بروششکی غزل ۔ انتظار اتی

بروششکی زبان کا پہلا غزل گو، نوجوان نسل کا ہر دلعزیز شاعر غلام ٰعبابس حسن آبادی کی شاعری میں جہاں رومانیت ہے وہاں انسانی تجربات سے حاصل سبق آموز خوبصورت پرائے میں تحریراشعار بھی موجود ہیں ۔ شاعری کے ذریعے بروشسکی اداب کوایک نیا ذہن، تخیل کی ایک نئی جہت ، اور زبان کی شگفتگی،مٹھاس اور لطافت کو بروشو قوم پر عیان کیا۔ انکے اشعارجب مدھر سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں، تودھڑکنوں کی رفتار اور دل کا موسم بھی تبدیل ہوجاتا ہے.غلام عباس مرحوم کو ہم سے بچھڑے کئی برس بیت گئے لیکن اس کے مداحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انکی شاعری میں وصل جاناں کی لطافتيں اور غم دوراں کی تلخياں ساتھ ساتھ نظر آتی ہيں،
ان کی اس غزل کو ذرا پڑھیے اور سنیَے کہ کس خوبصورتی و مہارت کے ساتھ اور نہایت دھیمے لہجے میں مثبت سوچ ، صبر، خود اعتمادی اور جہد مسلسل تلقین کی ہے

انتظار اتی شاعر عباس حسن آبادی

Sabur ay yaray wafadaray intizar ati
Gosay qarar xuzhi qararay intizar ati.
صبر اے یارے وفادارے انتظار اتی
گوسے قرار زوچی قرارے انتظار اتی

ترجمہ
استاد عباس اس شعر میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہے کہ ، صبر کر ،ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر ، نالہ کناں مت ہو اور وفادار محبوب جاں کا انتظار کر ۔ دل مضطر کو قرار آئے گا، عجلت نہ کر، جلد باز نہ بن اور قَرارِ جاں کا انتظار کر

Zindagi Zuwar Bila Hamisha Berga lo huru
Dunya Balas bila Guyar e Intizar Eti
زندگی جور بلا ہمیشہ برگہ لو ہورو
دنیا بَلاس بلا گویار انتظار اتی
ترجمہ
زندگی جہد مسلسل ہے جنگ ہے تو ہمیشہ کمربستہ ہو کر دلیری کیساتھ میدان جنگ رہ۔ یہ دنیا ایک نہ ایک دن ترے زیر تسلط آ ہی جائے گا ۔اتنظار کر۔

Datu e Khainy Humol Shalas Nesal Uny Gos Ayeer
Fir Juwas Bila Baha e Intizaar Eti

داتوے کھینے حمول شلاس نسل انے گوس ایر
پھری زواس بلا بہار انتظار اتی

ترجمہ
۔موسم خزان میں پت جھڑ دیکھ کر مایوس نہ ہو ۔پھر سے بہار آنےوالا ہے انتظار کر

Un ar akuman ghama e zahar e jiztay duni kuli
But chor da yashuma shuryaray intizar ati.

ان ار اکومن غم ذہر جی ذے دونی کلی
بٹ ذور دا یشوما شریارے انتظار اتی

ترجمہ
اے میرے محبوب اگر غم جاناں یا غم دوراں کا ذہر تمہیں حد درجے تک ستائے بھی تو مت ڈرنا۔،ہمت نہ ہارنا کیونکہ بہت جلد خوشحالی و خوش اقبالی کا زمانہ آنے والا ہے انتظار کر

“>Intizar Eti

 

Advertisements

زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا

 زندگی کے آغاز کے بارے میں جدید ترین سائنس پر یہ تفصیلی مضمون بی بی سی کی ویب سائٹ پر سنہ 2016 میں شائع ہوا تھا اس مضمون میں عام قارئین کے لیے عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے  اگر آپ تصورآفرنیش کا سائنسی نقطہ نگاہ دیکھنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل عنوان پر کلک  کریں

زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا

آذادی اظہار رائے پہ قدغن کیوں

آذادی اظہار رائے پہ قدغن نہ صرف معاشرے کو ذوال کی طرف دھکیلنے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ جہالت ، عقلی و فکری انحطاط کا پیش خیمہ بھی ہے ۔ اگر غلامی کی تاریخ کا جائزہ لے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے سامراجی قوتیں اور اشرفیہ  ظلم و جبر سے جسم انسانی کو تو قید کر سکتے ہیں مگر فکر، سوچ، ترقی، جستجو،  تلاش اورمنظق کو کبھِی قابو میں نہیں رکھ سکتے،عقل کی بینائی کو ظلم و جبر کبھی بھی دبوچ نہیں سکتا۔ عقل روشنی ہے اور روشنی آخر غالب آ جاتی ہے
اہل مغرب کا مذہبی لبادہ اوڈھے افریقہ پر اقتصادی تسلط کی کوشش اور اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں، حبشی غلاموں کی آواز کو اشرفیہ کبھی خاموش نہیں کر سکے ۔سائنسدانوں کو زندان میں ڈالنے والےاور دقیانوسی کو رد کرنے والوں پر ظلم تو ڈاھے گے مگر آج ظالم بے نام و نشان اور خرد مند سرخرو ہے  ، اور کئی ایسی مثالیں تاریخ کی اوراق میں محفوظ ہیں ،ہمیں انکی نقش قدم پر چلنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ایک انسانیت پرست معاشرے کی حصول کے لیے ہمیں سنجیدگی سے عقلی بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے9753846_67b1c06497_o
عقلی استدلال ، منطق اور فکر نو کی حوصلہ شکنی سے آج ہمارا معاشرہ ایک بد بودار جوہڑ کا روپ دھارچکا ہے۔ جہاں انسان تسخیر کائنات میں سیاروں پر قدم جما چکا ہے وہاں اس معاشرے کا غلیظ انسان نما جانور نفسانی خواہشات کی تکمیل  کے لئے مردہ خوری اور قبروں میں  گھسا ہوا ہے ۔ دنیا نئی علم کی کھوج میں ہے اور ہم تاریخ کی گھپاوں میں دست و گریبان ہیں۔ انسان فطرت آزاد پیدا ہوا ہے مگر اس معاشرے میں ہر کہیں پا زنجیر ہے ۔ عقلی و فکری، سماجی و معاشرتی قیود نے انسان کی حقیقی شخصیت کو فنا کر دیا ہے ۔
یہ آذادی اظہار رائے ہی کی مرہون منت ہے کہ انسان نے اپنی خواب و خیال کا اظہار کر کے ذریعے ترقی کے بام عروج پر پہنچا ہے اور اگر  آذادی اظہار رائے اور فکری آذادی کو پابند سلاسل کرنے کوشش کرتے رہنے گے تو معاشرہ مزید زَبُوں حالی کا شکار ہو گا ۔  محبت نفرت میں بدلے گا ، معاشرہ  معاشرہ فساد و بگاڑ کی آماج گاہ بن جائَے گا۔

مرغیوں کے بہکاوے میں مت آئیں

یہ کہانی آپ نے ضرور سنا یا پڑھا ہو گا کہ ایک مرتبہ ایک کسان نے عقاب کے انڈے کو اپنے فارم میں لے آیا اور اسے اپنی مرغیوں میں سے ایک کے ڈربے میں رکھ دیا ۔ ایک دن اس انڈے میں سے ایک پیارا سا ننھا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ وہ زندگی بھر اپنے آقا کا دیا ہوا دانہ دنکا چگتا رہا اور پوری زندگی اس صحن کی مٹی میں لٹ پٹ ہو کر کیڑے مکوڑے کھاتا رہا۔

ایک دن باقی مرغیوں کےساتھ کھیلتے ہوئے اس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اڑتے دیکھے۔اور حسرت سے ایک آہ بھری اور خود  سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’کاش میں بھی ایک عقاب پیدا ہوا ہوتا اور آسمان کی ان بلندیوں کا پرواز کرتا ۔  جب اس  خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں پر عیان ہوا  تو انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا تم ایک مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اڑنا نہیں۔تم ایک پالتو حقیر پرندہ ہو، تمہارا کام آقا کا دیا ہوا سستا اناج کھانا اور انڈے دینا ہے ۔ یو ں اگر باغیانہ روش اختیار کرو گے تو نہ  صرف تم لقمہ اجل بنو گے بلکہ ساتھ ساتھ ہمیں بھی زندان نما پنجرے کی صحبتیں سہنے پڑئنگے۔ یہ سن کر اس عقاب نے اڑنے کی حسرت دل میں دبائے مرغیوں کی طرح جیتا رہا، راہ چلتے جس کسی نے بھی خیرات میں جو دانہ ڈالا چگتے اپنی حسرتوں پہ روتا رہا  اور ایک  دن ہوا یوں کہ ایک دانا و بینا شخص کا یہاں سے گزر ہوا ۔ دیکھتا کیا ہے  کہ ایک شاہین مرغیوں کے ساتھ اپنی شناخت بھولے دانے چگ رہا ہے ۔ دانا شخص اس عقاب سے گویا ہوا ۔

