان کے اوالاد کو نجات دہندہ سمجھ کر ملکہ نور بخت کی آزرجمشید سے شادی کرالی جو کہ بعد میں واپس چلا گیا۔

لوگوں نے آخر کار ملکہ نور بخت کی مدد سے اس ظالم بادشاہ کو قتل کیا اور ملکہ نور بخت خود تخت گلگت پر براجمان ہوئی۔ ملکہ نور بخت نے 14 سال تک حکومت بڑی خوش اسلوبی اور نہایت تدبر سے چلائی۔ انہوں نے اپنے ظالم باپ کی حکومت سے نجات دلانے میں عوام کا بھر پور ساتھ دیا۔ پھراس نے حکومت کی بھاگ دوڈ اپنا بیٹا راجہ کرک کے حوالے کیا۔

یوں ابن بادشاہ ابن بادشاہ کی کہانی چل رہی تھی کہ گلگت کا راجہ شیر خان اپنا ہی وزیر ایشو اور یاسین کا راجہ خوشوقت کے ہاتھوں قتل ہوا تو اسکا بیٹا مرزہ خان تخت نشین ہوئے اسے بھی اسی وزیر ایشو نے نگر کا راجہ کمال خان کے ہاتھوں قتل کرایا۔ راجہ مرزا کی ایک اکلوتی بیٹی جوار خاتون کو گلگت کے تخت پر بیٹھایا گیا جوار خاتون انتہائی دانشمند اور دور اندیش تھی یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1635ء کا ہے ۔ جب چالاک وزیر ایشو نے دادی جواری کی شادی نگر کے ایک گشپور فردوس سے کرالی اور پھر اسے واپس نگر بھیج دیا تو دادی جواری نے ایشو کے عڑائم سمجھ گئی اور اسے بگروٹ کسی بہانے سے بلا کر قتل کیا اور حکومت کی بھاگ ڈور مکمل طور پر خود سنبھال لی۔ رانی یا دادی جواری اپنے وقت کی ایک مدبر اور بہترین حکمران ثابت ہوئِی وہ ان سے پہلے آئے ہوئے تمام حکمرانوں پر نمایاں نظر آتی ہے ۔ وہ جرات و استقلال میں بے مثال تھی۔کہتے ہیں کہ سلطنت کے ہر کام اور ہر گوشے پر اسکی نظر تھی۔ انہوں نے اپنی عہد میں کر گہ نالہ سے گلگت شہر کے لئے پانی کا نہر بنوایا۔ جو کہ ایک اہم کارنامہ ہے ۔ نیز وہ گرمیوں میں راریل جاتی اورمو سم خزان میں گلگت آجاتی تھی۔

آئیے گلگت کے مضافات سے نکل کر وادی ہنزہ کی طرف چلتے ہیں جہاں نور بی بی نام کے ایک خاتون حمکران کیسے بنی ۔ ریاست ہنزہ نگر کئی عشروں تک ایک ہی بادشاہ کے زیر تسلظ رہا۔ راجا میعور خان۔۔ لالی تھم ۔۔ جس کا نسب گلگت کے راجہ رئیس خان سے ملتا ہے نے گلگت کے راجہ ترا خان کی بیٹی سے شادی کی جس سے دو بچے جمشید مغلوٹ اور صاحب خان گرکس پیدا ہوئے۔ دونوں بچوں میں تناو ختم کرانے کے لئے لالی تھم نے بڑا بیٹا گرکس کو ہنزہ اور چھوٹا بیٹا مغلوٹ کو نگر کی حکومت دے دی۔ جس پر مغلوٹ نے گرکس کے ساتھ دشمنی مول لی ۔ چناچہ دونوں میں شدید مخالفت پیدا ہوئِ اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے، بعد اذاں جب مغلوٹ کو موقع ملا تو اسکے حامی آدمی مغل بیگ کی مدد سے گرکس کو قتل کر دیا۔

