پانچ فروی مذہبی سامراج اور گلگت بلستان و کشمیر

جس طرح مغربی سامرجیوں اور تاجروں نے ستریویں صدی سے سینکڑوں مشینری ادارے قائم کرنا شروع کی اور مشنریوں کو مشرقی ممالک تبلغ کے لئے بھیجتے رہے عیسائیت کی اشاعت سے اہل مغرب کا مقصد یہ تھا کہ ان ممالک کے لوگوں نے اگر انکی مذہب کو قبول کرلی تو وہ اپنی آقاوں کو اپنا ہم مذہب یا ہم عقیدہ یا ہم مسلک سمجھ کر انکی معاشی لوٹ کھوسٹ کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے اس طرح اہل مغرب نے مذہب کےنام پراقتصادی تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کی ۔ اسی لئے جنوبی افریقہ کے ایک سردار نے کہا
“جب سفید آدمی آیا تو اس کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس اراضی اب اس کے پاس اراضی ہے اور ہمارے پاس بائیبل”
گلگت بلتستان سمیت کشمیر کے حالات بھی اس تناظر میں کوئی مختلف نہیں ۔ان علاقوں پر پچھلے 70 سال سے جو بھی مسلط ہے وہ صرف اور صرف مذہبی عقائد کے بنا پر مسلط ہے اور ان علاقوں کے باشندے بھی خاموش اس لئے ہیں کیوں یہ لوگ سمجھتے ہیں یہ انکے ہم مذہب ، ہم مسلک اور ہم عقیدہ اسلامی بھائی ہیں ۔ اور جناب کہتے ہیں کہ الحاق گلگت بلتستان بھی تو اسی مد میں ہوا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ شہر گلگت اور غذرکی مارکیٹوں پر قابض ہمارے سرحد (کے پی کے) کے بھائی اور ریاستی اداروں میں پنجابی بھائی ہیں جنہیں ہم نے صرف اور صرف ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر جگہ دی ہے اور آنے والے وقتوں میں ہنزہ پرسندھی بھائیوں کی راج ہوگی اور ہم برتن مانجتے رہینگے، اسی طرح اگر ہنزہ یا دیامر کا کوئی بھائی اگر نگر میں زمین لینا چاہے توزمین درکنار ایک ڈابہ بھی کھول نہیں سکتا، اسی طر ح اگر ہنزہ میں کوئی چلاسی بھائی بزنس زمین خریدنا چاہیے تو بھی یہی رویہ ملا گا۔ یہ رویہ آپ کو پورے گلگت بلستسان کے لوگوں میں ہر خاص وعام میں ملے گا ۔ کیونکہ ہمیں مسلک پرست بنایا گیا ہے اور یہی ہماری اجتماعی غلامی کا سبب ہے ۔
اہل مغرب اس طریق حکومت سے سرخرو نہیں ہوئے بلکہ بدنام ہوئے اور یہ کوئی قابل قبول طرز حکومت بھی نہیں ، اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو یہاں کے باسیوں کے بنیادی حقوق دینے میں انکی عملی مدد کرنی چاہیے ۔ انہیں فکری آزادی مہیا کرنے کے لئے موحول دینی چاہیے ، غلامی کی بیڑیاں ، شکنجے ، زنجیریں اور تعزیریں وقتی طور پر شاید کار آمد ثابت ہوں مگر اسکا دور رس کوئی فائدہ نہیں، یوم یکجہتی گلگت بلتستان و کشمیر کو عملی اور عقلی بنیادوں پر پرکھنے کی ضرورت ہے ۔
ظلم دنیا کے جس حصے میں بھی ہو ہمیں نسلی ، جغرافیائی اور فکری سرحدوں سے نکل کر اس کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرنا چاہیے بلکہ عملی کردار بھی ادا کرنا چاہیےتہذیب یافتہ اور انسانی معاشروں میں ،غلامی کسی بھی صورت قبول نہیں جسمانی ، نفسیاتی ، قانونی اور ذہنی غلامی کے شکنجے میں مقید انسانوں کی آزادی کے لئے سعی کرنا چاہیے، چاہیے وہ کشمیر ہو یا گلگت بلتستان یا دنیا کا کوئی اور خطہ ۔
#Kashimir#GB#Human-rights#Freedom#Humanity#