آخر تمہیں ہوا کیا ہے تم ایک عقاب ہو،تمہارے اندر خدا نے پرواز کی صلاحیت رکھا ہے ،تم  سمندر میں غوطہ مارنے کی صلاحیت رکھتے ہو، تمہارا خوراک تمہاری محنت و خون پسینے کا حاصل تازہ غذا ہے اور تم پرندوں کا بادشاہ ہو۔ تم ایک آذاد مخلوق ہو جسکا نشیمن بلند و بالا پہاڈوں کی چوٹیاں ہے ، تم کہاں ان مرغیوں کی باتوں آئَے ہو،  چل میں تجھے پہاڈ کی چوٹی پر لےجاتا ہوں جہاں تیرے آباواجداد کا نشمین ہے۔ تجھے اس پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دو گا اگر تو ڈر گیا تو زمین سے ٹکرا کر مر جاوگے اور اگر ہمت کی توبادِ مخالف تجھے آسمان کی بلندیوں میں لے جائے گا۔تجھے تیرا کھویا ہوا شناخت مل جائَے گا۔

عقاب یہ باتیں سن کر پہلے تو ڈر سا گیا کہ کہیں دوسرے مرغیوں کو پتہ چلے تو وہ اسکا شکایت کہیں اس ظالم کسان سے نہ کرئے جو اسے زندان میں ڈال کر ظلم کی انتہا کرے گا۔ مگر عقابی روح جو ایک بار اس میں بیدار ہوئی تو کہاں کا ڈر اور کس کا ڈر، اور اس دانا، ںڈر و بہادر آدمی کے ساتھ چل دیا، اس عقلمند انسان نے اسے پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دیا، عقاب تیزی سے زمین کی طرف گرنے لگی لیکن جونہی اپنے پر کھول دیَے آسمان کی بلندی کی طرف اڈان بھرنے لگی ۔

اگر دیکھا جائے تو ہماری قوم کا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے قدرت نے جس احسن تقویم پر انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ انسان اس معاشرےمیں کہیں ڈونڈھنے سے بھی نہیں ملتا۔ نہ جانے اس  سیدھی قامت اور دو ٹانگوں سے چلنے والی اس مخلوق کو کس قسم کے رائلر مرغی کے زیر سایہ پرورش  ملی ہے کہ جس کے ہاتھ سے علم کی دریا بہتی تھی۔ جس کے پیر ہزاروں میل کا راستہ چل کر بھی نہیں تھکتے تھے۔ جس کے خیال اور ہمت ایسی کہ وہ  بادلوں سے اوپر سیاروں تک کو تسخر کرنے کی جستجو میں رہتے۔اسکی تیراکی ایسی  کہ سمندری مخلوق  دھنگ رہ جاتے۔ اس کی آنکھیں ایسی کہ غیب کی رازوں کو نمایاں کرئے اورانکے کان ایسے ستاروں پر پہنچے انسانوں سے ہم کلام ہو جائَے ۔کبھِی پہاڑوں کے اندر سرنگیں بنائے تو کبھی آبشاروں کو ہوا میں معلق کر دے۔ کبھی سمندروں کا رخ موڈے تو کبھی ریگستانوں کو سیراب کرے ، وہ انسان آج مرغیوں کی طرح سبسڈی گندم کھانے پہ مجبور ہے  وہ انسان آج بنیادی انسانی حقوق سے محروم اپنی ہی صحن سے  آسمان پر ان ہی جیسے انسانوں کی اڈان دیکھ کر خواہشوں کی آگ میں جلنے ہر مجبور ہے ۔ وہ انسان آج خوف و ہراس میں مبتلا سہما ہوا ہے۔ ایک دنیا جہاں انسان تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہے وہاں اس معاشرے کا انسان ذہنی غلامی کے اشکنجےمیں جھکڑا ہوا ہے۔ اس معاشرے  کی ذہن سازی بھی انہی مرغیوں کی طرح ہوئی ہے جو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ایک جرم سمجھتے ہیں، انہیں دانہ چکنا سکھایا گیا ہے۔انکی شناخت کو مسخ کر کے انہیں فارمی مرغی بنا دیا گیا ہے۔

تو ایسا میں کیا کیا جائَے ؟ایسے میں ایک ایسا باہمت ، ںڈر ، بے باک ، بہادر، دور اندیش ، عاقل، انسان پرست، رہمنا کی ضرورت ہے جو ہمیں بھِی اس عقاب کی طرح  خود شناس بنائَے ، جو اس معاشرے کو خودار بنائَے ، اور دانا و بہادر کسان سر زمین گلگت بلستان کا سپوت بابا جان ہے جو ہمیں مرغیوں کی بہکاوئے سے نکال کر ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائَے گا۔  وہ جو ہمارے نمائندے بنے اسمبلیوں میں بٹھیے ہیں وہ پالتو فارمی مرغیاں ہے جن کا مطلب  و مقصد صرف دانہ چگنا ہے،

اگر آپ ذی شعوروعقلمند  انسان  ہیں اور آپ کے خواب آپکا زندہ ضمیر  تسخیر کائنات کے ہیں  آپ کو محنت و حلال کی روٹی کھانے کو جی چاہتا ہے عقلی عروج چاہتے ہیں انسانی عظمتوں کا ادراک چاہتے ہیں امن و انصاف چاہتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو کرپشن و رشوت  سے آذاد روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ اپنی کھوئی ہوئی شناخت چاہتے ہیں  تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیئے، کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیئے کیونکہ انہوں نے آپکو بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنی ووٹ کا صیح استعمال کرئے ، اور یہ حکم خدا وندی  بھی ہے کہ إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا  ما  بأنفسهم یعنی یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔

یہ کالم پامیر تائمز ،پھسو تائمز، اوررپوٹر ٹائمز پر بھی شائع ہوا

نوروز نام ہے خود احتسابی کا

کوئی بہار سے بھلا منہ کیسے موڑسکتا ہے۔جناب یہ  بہار کا موسم ہی تو ہے جو ہر سال ایک نیا پن لے لاتا ہے۔ زمین ایک نئی زندگی پاتی ہے تو ادھر درختوں پر پھولوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ سورج اور زمین سمیت اس پورے نظام شمسی میں ایک  ارتقاء یا تبدیلی   جنم لیتا ہے۔ سردی سے ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﮯ ﺭﻭﺯ ﻭﺷﺐ کے ایام  بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں تو  روئے زمین پر بسنے والے تبدیلی پسند لوگ  QIZILLزندگی میں آنے والی تمام تبدلیوں کو اجتماعی طور پر نوروز سے منسوب کر کے اس تبدیلی کو  مناتے ہیں۔

جناب ۱ اہل فار
س  اسے عید کے طور پر برسوں سے مناتے ہیں کہتے ہیں مشہور ایرانی بادشاہ زرتشت کے دور میں نوروز کو خصوصی مقام حاصل ہوا۔ زرتشت کے دور میں نوروز چار قدرتی عناصر پانی ، مٹی ، آگ اور ہوا کا مظہر اور علامت سمجھا جاتا تھا۔  ۔مغربی چین سے ترکی تک،  ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان،پاکستان کے علاقے اور شمالی عراق کے لوگ نوروزبڑے اہتمام سے منا تے ہیں

 تو کچھ لوگوں کا دعویٰ ہیں کہ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت و وصایت کا رسمی اعلان اسی دن ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دن منجی عالم بشریت  یعنی امام مہدی کے ظہور فرمائیں گے۔  تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار سورج کی روشنی اسی دن سیارہ زمین پرپڑی۔جناب وہ نوروز کا دن ہی تھا جس دن طوفان نوح تھم گیا۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضر ت موسی نےعصا کا معجزہ  دیکھایا اور فرعون کے جادو گروں کو مات دی۔۔ تو جناب عالی ۱ ان دعوں کا ایک بہت بڑی لیسٹ ہے۔ ۔ ۔  ان میں کتنی صداقت ہے اس سے مجھے کوئی لین دین نہیں ۔۔ مگر جناب میں زندگی کے ہر شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلی کا خواہاں ضرور ہوں ۔

 بلا کوئی کیوں نہ ہو کیونکہ زندگی ۔۔ تبدیلی کا دوسرا نام  ہی تو ہے۔ ۔ اور یہ مثبت تبدیلی ہی ہے جو مجھے اور آپ سب کے لئے وجہ مسکراہٹ ہے۔ تو دوستو مسکراتے  رہیــــــے ،خوش رہیــــــے،شــــاد رہیــــــے آباد رہیـــــــــے ۔۔

اور یہی نو روز کا پغام بھی ہے جو مجھے اور آپ کو ایک لمحے کے لئے غور و فکر کرنے کا موقعہ دیتا ہے۔یہ سوال کرتا ہے  کہ اے اہل خرد ، اے حضرت انسان، نہ جانے تو کتنے ایسے مذہبی، ثقافتی و دنیاوی تہوار ازل سے  مناتے آ  چلے ہو، مگر کچھ ہی لوگ ہیں جنہوں نے ان رسومات سے حقیقی خوشی و شادمانی حاصل کی ۔ ذرا تو یہ بتا کہ نہ جانے تیرے زندگی میں کتنے  اس طرح کے ماہ وسال آتے اور جاتے رہتے ہیں اور  اس کا تجھے احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ میرے عزیز تہوار اچھے کھانے ، نئے کپڑے زیب تن کرنے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کا نام نہیں  بلکہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر سوچنے کا نام ہے  آنے والے سال کو کس طرح کارآمد اور قیمتی بنا سکتے اس پر کچھ  غور وفکر کرنے کا ایک موقعہ ہے۔ میرے رفیق ، یہ تہوار مادی و معنوی  خود احتسابی  کرکے سال نو کیلئے منصوبی بندی کا  نام ہے۔ یہ تہوارت  ایک فکری لمحے کا نام ہے۔ یہ ہمیں بغیر ٹہرے گزرتے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی گھنٹی ہے، یہ ایک ایسی فکری لمحے کا نام ہے جو انفرادی و اجتماعی بالخصوص قوموں کی زندگی میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر زندگی کے یہ لمحات چند گھنٹوں کی مادی خوشی کی نذر ہو، فضولیات اور خرافات میں گزارے۔ اور اگر ہم اپنے گزرے ہوئے لمحات کے آئینہ میں اپنے عمل کا محاسبہ نہ کریں  تو جناب سمجھ لیجے گا۔ کہ یہ ایک لمحہ کی بھول آپ کے کارموں پر پانی پھیر سکتی ہے جبکہ اس ایک لمحے کا صیح استعمال نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر قوموں کی زندگی سنوار سکتی ہے ۔ ۔ تو بس وہی لوگ بازی لے جاتے جو ماہ وسال کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ تو نوروز ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم خود احتسابی کر کے ایک نئی امنگوں بھری مستقبل کی طرف روان دواں ہوں