راجہ صاحب خان ۔۔گرکس کے قتل کے بعد اسکی اکلوتی بیٹی نور بی بی اسکا جانشین بنی اور تقریبا 13 سال تک ریاست ہنزہ پر حکمرانی کی ۔ جب اہلیان ہنزہ پر یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ تخت ہنزہ کا اگلا وارث کون ہوگا؟ اس سلسلے میں عمائدین نے آپس میں مشاورت کی اور شغنان سے ایک راجہ خاندان کے اوالاد عایشو کو لے آئے اور غنیش ملکہ نور بی بی سے شادی کرا کے بادشاہ کے تخت پر بیٹھایا۔ خواتین ہنزہ کو اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ جو دیکھا بال، عزت و احترام، انکی پرورش کا خیال ،انکی حوصلہ افزائی جس طرح تاریخ میں ہوئی آج ہم نے وہ بہترین اقدار کھو دئیے ہیں ۔ مثلاَ ایک عورت کی عزت و آبرو، اور انکی تحفظ کا ذمہ دار صرف انکے ماں باپ ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ انکا پورا قبیلہ اسکی عزت و احترام کے لئَے کھڑے ہوتے اسکی عزت یعنی” شلژن مو ننگ” کسی قبیلے میں ہونا ان کے لئے باعث فخر ہوتا تھا۔ آج ہم اس روایت کو کھو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنزہ کے لوگ علاقے میں موجود شریف ، پاک دامن اور فرماں بردار عورتوں کا ایک تہوار “بوت” مناتے تھے جس میں ایسے عورتوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کے نام پر مسافر خانے ، راستے ، نہریں اور دوسرے چیزیں بناتے اور یہ اس خاندان، قبیلہ اور علاقے کے لوگوں کے لئے باعث فخرہو تا، اس علاوہ کئی اورایسے مثبت اقدار ہیں جنہیں دوباراپنا سکتے ہیں۔

گلگت بلتسان کی تاریخ و حال کو اگر دنیا کے دوسرے حصوں سے موازنہ کیا جائے تو عورتوں کے لئے اس معاشرے میں ہمیشہ سے نرم گوشہ رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پندرھویں صدی ہجری میں بھی عورت کو اس علاقے پر حکمرانی کرنے کا حقوق ملا جو دور حاضر کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ، ہر معاشرے میں منفی اور مثبت پہلوں ہوا کرتے ہیں عورت کسی صورت بھی مرد سے کم نہیں انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ہیں، بزبان حمکت هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وہی خد اہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے.

PT

Advertisements

بیمار معاشرے میں حسنین کا قتل ، زمہ دار کون ؟؟

آخر کیوں یہ معاشرہ اتنا بے حس ہوتا جا رہا ہے۔ معصوم حسنین پر جنسی تشدد  پھربہیمانہ قتل ہمارے معاشرے کا  نہ صرف اخلاقی زوال ، بلکہ انسانی اقدار کا انحاط ، غیر مہذب معاشرے کا عکاسی بھِی کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسانی ضمیر کو جھنجوڑ دے  مگر ہمارا معاشرہ اتنا مردہ ہو چکا ہے کہ اس کا کوئی اثر نظر نہیں آتا ۔ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور یہ بیمار قوم نیم مردہ حالات میں خاموش رہتے ہیں، ہمارا معاشرہ خود غرضی ، مفاد پرستی،انا پرستی، اور بے حسی کی انتہا کو چھو چکا ہے برائی ، ظلم و بربریت اور نا انصافی کی آگ نے ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، یہ معاشرہ غیر مہذب ، جبر اور تباہی کے ایسی پاتال میں گر چکا ہے جس سے جان چھڑانا نا ممکن سا ہوگیا ہے۔ بے حسی کا زہراس طرح ہماری رگ و پے میں سرایت کرگیا ہے جیسے نشے میں دھت افراد غلاظت میں پڑے رہنے کے باجود گندگی اور بدبو کی احساس سے عاری ہوتے ہیں۔ یہ بیمار قوم ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نہ انہیں احساس ہے اور نہ ہی اسکا علاج کرانا چاہتے ہیں۔ اور اگر کوئی انکی بیماری کا تشخیص کرئے بھی تو اسکا جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس گھناونی جرم پر آمادہ کرنے والے عوامل کیا ہیں۔ ؟ اس معاشرے کو کند ذہن۔ بیمار اور بے حس بنانے میں کس کا ہا تھ ہے ؟ بہت سے احباب ، دوست اور لوگوں کا خیال ہے کہ معاشرے کا اخلاقی انحاط میں میڈیا، یعنی ٹی وی، انٹر نیٹ ، فلمیں اور موبائل فون وغیرہ جیسے چیزیں ہیں جو انہیں اور انکے بچوں کو برائی پر اکسا دیتی ہیں، انہیں مرتد بنا دیتی ہیں ،انہیں برائی پر اکساتی ہیں، گویا برائِی کا جڑیہی ہے ،  ۔ ۔  ذرا سوچیے ہمارا  معاشرہ آئی ٹی کے سامنے کتنا لاچار اور مجبور ہو چکا ہے، کہ بس انہیں دیکھتے ہی برائی آ گھیر لیتی ہے ۔ انہیں چھوتے ہی جنسی درندے بن جاتے ہیں ،انہیں دیکھتے ہی اخلاقی اصولوں کو پامال کرنا شروع کرتے ہیں ۔  ۔۔ ذرا خود بتائیں  کیا یہ کوئی معقول جواز ہے ؟