Advertisements

طبقاتی تہذيب اور سرمایہ داروں کا غلبہ۔۔

ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ تہذیب طبقات میں بٹ جاتی ہے تو خیالات کی نوعیت بھی طبقاتی ہو جاتی ہے اور جس طبقے کا غلبہ مادی قوتوں پر ہوتا ہے اسی طبقے کا غلبہ ذہنی قوتوں پر بھی ہوتا ہے یعنی معاشرے میں اسی کے خیالات و افکار کا سکہ چلتا ہے۔ ۔۔۔۔ 
(سمجھے جناب ،نہیں تو پھر سے پڑھ لے اور باریکی سے پڑھ لے)
اور جب ان عقائد و افکار کے خلاف باغیانہ خیالات ابھرتے ہیں تو حکمران ، اداروں پر قابض سرمایہ دار ان خیالات کا سختی سے سد باب کرتے ہیں ان خیالات کی تبلیغ کرنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن ۔دین و دھرم کا دشمن اور خدا کا بھی قرار دیتے ہیں ۔انکی زبان بندی جاتی ہے انکی تحریروں کو نذر آتش یا قدغن لگایا جاتا ہے۔ اور ضرورت ہو تو جان سے بھی مار دیا جاتا ہے ۔ عصر حاضر میں اگر یہ باغیانہ روش نوجوان اپناۓ تو اسے مالی اقتصادی طور پر اتنا کمزور کیا جاتا ہے کہ اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے تگ و دو میں لگ جاتا ہے ۔۔۔۔تاریخ اور عصر حاضر ایسے کئی مثالوں سے بھری پڑی ہ

پرنس کریم آغاخان کا دورئے جی بی و چترال اور مذہبی رواداری کا مثالی نمونہ

برفیلے پہاڑوں کے اوٹ میں رہنے والوں نے دل و دماغ پر طاری کیا کیا جذبات محسوس کی اور کیا کچھ نہیں دیکھا ؟ یہ سب تاریخ میں رقم ہے کبھی یہ وادیاں بستی رہی کبھی اجڑتی رہی، ناک نقشے بدلتے رہے، رسم و رواج، دھرم کرم کی موجوں پر صدیا ں بہتے بہتے سمندر کی تہہ میں کہیں جا چھپی تو کہیں امنڈتی رہی ۔ ہریالی اور سرسبز و شاداب گلگت بلتستان و چترال دور بت مت میں بھی جڑے رہے اگر کبھی بکھرے تو صرف اسوقت جب اس کے ارد گرد کے لوگ یہاں قابض ہوۓ اور یہاں کے لوگوں کی دماغوں کو کھارا پانی دے کر ذہنی خشک سالی پیدا کرنے کی کوشش کی ، جس کی ویرانی میں شدت پسندی کا تھور محبتوں کی کھیتیوں کو بنجر کر جاتا ہے۔
مذہب کا سائنسی نظریہ ارتقاء سے اس دور کا ہر خوش نصیب انسان آگاہ ہے جس نے مسلک کی تالاب سے نکل کر فطرت کی سمندر میں غوطہ خوری کی جسارت کی ہے ۔وہ جانتا ہے کہ تصور خدا کی رنگ رنگینیاں پتھر کے دور سے پہلے اور بعد ۔۔۔اور آج کیا ہے اور کیوں ہے ۔ ان سب تصورات میں ایک سوچ جو یکساں ہے وہ بنی نوع انسان کا فوق الفطرت پر ایمان ہے جو انکے لیے دین و دنیا میں نجات دہندہ ہے۔ ان تصورات کے ساتھ کئی لوگ پیوند خاک ہوۓ اور انکے ساتھ انکے تصورات بھی اوجل ہوگئے جو باقی رہا وہ انسان ۔ ان سب میں جو اہم ہے وہ انسان ہے ۔
ایک روشن ۔ پرسکون۔ جسمانی ،ذہنی و روحانی صحت مند زندگی کا دارومدار رواداری سے ہی ممکن ہے ۔ یہ مذہبی نظریات ماضی کی طرح ہوا میں تحلیل ہوجائنگے مگر انسان باقی ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام نے بھی مختلف عقائد کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ، ان کے جان ومال ، عزت وآبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قراردیا ہے ۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذھب پر عمل کرنے کی آزادی ہو ، بلکہ انہیں روزگار ، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں ، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھا مگر آج آغاخان کے دورۓ پاکستان پر چترال و گلگت بلتستان کے باسیوں نےعملی طور پر کر دیکھایا ۔ جو تاریخی و قابل تحسین ہے۔ آنےوالے وقتوں میں مورخ ضرور اس بین المسالک بھائی چارگی و دوستی کو رقم کرگا۔ یہ نیک شگون ہے ہماری بقا کے لیے ۔ ہماری ذہنی و مادی ترقی کےلیے، مرحبا ان تمام علماء کرام کو جنہوں نے انسانیت کی پل تعمیر کی ۔ مرحبا ان نواجونوں کو جن کے لیے تصورات سے زیادہ انسانی جذبات اہم ہیں مرحبا ہو ان ذہنوں کو جو روشنی پھیلاتی ہیں ۔ مرحبا ان شیرین گفتار زبانوں کو آپس کی کدورتوں میں میٹھاس بھرتےہیں ۔
اب نوجوانون، اور سلجھے و سمجھدار مذہبی سکالرز اور رہنماوں کے کندھوں پر ہے کہ اس فضا کو برقرار رکھے ۔ تاریک ذہنوں سے آنےوالی آوازوں کو نہ سنے ۔ محبتوں کی راگ آلاپتے رہے ۔مذہبی نظریات سے زیارہ انسانی جانوں کو اہمیت دے کیونکہ اسلام نے ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔

قیزل

سائنسی دورمیں مرید و مرشد کی ضرورت

سائنس نے انسان پر تصوراتی و فکری مورتیوں کی حقیقت عیان کر دیا ہے جو عقائد کی بھول بھلیاں میں سفر کرتا ہے اب وہ انسان جو منطقی یا سائنسی علم سے آگاہ ہے وہ ان تمام فکری و جسمانی زنجیروں سے آزاد ہو چکا ہے عقائد کی اس طو فانی دنیا میں ہر کوئی اپنے لیے سچا یعنی ناجی اور دوسرا ناری ہے لیکن ہر گروہ میں بے یقینی اور شک کا لاوا اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود اس طلسماتی دنیا سے نکل جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔
مرید و مرشد ، ولی ، گروہ ، پیر، امام ،پادری، کمانڈر، کا تصور ہے کیا یا صحبت مرشد و امام و ولی وغیرہ کی اہمیت کیا ہے یہ بات بلکل دورست ہے کہ مرید کے دل میں مرشد ، امام ، کمانڈر، کی محبت اور عشق، یا صحبت مرید کے ذہن کو آب و تاب بخشتا ہے یا کند ذہن یا حیوانی خیال بناتا ہے۔ مرید مرشد کی شخصیت کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیے تصور ، خیال یا وہم کی قوت سے کام لیتا ہے. یہ وہم ، خیال یا تصور اس لیے کرایا یا کیا جاتا ہے تاکہ تصور کے ذریعے مرشد و امام و کمانڈر و ولی وگروہ و پادری وغیرہ سے قائم ذہنی تعلق توانا ہوجاے.اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ مرشد و امام ۔۔۔۔ وغیرہ کی صفات اور مرشد کی صلاحیتیں اس کی روح یا ذات میں گردش کرنے لگتی ہیں. تصور کی مسلسل مشق سے مرید یا طالب کے اندر ایک ایسی کیفیت مستحکم ہوجاتی ہے اور ایک ایسا وقت آن پہنچتا ہے جیسے تصوف میں “فنا فی الشیخ” کہا جاتا ہے۔
مرید و مرشد کے نظریے کو ہم یوں غلط نہیں گردان سکتے اور نہ ہی انکار کر سکتے ہیں اس تصور کا ساخت یا الفاظ بدل گئے ہیں مگر جوہر اب بھی کسی نہ کسی طور موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک مجاہد کا کمانڈر سے تعلق ہو ایک کامریڈ کا مارکسی یا سول سائنٹسٹ سے تعلق مرید و مرشد کے پرائے میں آتا ہے۔ انسان چاہے لادین ہی کیوں نہ ہو کہیں نہ کہیں ،کسی نہ کسی سے روحانی یا فکری طور پر جڑا ہوتا ہے ۔ جسطرح جسمانی یا ظاہری پرویش کے لیے یا زندگی کے لیے انسان محتاج ہے اسی طرح عقلی یا روحانی پرویش کے لیے بھی انسان محتاج ہے ۔