GB Folks ستمگار اور

آج کراچی رنگون کمیونٹی سینٹر میں معروف شاعر جناب ظفر وقار تاج کی البم ستمگار کی تقریب رونمائی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جی بی فلوکس نے کراچی میں مقیم نہ صرف اہل شینا زبان کو بلکہ گلگت بلتستان سے محبت کرنے والے تمام اہل زبان و فکر کو یکجا کیا جس کے لیے جناب جہاں زیب ، اسرار الدین اسرار اور انکی ٹیم مبارک باد کے مسحق ہیں ۔  

اس بات سے کسے انکار کہ ادب ، شاعری ، موسیقی کسی بھی معاشرے کی تہذیب و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں معاشرہ اگر جسم ہے تو اس میں پنہاں اداب اس کی روح ہے ۔ جس معاشرے کا ادب جتنا رنگین و ترقی پسند ہوتا ہے  اتنا ہی وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ادب زندگی اور معاشرے کو مردہ نہیں ہونے دیتا وہ خود متحرک رہتا ہے اور افراد میں تحرک پیدا کرتا رہتا ہے۔  طفر وقارتاج نے جو روح شینا زبان میں پھونکی ہے اس سے نہ صرف شینا ادب متحرک ہوا ہے بلکہ ایک تحریک نے بھی جنم لی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔  سر زمین گگلت بلتستان جتنا حسین ہے اتنا ہی میٹھا اور شرین انکی زبانیں بروششسکی ، وخی ، شینا، بلتی اورکھوارہیں جتنا بلند پہاڑ اور شفاف پانی کی جھرنے ہیں اتنا ہی بلند کردار اور شفاف ضمیر کے لوگ بھی ہیں ۔ اس حسین منظر کو یہاں کی موسیقی و شاعری اور حسین بنا دیتی ہے۔ اور اس زبان میں نکھار بھرنے والے یہاں کے شعراء ہیں ،

جو امن کا خواب گلگت بلتستان کے شعراء، ادیب و دانشوروں نے دیکھا ہیں وہ آج عملی طور نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ اس تحریک کوGB Folks استحکام دینے کے لیے ہم سب کو مل کام کرنا ہوگا ، جہاں ذیب اوراسرارالدین اسرار اور دوسرے روفقاء نے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے انسان کی بہتری‘ خوشحالی‘ ترقی و ترویج کے لئے شاعروں و ادیبوں نے انسانی معاشرے کو کسی لگے بندھے سانچے میں اسیر ہونے کی بجائے نئی راہیں دکھائی ہیں۔ یہ راہیں‘ نئی صبحوں اور ارتقاء کی راہیں ہیں۔ ان ہی  تحریکوں کی فکری راہنمائی نے ہی اجتماعی تہذیب کا روپ دھارا ہے۔ تعلیم و تربیت کے سانچے میں ڈھلنے کے بعد ترقی کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں‘ اور ان راہوں پر قدم سے قدم ملا کر چلنے سے ایک نئی اور جدید تہذیب تشکیل پاتی ہے گلگت بلتستان کے ادبی دانشور اور شعراء اسے خوب نبا رہیے ہیں ۔

گو کہ مجھے شینا زبان نہیں آتی مگر ایک چیز جو میں نے ظفر وقار تاج کی شاعری میں  لوگوں کی روایوں و احساسات کے زریعے محسوس کیا ہے وہ لوگوں کی شدت پسندانہ رویوں میں آنے والی ترقی پسند لچک کو دیکھا ہےاگر گلگت بلتستان کے شعراء اور ادیبوں کی علمی کاشوں کو اسی طرح سامنا لاجا ئے تو بعید نہیں کہ آج جس طرح عالمگیر رنگا رنگی کو سچائی‘ انصاف اور حقیقت کا روپ دے کر پیش کیا ہمشہ کے لیے امر ہوجائے۔

مجھے امید ہے کہ gbfolks ہماری زبان و ثقافت کی ترویج ۔ ہم آہنگی اور ترقی کے لیے اس طرح کے مزیذ پرگرامز کا انعقاد کرے گی ۔