یہی چیزیں اہل مغرب و مشرق کے اہل خرد، اور دانشمند انسان استعمال کر کے سیاروں کو تسخیر کرتے ہیں ، یہی موبائل رشتوں کو مضبوط و مستحکام کرتا ہے اور خاندان کے حال و احوال سے باخبر رکھتا ہے ، یہی ٹی وی دنیا کے ایک کونے کو دوسرے کونے کے لوگوں کا ساتھ جوڑے رکھتا ہے ، ان پر تہذیب و تمدن  کی نئی جہتے عیان کرتا ہے ، مگر مسلم معاشرے ان سائنسی ایجادات  کو کیوں وبال جان سمجھتے ہیں اورپھر  ایسا بھِی نہیں کہ ان کو استعمال کرتے نہ ہوں ۔

برائی ، اخلاقی اقدار کا انحاط ، انسانیت سوز اور اندوھناک واقعات  کا جڑ سائینسی ایجادات ہر گزنہیں ۔ اس کا زمہ وہ علماء ہیں ، جو اسلام کو چودہ سو سال پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں ، جو معاشرے کو جدید علم سے دور رکھتے ہیں، جو معاشرے کو غیرمنطقی باتوں میں الجھا کر حقیت سے ناآشنا رکھتے ہیں ۔آج شہر گلگت مسلک کی بنیادوں پر بٹا ہوا ہے ۔ شیعہ ، سنی ، اور اسماعیلی محلے الگ الگ ، ان کے آنے جانے کے راستے الگ الگ ، ان کفن دفن کے جگہیں الگ الگ ، یہاں تک کہ کھیل کود کےمیدان بھی الگ الگ ، ہمارے سماجی ، معاشی و معاشرتی میل جول بھی الگ الگ، تعلیم و تدریس کے مراکز بھی الگ الگ ، ایسے حالات میں کیا یم معاشرے سے معنی خیز، شرافت پسند، رجائیت پسند، اور امن پسند نسل کی افزایش کا کیسے امید رکھ سکتے ہیں ؟۔ ، آج  معاشرے میں  غیر یقینی حالات ، غیر اخلاقی کام ، نفسانفسی ، نفرت، قتل و غارت ، جھوٹ ، ناانصافی  وغیرہ جیسے حالات نے معاشرے کو گھیر لیا ہے تو اسکا زمہ دار علماء ہیں ۔ تمام مسالک کے علماء ہیں جو اس معاشرے کی روحانی پرورش میں ناکام ہو چکے ہیں ، جو معاشرے کی  کردار سازی میں ناکام ہوچکے ہیں ، آج اگر کوئی ملزم ہے، آج اگر کوئی قاتل ہے ، آج اگر کوئی جھوٹَا ہے، آج اگر کوئی چور ہے ، اج اگر کوئی عصمت فروش ہے، آج اگر کوئی رشوت خور ہے تو یہ سب علماء کے کندھوں پر آتا ہے کہ وہ  خاموش ہیں ، میرے نزدیک ان ملزموں کا بھی حساب ہونا چاہیے ، انہیں خود بھی احساس ہونا چاہیے کہ وہ  جس منسب پر بیٹھے ہیں اس کا حق ادا کرے اور معاشرے میں ہم آہنگی ، انسان دوستی کا فضا قائم کرے ۔