اب روحانی ۔عقلی یا جسمانی و ظاہری صحت مند زندگی کا دارمدار آپکا مرشد۔ ولی ، کمانڈر یا وارث، اسکولینگ، پر ہے کہ وہ تمہیں جینے کا گر کیا دیتا ہے ۔ تمہیں تنگ نظری ۔ انا پرستی ۔ بنیاد پرستی کے اندھیرے گھپا میں لے جاتا ہے یا منطق ۔ سائینس۔ روشن خیالی۔ گوناگونی ۔ محبت جیسے مثبت روایوں کی طرف لے جاتا ہے۔ میری ضعیف عقل کے مطابق یہ رشتہ ہر انسان کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر موجود ہے، اور اسکا اظہار دنیا کی ساری کمیونٹیز ، سوسائٹز ، یا معاشروں میں ہمیں انفرادی و اجتماعی صورت میں نظر آتا ہے ۔
ایک صحتمند کمیونٹی یا معاشرے کی تکمیل کے لیے مرشد یا لیڈر ، سائنٹسٹ، سوشلیسٹ ، فلسفر کی ضرورت ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا اس سے انکاری کا کوئی جواز مجھے نظر نہیں آتا۔
اگر میں اسے دور حاضر کے الفاط میں کہوں تو یہ مرکز مائل قوت centripetal force ہے جو ہر معاشرے میں اور انفرادی و اجتماعی طور پر مختلف اشکال یا صورتوں یا اظہاروں میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رشتے کو یا ضرورت کو کن بنیادوں پر پرکھا جائے، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی سسٹم ہمارے پاس موجود ہے جس سے انفرادی و اجتماعی ضرورت، ۔ خواہش کی تکمیل ہو سکے ؟

سندھ یاترا اور قاسم علی سائیں

کراچی کے بعد حیدرآباد صوبۂ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ 1935ء کی دھائیوں تک یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ رہا۔ شہر حیدر آباد کی سڑکوں پر کراچی ہی کی طرح گہما گہمی رہتا ہے مگر ایک فرق جو میں نے محسوس کیا وہ یہ کہ اس گہما گہمی میں بے چینی ، خوف ، شور،گلیوں اور بازاروں میں کہیں رنگ و نسل یا ذات پات نمایاں نظر نہیں آتا۔حیدر آباد سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی لہلہاتے کھیت اور فقیرانہ ،درویشانہ یا یوں کہیے کہ بھگتی انداز جھلکتا لوگ روڈ کنارے مل جائنگے۔ کچھ دیر کو یوں لگتا ہے کہ یونان کے مشہور فلسفی دیوجانس Diogenes کی روح کی کاپیاں یوں سڑک کنارے آ بیٹھے ہیں۔ مگردونوں کی فلسفہ زندگی میں فرق ہے ۔