تودوستو ہم بات کر رہے تھے نوروز کی  یعنی شمسی سال کا  نیا دن یا پہلا دن جو کہ علامت ہے تبدیلی کا، بہار کی آمد کا موسم سرما کی موت اور فطرت میں خوبصورت رنگ بھرنے کا، خواب و غفلت سے انسان کے بیدار ہونے کا،سوچ و فکر کے نتجے میں جاگ جانے کا ، فطرت سے متصل ہوجانے کا،تو آیئے زندگی میں آنے والی ہر اس فطری تبدیلی کا خیرمقدم کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کی قدر کرے، ہر لمحے کو غنیمت جان کر اسے اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسل کے لئے بیش قمیت بنائے۔

سال نو آپ اور آپ کے خاندان ۔ ملک و ملت میں خوشیوں کا بہارلے آئے، ملک و ملت میں موجود گوناگونی مثل باغ و گلشن بن جائے۔ آمین

یہ کالم پامیر تائمز پر بھی شائع ہوا

( ناول: ٘محبت کے چالیس اصول (ایک جائزہ

40qiz٭٭ ناول: ٘محبت کے چالیس اصول ٭٭ از ٭٭ ایلف شفق ٭٭
**٭٭ تحریر: ایم ایم قیزل
محبت کے چالیس اصول ترکی اور انگریزی کے مشہور ناول نگارایلف شفق کی ایک بہترین ناول ہے جس میں انہوں نے رومی ا شمس تبریز کی دوستی میں تصوف کو بیان کیا ہے، اس ناول میں انہوں نے آٹھ سوسال قدیم رومی و شمس کی محبت کو اکیسوی صدی کی ایک کردار کے ذریعے نہایت دلچسپ انداز میں قرطاس قلم کی ہے
اس خوبصرت ناول کو پڑھ کر قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ زندگی محبت کا نام ہے عشق کی حلاوت بہت میٹھی ہوتی ہے چاہیے اس میں جتنا بھی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو، محبت کی کوئی تعریف نہیں ہوتی یہ پاک و صاف اور سادہ ہوتی ہے
اس ناول کو جس کردار کے ذریعے قرطاس قلم کی وہ ایک مانچسٹر میں رہایش پزیر چالیس سالہ ایلا ہے جسکی زندگی تین بچوں کی دیکھ بھال اور گھر میں طرح طرح کے کھانے پکانے میں گزر رہی ہے جبکہ شوہر کی غفلت انکے لئے باعث پریشانی بھی ہےانکی نظر میں محبت کو ایک فضول کام سمجھتی ہے اس لئے بیٹی کی پسند کی شادی کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔ ایلا کی زندگی میں تبدیلی تب آجاتی ہے جب انہیں ایک ادبی ایجنسی میں ایک ناول پڑھنے اور اسکا جائزہ لینے کی نوکری ملتی ہے یہ ناول دراصل فورٹی رولز آف لو ہی ہوتا ہے جس میں شمس تبریز اورمولانا رومی کی ملاقات اور انکے درمیان عشق کی داستان بیان کی گئی ہوتی ہے
یہ ناول شروع سے آخر تک نہایت ہی دلچسپ انداز میں دو متوازی محبت کے حکایاتی تذکرے کو قاری کے پر رنگین وخوبصورت وادی کی طرح صفحہ در صفحہ نہ صرف عیان کرتی ہے، بلکہ ہر صفحہ قاری میں ایک تجسس بھی پیدا کرتی ہے۔