اس کا ذمہ دار وہ والدین ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت میں کوتاہی برتتے ہیں ۔ اس میں ماں سے زیادہ باپ کا وہ رول ہے جو کہ ہمارے معاشرے عموما پایا جاتا ہے کہ وہ گھر میں اپنے اولاد کے ساتھ ایک حکم کی طرح پیش آتا ہے ۔جسکی وجہ سے بچے اپنے والد سے اپنے مسائل کو نہ شیئر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسکا اظہار کر سکتے ہیں ۔ یہ معاشرے میں بڑھنے والے تمام برائیوں کا دوسرا ملزم ہے جو اپنا کردار سے غافل ہے ، باپ کا کام صرف اولاد کو روٹی کپڑا مہیا کرنا ہرگز نہیں۔ اسکا کام اولاد کی جسمانی ، روحانی و عقلانی پرورش میں ماں اور استاتذہ کا ساتھ دینا بھی ہے، پاب کا کام بچوں کی تعمیرِ شخصیت اور تشکیلِ کردار پر مکمل توجہ دینا بھی ہے ۔اگر آج ہماری نئی نسل گمراہ کن راستے پر ہے تو وہ باپ کی اپنے کردار سے غفلت ہے تو یہ دوسرا ملزم ہے

اسکا زمہ دار وہ درسگاہیں ، وہ مدارس وہ اسکولز ہیں جہاں ان بچوں کی نہ روحانی پرورش ہوتی ہے اور نہ ہی جسمانی ۔ ہم ان اسکولوں کو مغرب پسند کہلاتے ہیں جہاں تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ غیر تعلیمی سرگرمیاں یعنی کھیل کود پر توجہ دی جاتی ہیں۔یہ درسگاہیں اور ایسے استاتذہ جو اپنے کردار سے غافل ہیں وہ تیسرا ملزم ہیں ۔  معاشرے میں اساتذہ کا کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا  ماں باپ بچہ کو صرف جنم دیتے ہیں لیکن استاد ہی ہے جو  انہیں علم کے سمندر میں ایسی تیراکی سکھاتے ہیں کہ بچہ ہر طوفان کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتے ہیں۔ نئی نسل کی دماغ کو وسعت دیتے ہیں ان میں نئی سوچ پیدا کرتے ہیں اور منزل دکھاتے ہیں اسکے ساتھ ساتھ منزل کو حاصل کرنے کے لئے سہی راستے پر چلاتے ہیں ان میں سہی اور غلط کی پہچان کرواتے ہیں۔ جدید علوم سے انہیں آراستہ کرتے ہیں ۔ انکی روحانی و عقلانی پرورش کرتے ہیں ۔ ان کے ضمیر میں محبت، علم ، دوستی، اور سکون کی شمع جلاتے ہیں مگر جس معاشرے میں اساتذہ کی تقروری  مسلکی بنیادوں  پرہو ۔ رشوت دے کر ہو تو یہ  کیا خاک روحانی و عقلانی پرورش کرے گا ۔ہمارے معاشرے کا یہ تیسرا ملزم ہے اس سے بھی حساب لینے کی ضرورت ہے ۔

اس بیمار قوم  کو جاگانے کے لئے ، اس غلیظ معاشرے سے نکلنے کیلئے ،  ان تین ملزموں یعنی علماء۔ والدین ، اوراساتذہ کو  سداھرنا لازمی ہے ، وارنہ ہم تاریک سمندر میں ڈھوپتے جائِنگے ۔ کوئی ہمیں بچانے نہیں آئے گا،  پڑھے لکھے نوجوانوں کی ذمہ داری  ہے کہ وہ ہر ناانصافی کے خلاف بہاردی سے وعقلمندی سے آواز اٹھائیں ۔ معاشرے کی کردار سازی میں اپنا کراد ادا کرئے ، رنگ ونسل، مسلک و فکر ، علاقہ پرستی سے نکل کر انسانیت میں گل مل جائے ، حکومت کی زمہ داری ہے وہ ملزموں کو سزا دے ، نوجوانوں کے لئے صحت مندانہ تقریبات کا آغاز کرئے ، حسنین نے ہمیں  جاگایا ہے اس بیمار قوم کو جنجھوڈا ہے ۔ اس معاشرے کا عکس ہمیں دیکھایا ہے ۔ اس کی قربانی کو رائے گان مت جانے دے ، ورنہ ہم سب ملزم ہیں ، حشر میں ہم سے ان تمام بے گناہ
لوگوں کا ہماری خاموشی پر سوال ہو گا ۔۔ ۔ اٹھائے اور معاشرے کی پر امن و انسانیت پسند تشکیل میں اپنا کردار ادا کرئے   ،

PT

ٹکراو


ٹکراو سوچ کا ہو یا انسانی فکر کا ، ٹکراوشخصیت کا ہو یا کردار کا، ٹکراو ثقافتوں کے درمیان ہو یا رہن سہن کا، ٹکراو جہاں کہیں بھی ہو چاہیے ہو  افراد میں ہویا انفرادی ،۔معاشرے کے کسی بھی حصے میں ہو، مذاہیب کے درمیان ہو یا نظریات کے درمیان، ٹکراو شخصی ہو یا اجتماعی ۔ ٹکراو کسی بھی صورت میں یو، جہاں کہیں بھی ہو اس کا ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت۔ کم علمی، ناخوانگی ، نادانی۔

انسان اپنی شخصیت میں ایک گہری تالاب کے مانند ہے،اور جب کوئی اس تالاب میں فکر،سوچ، فلسفہ،احساس، یا جذبات کا کوئی چھوٹاسا کنکر ہی کیوں نہ ڈالے ، انسانی ذیست کے اس تالاب میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس سے لہریں پیدا ہوتی ہیں اور جب یہ لہریں مخالف سمت سے آنے والی سخت لہروں سے یا کسی ٹھوس شے ٹکر یا مل جاتی ہیں تو ٹکراو پیدا ہوتا ہے ۔ جس میں نہ صرف پانی کا یہ لہر ٹوٹ کر بکھر جاتا بلکہ سامنا کرنے والا وہ سخت چٹان بھی سنگلاخ ، قبیح اور نوکیلے دار ہو جاتا ہے، اور جب ٹکراو میں  شدت آجاتا ہے تو ساری ماحول وحشت طاری ہو جاتا ہیں،

انسانی ذات میں  پیدا ہونے والی لہروں کا بھی حال یہی ہے ۔جو ہمیشہ مد و جزر کی کیفیت میں ہوتی ہیں،مگر بن نوع و انسان کا ان لہروں پر فطری اختیار حاصل ہے ، کہ وہ علم کی طاقت سے عقل کو وہ فہم و ضاء بخشتا ہے جس سے نہ صرف ان لہروں کو مدہم کر سکتا ہے بلکہ انہیں مکمل اپنی ذات، ضمیز اور اپنی ضرف کے اندر فنا بھی کر سکتا ہے۔  اور ایک وسیع و پر سکون  سمندر کی مانند زندگی ، رہن سہن اور فکرکو مسرور کن بنا سکتا ہے ۔جسطرح  سمندر کے کھلے ساحل آنے والی تمام موجوں اور لہروں کو اپنی باہوں میں پھیلا کر موتیاں پاتا اسی طرح ہمیں بھی ہر فکری، شخصی، یعنی اختلاف کی ہر لہر کو اپنی وجود یا فکر میں سمونے کی طاقت پیدا کرنا چاہیےانسانی معاشرے میں پیدا ہونے والے گوناگوں  لہروں میں موتیاں ہیں ان میں زندگی کے اثار ہیں جسطرح ان کھلے ساحلوں پر آنے والی ہر لہراپنے ساتھ مچھلیاں لے آتی ہیں ۔اور اگر ہم ان لہروں کے آگے انا کی چٹان ، لا علمی اور جہالت کی دیوار بنے رہنگے تو ٹکراو پیدا ہوگا اور یہ ٹکراو دونوں اطراف کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس ٹکراو کے نتیجے میں چٹان قبیح اور بدنما نظر آئےگا ، زندگی کے اثار ختم ہونگے ، شور و غل ، بے چینی، بددلی،مایوسی، اچپلاہٹ۔اضطراب،بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی،  بربریت جیسے غیر یقنی کفتیات پیدا ہونگے۔ بہتر یہی ہے کہ  ہم اس گوناگونی میں ڈھل جائے ۔