ایلا کو جب سویٹ بلاسفمی نامی تاریخی و پر اسرار ناول جو کہ ممتاز صوفی و شاعر مولانا رومی اور شمش تبریزسے متعلق ہوتی ہے پر کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے تو وہ اس کتاب کے منصف عزیز زاہرا سے شروع میں بذریعہ سی میل پھر فون پر روجوع کرتی ہےبن دیکھے انکے خیالات و افکار سے متاثر ہوتی ہے اور ان سے محبت کرنے لگتی ہےمحبت کو خام سمجھنے والی ایلا کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی محبت کے بغیر بے کار اور ادھورا ہے جب انکے شوہر کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انکی بیگم کسی کے محبت گرفتار ہوئی ہے تو وہ اسے منانے کی کوشش کرتا ہے وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اب کے بعد وہ اسے وقت دے گا اور وفادار رہے گا اسے نظر انداز نہیں کرے گا مگر تب تک ایلا عشق میں اتنا آگے بڑھ چکی تھی کہ واپسی محال ہوگیا تھا ۔ ایک دن عزیز ان سے ملنے انکے شہر آجاتا ہے جہاں ایلا سے وہ ایک ہوٹل میں ملاقات کرتا ہے ایلا انکے ساتھ جانے کا ارادہ کرتی ہے مگر عزیز انہیں بتاتا ہے کہ وہ انہیں کوئی روشن مستقبل نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ جلد کنسر کا مریض ہے نہ جانے کب اس کی سانس دم توڈ دے مگر ایلا سب کچھ چھوڈ چھاڈ کر شمس تبریز کے اس اصول کی پروی کرتی ہے اپنے دل کے فیصلے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔
ایلا اپنے شوہر اور تین بچوں کو چھوڈ کر عزیز کے ساتھ چلی جاتی ہے، ایک دن دونوں شہر قونیہ (ترکی) جہاں مولانا رومی مدفن ہے کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں کہ اچانک عزیز فرش پر گر پڑتا ہے اسے قریبی ہسپتال لے جایا جاتا ہے ۔ ایلا ہسپتال میں عزیز کے بسترسے لگی بیٹھی انکے ہاتھ تھامے ان سے بات کرنے کی آرزو مند ہوتی ہے مگر عزیز نیم بے ہوش آنکھیں بند کئے بستر مرگ پہ لیٹا ہوتا ہے ۔ایلا چند لمحوں کے لئے مایوسی کے عالم میں کمرے سے باہر نکلتی ہے اور ہسپتال کے باہر جھیل کنارے کھڑی ہوکر جھیل میں کنکر پھنکتی ہے اور مایوسی کے عالم میں خدا سے شکایت کرتی ہے کہ زندگی کے کئی سال بیت جانے کے بعد انکے دل میں عشق کی چنگاری لگا دی اور اس کم عرصے میں پھر ان سے اسکی محبوب کو چھین لیا ۔
کچھ دیر بعد جب وہ کمرے میں واپس آتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک ڈاکٹر اور نرس نے عزیز کو سر سے پاوں تلک سفید چادر میں ڈھانپ لیا ہے عزیز اس دنیا سے جا چکا تھا انکی خواہش کے مطابق انہیں انکے مرشد مولانا رومی کی آرام گاہ کے پاس دفن کر دیا جاتا ہے اور ایلا ایک درویشانہ زندگی گزارنا شروع کرتی ہے

جبکہ دوسری جنانب شمس تبریز اور مولانا رومی کی داستان عشق کی کہانی قاری کو اپنی گرفت لئے آگے بڑھتا ہے شمس تبریزجو کہ بچپن سے روحانی خیالات کا پیکر ہوتا ہے وہ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتا ہے اور ملکوں ملکوں ، شہر شہر درویشوں کی تلاش میں قونیہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ مولانا رومی سے ملتے ہیں، شمس جہاں بھی جاتے وہاں درویشوں کی دلوں پرانمٹ نقوش چھوڈ جاتے ہیں ۔ جیسے ہی رومی شمس تبریز سے ملتے ہیں وہ اپنی ظاہری نمود و نمایش ،عام مجالس ، اور تدریسی کام سے نکل کرعارفانہ و صوفیانہ راہ پر گامزن ہوتے ہے، شمس کی باتیں ہر عام شخص کی فہم میں نہیں آتی اور وہ انہیں بدعتی ، اسلام مخالف وغیرہ سمجھنے لگتے ہیں شمس کہتا ہے کہ ہر شخص کو کھلی اجازت ہے کہ اپنے طریقہ سے عبادت کرئے۔خدا کواس سے کوِئی سروکار نہیں وہ صرف دلوں کی دیکھتا ہے۔
مولانا رومی جب خطبے و تقایر، درس و تدریس چھوڈ کر خودشناسی کے سفرپر شمس تبریز کے ساتھ گوشہ نشنی اختیار کرتے ہیں توانکے گھر والے اورقونیہ کے لوگوں کو انکی خلوت پسندی و گوشہ نشنی پسند نہیں آتی وہ شمس تبریز کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شمس نے رومی پر کالا جادو کر کے اسے اپنی قابو میں کر لیا ہے۔ روز بہ روز شمس تبریز کے بد خواہوں میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مولانا رومی کا نرینہ اولاد علاوالدین انکا دشمن بن جاتا ہے۔ جبکہ مولانا رومی عشق کی انتہا کو چھو جاتے ہیں یہاں تک ایک دن شمس رومی سے شراب خانہ جا کے شراب لانے کو کہتے ہیں اور رومی بغیر کسی سوال کے سر عام شراب لے آتے ہیں ، رومی اپنے مرشد کے اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں یعنی ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﯾﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﮯ قربان کر جاتے ہیں ۔ شمس تبریز ایسے میں رومی کو چھوڈ کر چلے جاتے ہیں مولانا سے انکی جدائی برداشت نہیں ہوتی اور ہجر یار میں زار و قطار روتے ہیں رومی عشق کا پیکر بن جاتے ہیں انکے منہ سے نکلی ہر لفظ شاعری میں ڈھل جاتی ہے ، سلطان ولید سے اپنے والد کا یہ حال سہا نہیں جاتا اور شمس کو ڈھونڈ کر واپس لے آتے ہیں رومی اور شمس میں پھر وہی صحبتیں شروع ہو جاتی ہے مولانا کے مرید اور گھر والے سب مولانا کا قرب چاہتے ہیں مگر رومی ہے کہ وہ اپنے مرشد سے پل بھر کے لئے بھی دوری نہیں چاہتے ، آخر کار مولانا رومی کا ایک بیٹا علاو الدین اور قونیہ کے کچھ اوباش مل کر شمس کو قتل کرتے ہیں ۔اب رومی کی دنیا اجڑ جاتی ہے اور وہ شعر گوئی کے ذریعے غم جاناں کا تذکرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہر سنے والے پر اثر کرتی ہے اور انکے ان اشعار سےدیوان رومی بن گئی جسےمثنوی مولوی معنوی / هست قران در زبان پہلوی کہا جاتا ہے۔
یہ ناول اہل ادب کے لئے ایک منفرد تحفہ ہے جو قاری کے اندار صبر، محبت ، حق گوئی کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔

میرغضنفر کا سیاسی اقتدار میں خاندانی حصار

ماہ ستمبر ۱۹۴۶کو میر محمد جمال خان کی تاج پوشی ہنزہ میں پولیٹیکل ایجنٹ گلگت میجرکاب کی زیر نگرانی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جسمیں بالاورستان / بروشال کے میروں و راجاوں وغیرہ نے شرکت کی ۔ ہنزہ والوں نے اپنی روایات کے مطابق تین دن تک جشن منایا اور بھر پور مسرت کا اظہار کیا. ایسا نہیں تھا کہ ہر کوئی میری نظام سے نفرت کرتا تھا بلکہ میر آف ہنزہ سے ہنزہ کے لوگ دل و جان سے محبت بھی کرتے تھے۔ ۔میر جمال خان بذات خود اصلاح پسند آدمی تھے مگر زمانے کی نزاکتوں سے بے خبر تھے۔ اس نے وہ تمام ٹیکس جو انکے آباواجداد نے رائج کئے تھے سب معاف کیے ۔ علم حاصل کرنے کے لئے کسی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگایا ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہنزہ کے نوجوان علم حاصل کرئے کیوںکہ سر آغاخان سوئم نے انہیں تاکید کی تھی کہ انکی جماعت کو انگریزی ،عربی اور دوسری زبانیں سکھنے کی حوصلہ افزائی کرائے۔ اور میر جمال خان خود اسماعیلی سپریم کونسل فار سنٹرل ایشاء کے صدر بھی تھے ۔

پھر ایسا کیا ہوا کہ میری نظام کے خلاف ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئَے ؟

ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان جو کہ اس وقت کراچی میں مقیم تھے وہ ہنزہ میں اصلاحات چاہتے تھے وہ ہنزہ میں بہترین تعلیمی درسگاہیں، علاج ومعالجے کی اچھی سہولتیں، روزگار کے مواقعے وغیرہ چاہتے تھے ، مگر میر کے درباری ان نوجوانوں اور میر کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ میر اور عوام میں ایک خلا پیدا ہو چکا تھا ۔ ان اکابرین کی مخالفت نے میر آف ہنزہ کے خلاف طلباء کو مظاہرہ کرنے پہ مجبور کیا۔ جب میر آف ہنزہ کے خلاف اندرونی خلفشار نظر آیا تواسوقت کے پیپلز پارٹی پاکستانی حکومت نے اپنے اثر و رسوخ سے ان نوجوانون کی حوصلہ افزائی کی اور میرکے خلاف بغاوت پر اکسایا۔ ہنزہ کے نوجوان طالب علموں نے اپر ہنزہ پھسو گاوں میں پی پی پی کا پہلا دفتر کھولااور یوں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا ہنزہ آنا شروع ہوا۔ جب وزیر اعظم پاکستان ذولفقارعلی بھٹو کے حکم پر صدر پاکستان چودھری فضل الہی ہنزہ تشریف لائے تو ہنزہ کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو خوب مارا پیٹا۔ بھٹوصاحب کو یہ ناگوار گزرا اور ۲۴ ستمبر ۱۹۷۴ کو ریاست ہنزہ وریاست نگر کو ختم کر کے پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا ۔اور بس قصہ مختصر یوں عایشو خاندان کا ہنزہ پر حکومت ختم ہوئی۔