۔قدرت نے اس کائنات میں ایسے ان گنت مثالیں تخلیق کی ہیں جسے  بن نوع انسان عقل و خرد کے ذریعے تسخیر کر کےذندگی کو پر سکون اور راحت بخش بنا سکتا ہے۔اگر ہم فطری نظام پر غوروخو ض کرئینگے تناو و ٹکراو سے دور رہینگے علم سے دل و دماغ کو روشن کرنینگے تو دل مطمئن اور ذھن پر سکون ہو گا، گھبراہٹ کی ساری پر چھائیاں اور ظلمتیں کافور ہونگے، پریشان کن خیالات کی آندھیاں يكدم تھم جاینگے، چہرے پر اطمینان بخش مسرت کی لہر دوڑے گی، یقین و اعتماد، عزم و ثبات، محبت و یگانگت ، کی فضا قائم ہوگی ۔

آج انسان نے مذہب وملت ، علاقہ پرستی، زبان، سیاست، پسند و ناپسند ، رنگ و نسل کی آڑ میں جہالت اور جھوٹ کی بہت ساری تہیں اپنے اوپر جمائے ہوئے ہے جہالت کے ان تہوں کے اندر قید انسان کو علم و دانش کے ذریعے آذاد ہونا پڑے گا اور یہ آزادی ہمیں ٹکراو سے محفوظ رکھے گا۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ٹکراو سے باز رہیے ۔اختلاف رائے کو باعث تحقیق و تخلیق کا ذریعہ بنائے ۔ اسانیت کا پرچار کرئے ۔ انسانی اقدار کو پروان چڑھائے ۔ ۔

اہل گلگت و بلتستان کو کن جنات سے ڈرنے کی ضرورت ہے؟

پچھلے دو دنوں سے گلگت بلتستان کے پرنٹ اور سوشل میڈیا میں جنات کی آمد اور انکی سرگرمیوں کی تفاصیل شائع ہو رہی ہیں. لوگ مزے لے لے کر اس خبر کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں. مجھےشک ہے کہ اس خبر کو پھیلانے کے پیچھے بابا جان اور انکے ساتھیوں کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنے والوں کی آواز دبانا اور لوگوں کی توجہ اس اہم مسلے سے ہٹانے کی سازش ہے. یہ ایک ترکیب لگتی ہے، جس میں جانے یہ انجانے میں بہت سارے لوگ شامل ہورہے ہیں. مجھے یقین ہے کہ اہل دانش جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب اتنے بھی سادہ نہیں رہے کہ انہیں جن بھوت سے ڈرا کر لوگ  اپنے مذموم اہداف حاصل کرسکیں ۔

یہ مذہبی علماء اور علاقے کے دانشمند لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی جھوٹی باتوں کو مسترد کریں، لوگوں کو تاریکی و جہالت کی طرف لے جانے کی بجائے روشنی کی طرف لے آئیں ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کئی دہائیوں تک علم کی روشنی سے دور رکھا گیا مگر علم کی روشنی کو وہ لوگ روک نہیں سکے ۔ دنیا سیاروں کو تسخیر کرنے میں مگن ہے اور ہمیں جن بھوت اور دیو مالاوں کی کہانیوں میں الجھایا جا رہا ہے۔ معاشرے میں ایسے تمام سوچ کے حامل لوگوں کو راہ دکھانے کی ضرورت ہے ۔