آج پھر میر غضنفر علی خان وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو میر جمال خان نے کی۔ میر صاحب سیاسی اقتدار حاصل کرتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہے۔ اپنے ارد گرد بیٹھے حضرات کی خوش آمد پر خوش ہے۔ ہنزہ کے پڑھے لکھے حضرات کیا چاہتے اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ وہ اپنی گھر تک محدود ہو گئے ہیں جو انکی اورانکے اولاد کے سیاسی کریئر کو ہمیشہ ہمیشہ ختم کر دے گی ۔انہیں موروثی و خاندانی سیاست سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

آج ہنزہ کا بچہ بچہ برابری چاہتا ہے ۔ انصاف چاہتا ہے ، اپنی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔ ہنزہ ایک نڈر، بے باک، غیور، دور اندیش، قابل ،بے لوث اور بےغرض رہنما چاہتا ہے۔ ہنزہ میرٹ کی بالادستی اور انصاف چاہتا ہے۔ ہنزہ تکثریت و گوناگونی چاہتا ہے ، ہنزہ اب کسی خاص فکری سوچ سے نکل کرزمانے کے اصولوں کی پاسداری چاہتا ہے، ہنزہ این جی اوز کے فنڈ نہیں بلکہ شہری حقوق چاہتا ہے ۔ ہنزہ لسانی، نسلی یا علاقائی تعصب کے دلدل سے نکلنا چاہتا ہے،ہنزہ والے آج کسی عایشو کے ذیر اثر نہیں بلکہ انکے سماج ،انکی معاشی و معاشرتی اوپر نیچے سے وقف ، انکے درمیان رہنے والا یا والی ، انکے دکھ درد کو سمجھنے والا ، کسی فرد کو اپنا رہنما چننا چاہتے ہیں۔ اور یقینا یہ گلگت بلتستان کا ہر فرد چاہتا ہے۔

مگر میر صاحب کو عوامی مینڈیٹ ملتے ہی اپنے گھر کوہی ہنزہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جناب والا آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کے آباواجداد نے ہنزہ کو انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا تھا گوجال ، سنٹرل اور لور ہنزہ ،اب تک آپ تین کجا ایک انتظامی حلقے کے ساتھ انصاف نہ کر سکے ۔ خود گورنر ہمیں خوشی اور قابل فخر لیکن مشیر اپنا بیٹے کو رکھنا اور خواتین کی مخصوص نشت پر رانی صاحبہ اور اب کے انتخابات میں شہزادہ سلیم کو لے آنا کی کوشش ، کہاں کا انصاف اور عوام دوستی ہے ؟ آپ کو عوامی شکایات اور خواہشوں کا علم ہیں؟ اہل گوجال کی محرومیاں اور ایک الگ سیٹ کا مطالبہ ، متاثرین عطاآباد پر ریاستی دہشت گردی،پچھلے چھ سالوں سے متاثرین عطاآباد کا مذہبی و سیاسی طور پر استحصال، وغیرہ جیسے ناانصافیاں ان حالات میں کیسے حل کریں گے ؟ آپ تو اپنے گھر کے ہی ہوگئے ہیں ۔

میرصاحب وقت بہت بدل چکا ہے۔ زمانے کی نزاکت کو سجمھ لیجے، بات صرف ان پانچ سالوں کی حکومت کا نہیں ہیں ۔آپ سے گلگت بلستان کے توقعات وابستہ ہیں۔ عوام میں پذیرائِی چاصل کرنا چاہتےہوتو اپنے اردگرد موجود ڈرائیور حضرات کی جگہ ہنزہ کے تعلیم یافتہ لوگوں رکھے ، ان سے مدد لے ، اپنی انا اور چاردیواری سے نکل کر عوامی خدمت کرے، ہنزہ کی نمائندگی ہنزہ والوں سے ہی کرائے نہ کہ اسے اپنی گھر تک محدود رکھے۔ ورنہ میری نظام کی طرح آپکا مورثی سیاسی مسقبل بھی ختم ہوسکتا ہے ۔کیونکہ آج بھی ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان ایسے تمام غیر مہذب، غیر قانونی، ناانصافی پر مبنی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ آپ کو ان ممالک سے سیاست سیکھنی چاہیےمثلا برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک جہاں موروثی بادشاہت ہونے کے باوجود ان کے خاندان کے افراد عمومی طور پر اقتدار کے ایوانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انکی عزت و احترام اب بھی موجود ہے۔مگر جناب والا آپ اقتدار میں آتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہیں۔

Also Published on
PT and Passu Times