اگر ہم نظریہ جن بھوت کا سائنسی تجزیہ کریں تو  ایک فرانسیسی ماہر طب ایلیگزینڈر جیکویس کے مطابق  جنات  کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے اس نے  خطائے حس کا نام دیا ہے.  مطلب یہ کہ جب  انسان کی کوئی ایک یا تمام حسیں کسی بھی بیرونی یا اندرونی وجہ سے  خطا یا غلطیاں کرتی ہیں یا  اپنا کام ،  فعل درست نہیں ادا کرپاتیں۔ تو تب  بنا کسی بیرونی محرک کے  دماغ میں اس محرک (مثلا آواز یا بو  ڈھول ، گیت ،گانا ، وغیرہ) کا احساس اجاگر ہوجاتا ہے، جیسے غیرموجود کو دیکھنا ، کسی کے بولے بغیر ہی آواز و گفتار کو سننا ، کسی بو کے نہ ہونے کے باوجود اس بو کو سونگھناوغیرہ وغیرہ۔ یہ سب دماغ و اعصاب میں مختلف اقسام کے نقص defect  کی بنا پر ہوتا ہے اور اس کو نفسیات میں ایک شدید ذہنی کیفیت یا مرض کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔

سائنس کے نزدیک یہ انسانی  وہم ہے مثال کے طور پر بادل میں محبوب کی شکل نظر آنا۔ یا بادل پر گھوڈا سوار کا نظر آنا ۔۔  چاند پراہم مذہبی شخصیات کی شکلیں نمودار ہونا اور حد تو یہ ہے کہ بعض  لوگوں کو بے نظیر بھٹو صاحبہ  اور اپنے اپنے پسندیدہ سیاسی رہنمنا بھی ںظر آتے ہیں روٹی اور آلو وغیرہ پر مقدس ناموں کا نظر آنا۔ اسی طرح  یہی ذہنی وہم مرضی کے بھوت پریت تراش  کر اپنے ہی ذہن کو پیش کرتا ہے۔  اور معاشرے کے کئی طبقے اسے مذہب کی آڑ میں تشریحات کرنا شروع کرتے ہیں یا کوئی قدرتی معجزہ یا امتحان سمجھ کر  نذر و نیاز کرتے ہیں ۔

پس ماندہ معاشروں میں جن بھوت کی کہنانیاں تو عام ہی ہیں مگر تاریخ میں ایسی من گھڑت کہانیاں حکومت وقت یا باشاہوں نے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے بھی  بنائی ہیں۔ اور آج جو ویت نام کے غیر مسلم جن گلگت پہنچنے کی خبر کو میڈیا میں پھیلایا گیا ہے اس کے پیچھے بھی مجھے کسی خاص محرک اور مقصد کا احساس ہو رہا ہے ۔ خیر ویت نام کے غیر مسلم مبینہ جنات سے ہمیں اتنا خوف و خطر نہیں جتنا ان انسان نما جنوں سے ہیں جو ظلم اوربربریت کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل اور اصل خبروں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں.

PT

احترام دل سے نہ ہو تو دیوار ہے

جس گھر میں، جس گروہ میں، دوستوں میں ، اداروں میں، آفس میں ، معاشرے میں زندگی کے ہر ہر شعبے میں چاہے وہ نجی ہو یا اجتماعی جہاں کہیں بھی ہو اگر ویاں کوئی محترم بنا چاہے تو سمجھ لینا کہ وہاں محترم اور احترام کرنے والے کے بیچ ایک دیوار کھڑی ہونا شروع ہوا، اور یہ attitude دلوں کے اندر خلا پیدا کرتی ہے قرب ، نزدیکی، محبت ، دوستی، اپنائیت ، اور دلی رشتوں  کی جڑوں کو نہ صرف کھوکلا کرتی ہیں بلکہ ان خوبصورت جذبوں کو نفرت، دوری،خاموشی،اور سنجیدگی میں تبدیل کر دیتی ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دلی جذبوں کو دیمک کھا جاتی ہے ،اور انہیں ایک دوسرے کے لئے اجنبی بنا دیتی ہے

ایسی کئی مثالیں آپ کے سامنے ہونگے مثال کے طور گھر میں وہ پیار ،اخلاص، اپناپن، ایک روحانی قربت جو والدہ سے ہوتی ہے وہ والد محترم سے نہیں ہوتا اس کی ایک اہم وجہ شاید والد کا وہ سخت مزاج  ہو جس سے بچے بچپن خفا، یا ایک ڈر کا عںصر پایا جاتا ہے یعنی بچے بچپن ہی سے والد کا احترام کو ایک قانون یا اصول سمجھتے ہیں جس سے روگردانی کی صورت میں والد کی عدالت میں پیشی اور سزا ہے ۔ اسلئے بچے والد سے کھل کے نہ کچھ شئیر کرتے ہپں نہ کھل کےان سامنے  بیٹھ پاتے ہیں۔  اور نہ ہی اپنے جذبات کا اظہار کھل کر پاتے ہیں جب کہ والدہ کی دھیما اور نرم لہجہ اولاد کو حقیقی محبت کی بندھن سے  باندھ دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں والد کو گھر کا سربراہ یا حکمران شمار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کا والد کی طرف روایہ قدر مختلف ہوتا ہے۔

اسی طرح آپ لوگوں نے یقینا محسوس کیا ہوگا کہ ایسے ادارے جہاں کام کرنے والے ایک دوسرے پر محترم ٹہرنے کی کوشش کرتے ہیں وہاں نہ دوستانہ ماحول پیدا ہوتا ہے اور نہ وہ ادارہ لچک دار ہوتا ہے، ہماری ملک میں گورنمنٹ ادارے اس کی ایک مثال ہے ۔۔ جن اداروں میں لوگ اپنے ماتحت subordinates کے ساتھ سخت روایہ رکھتے ہیں ان اداروں میں لوگوں کا دل کام سے بہت جلد اکتا جاتا ہے اوراداروں  کے ملازمین ایسے اداروں سے صرف کام کی حد تک منسلک ہوتے ہیں۔ان کا  اس ادارے سے کوئی دلی یا جذباتی تعلق نہیں ہوتا ۔ جبکہ وہ ادارے جہاں افراد کی اہمیت ہوتی ہے جہاں انسانی قدریں مشترک ہو، جہاں اصول یکساں ہو، جہاں انفرادی فرد کی ذات، سوچ و خیال، کی پزیرائی ہو وہاں نہ صرف دوستانہ ماحول ہوتا ہے بلکہ وہ ادارے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، ان اداروں سے ایک مظبوط رشتہ قائم ہوتا ہے، وہاں ایک دوسرے کے لئے نیک اور پر خلوص جذبات ابھرتے ہیں ۔ وہاں کام کرنے والے مطمعن اور خوش ہوتے ہیں ،

بلکل اسی طرح زندگی کے تمام تر شعبوں میں ، رشتوں میں یہی ہوتا ہے دوستو میں جب کوئی اپنے آپ کو فوقیت دینے لگتا ہے ، یا ذات پات جیسے عنصر آجاتے ہیں ، خود نمائی، خود غرضی آجاتا ہے تو پھر دوستی میں دراڈھے پھوتٹنے لگتے ہیں۔ دوستی میں سرد مہری پیدا ہوتی ہے ، اور پھر خاموشی سے یہ رشتے گمنام ہو جاتے ہیں ۔

 تو جناب انا، خود نمائی ، محترم، عزت معآب وغیرہ بنے کی کوشش رشتوں میں دیوار حائل کرنے کا مٰترادف ہے ، ہمیں کھل کی جینے کی ضررت ہے،  حقیقی عزت اور محبت کرائی نہیں جاتی بلکہ ہو ہو جاتی ہے، جسطرح پھول کی خاموشی ، رنگ اور  خوشبو بلبل  کی زبان پر ترانے لے آتی ہے، جسطرح چراغ اپنی ضمیر کی روشنی سے پروانے کو اپنے کیھچ لے آتی ہے  ۔ ۔  لگتے ہیں۔ دوستی میں سرد مہری پیدا ہوتی ہے ، اور پھر خاموشی سے یہ رشتے گمنام ہو جاتے ہیں ۔

PT