3
میرے دوست سہیل عالم اور کزن سجاد علی نے سب سے پہلے تو breeze fish point کے گرلڑ مچھلی کھلا کرحیدر آباد کی سرمئی شام میں اور رنگ بھر دئیے ۔ اگلے دن سہیل عالم کے ساتھ اندرون سندھ کی یاترا پر سلطان آباد نامی گاوں پہنچ گئے،سلطان آباد سر آغاخان سوئم سلطان محمد شاہ کے نام سے منسوب ہے 1938 میں بحکم سر آغاخان سوئم مختلف علاقوں سے لوگ آکراس گاوں کو بسا لیا۔ یہ گاوں اور یہاں کے لوگ قابل تعریف ہیں انکی مہمان نوازی ، کشادہ دلی ، سادگی اور صفائی و بے تکلفی قابل دید ہے یہاں ہمیں قاسم علی سائِیں ملے ۔ رسمی تعارف کے بعد انہوں نے ہمیں اپنی گھر پر دعوت دی۔ اس نفسا نفسی کے دور میں انسان دوست قاسم سائیں جیسے لوگوں کا ملنا محال لگتا ہے ۔ ان سے ملنے کا بعد ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم انہیں صدیوں سے جانتے ہیں قاسم سائیں اور اماں جس طرح فیاضی کا مظاہرہ کیا شاید ہم نہ کر پائے۔ کھانا کھا کے وہاں سے نکلے تو انہوں نے ہمیں سندھی ثقافت کا سنگھار اجرک پہنایا۔ جسطرح اجرک سندھی ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان ہے اسی طرح یہاں کے باسی اپنی مخصوص لب و لہجہ ، انداز بیان ، موسیقی،تصوف اور سندھی ملبوسات میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ، نئی نسل میں تصوف کی وہ چمک نظر نہیں آتی جو انکے آباو اجداد میں نظر آتی ہے،

This slideshow requires JavaScript.

شام کو ہم مجیرلیاقت علی صاحب کے ہاں دعوت پر گئے ان سے میری پہلی ملاقات تھی ۔سجاد ، سہل عالم ، اور المعروف ڈاکٹر صاحب نے مجیر صاحب کی کمپنی بہت انجوائے کیا۔ لیاقت صاحب سے مل کر میرا وہ تاثر ٹوٹ گیا جو کہ عام طور پر ایک فوجی کے بارے میں ہوتا ہے ۔ لیاقت بھائی کو میں نے روشن خیال ، ادبی اور منطقی سوچ کے حامل پایا۔ معاشرے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ دقیانوسی تصورات معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔انکے ساتھ سندھی بریانی کے ساتھ مسالہ دار گفتگو میں مزا آیا ۔ یوں رات دس بجے کے قریب میں واپس کراچی ی طرف روانہ ہوا ۔

مرحوم سلطان کریم ایک خاموش خدمت گار

ہر پل مدد اور خدمت کے لئےکمر بستہ چیرمین سلطان کریم سے کراچی میں مقیم ہنزہ، گلگت ، غذر اور چترال کا ہر فرد واقف ہے ۔ سیاسی و سماجی خدمات میں انہوں نے ہر ممکن لوگوں کی مدد کی ، پچھلے دنوں موٹر سائیکل حادثے میں جان بحق ہوئَے ، اللہ انہیں جنت الفردوس اور لواحقین کو صبر وجمیل عطا کرے ۔
سلطان کریم ایک نایاب ہیرا اور قوم کا ایک اعظیم سپوت تھا، انکی کمی شاید ہی کوئی پورا کر پائے ۔ خدمت انکی رگ رگ میں رچی تھی، وہ ہمشہ خاموش خدمت کے قائل تھے اس نے کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش تک نہ کی ۔ انکے ارادے بلند اور قومی خدمت کے لیے ہروقت تیار تھے ۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں محو رکھنا ہو معاشرے کی تعمیر میں ہر وقت اپنا حصہ ڈالتے رہنا ، مسائل کی تلاش میں کوشاں رہنا ، ملی یگانگت کے لیے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا ،مختلف سیاسی پارٹیوں کی پلیٹ فورم پر لوگوں کے مسائل اجاگر کرنا سلطان کریم کا خاصہ تھا ۔مرحوم سلطان کریم فرینڈز آف ہنزہ کے بانی تھے جسے نوجوانوں کومثبت سرگرمیوں مصروف رکھںے کے لیے بنایا تھا ۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ن کے کارکن تھے اور انہوں نے اس پارٹی کی وساطت سے میٹرول کالونی کے مسائل حل کرنے کی از حد کوشش کی ۔ سلطان کریم نیک دل ، خوش مزاج اور نیک سیرت انسان تھے ، اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے

23244455_1063904700418230_2118702414772939474_n
مرحوم سلطان کریم کی بے وقت اور نا گہانی موت نے جہاں کئی لوگوں کو سوگوار اور غم زدہ کیا وہاں ان تمام موٹرسائیکل چلانے والوں کو تنبُّہ بھی کیا ہے کہ معمولی سی بھی بے پرواہی اور غفلت انسانی جان کا ضیاع کا سبب بن سکتا ہے ۔ موٹر سائیکل حادثے میں اب تک ہم نے کئی قیمتی جانوں کوگنوا دیا ہے ااگر ان تمام حادثوں کا جائزہ لے تو ان سب میں ایک چیز یکساں ہے اور وہ ہے رات میں موٹر سائیکل پر سفر ۔ رات 12 کے بعد بڑی گاڈیاں شاہراہوں پر نکلتے ہیں ساز و سامان سے لدے ان گاڈیوں کی موجودگی میں روڈ پر موٹر سائیکل چلانا انتہائی خطر ناک ہے
آپ تمام موٹر سائیکل چلانے والے حضرات سے التماس ہے خصوصا کراچی میں رہنے والے نوجوان جو رات کو ہاے وے پر یا انڈسٹریل ایریاز سے سفر کرتے ہیں اپنی قیمتی جانوں کا خیال رکھے۔

بروششکی غزل ۔ انتظار اتی

بروششکی زبان کا پہلا غزل گو، نوجوان نسل کا ہر دلعزیز شاعر غلام ٰعبابس حسن آبادی کی شاعری میں جہاں رومانیت ہے وہاں انسانی تجربات سے حاصل سبق آموز خوبصورت پرائے میں تحریراشعار بھی موجود ہیں ۔ شاعری کے ذریعے بروشسکی اداب کوایک نیا ذہن، تخیل کی ایک نئی جہت ، اور زبان کی شگفتگی،مٹھاس اور لطافت کو بروشو قوم پر عیان کیا۔ انکے اشعارجب مدھر سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں، تودھڑکنوں کی رفتار اور دل کا موسم بھی تبدیل ہوجاتا ہے.غلام عباس مرحوم کو ہم سے بچھڑے کئی برس بیت گئے لیکن اس کے مداحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انکی شاعری میں وصل جاناں کی لطافتيں اور غم دوراں کی تلخياں ساتھ ساتھ نظر آتی ہيں،
ان کی اس غزل کو ذرا پڑھیے اور سنیَے کہ کس خوبصورتی و مہارت کے ساتھ اور نہایت دھیمے لہجے میں مثبت سوچ ، صبر، خود اعتمادی اور جہد مسلسل تلقین کی ہے

انتظار اتی شاعر عباس حسن آبادی

Sabur ay yaray wafadaray intizar ati
Gosay qarar xuzhi qararay intizar ati.
صبر اے یارے وفادارے انتظار اتی
گوسے قرار زوچی قرارے انتظار اتی

ترجمہ
استاد عباس اس شعر میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہے کہ ، صبر کر ،ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر ، نالہ کناں مت ہو اور وفادار محبوب جاں کا انتظار کر ۔ دل مضطر کو قرار آئے گا، عجلت نہ کر، جلد باز نہ بن اور قَرارِ جاں کا انتظار کر

Zindagi Zuwar Bila Hamisha Berga lo huru
Dunya Balas bila Guyar e Intizar Eti
زندگی جور بلا ہمیشہ برگہ لو ہورو
دنیا بَلاس بلا گویار انتظار اتی
ترجمہ
زندگی جہد مسلسل ہے جنگ ہے تو ہمیشہ کمربستہ ہو کر دلیری کیساتھ میدان جنگ رہ۔ یہ دنیا ایک نہ ایک دن ترے زیر تسلط آ ہی جائے گا ۔اتنظار کر۔

Datu e Khainy Humol Shalas Nesal Uny Gos Ayeer
Fir Juwas Bila Baha e Intizaar Eti

داتوے کھینے حمول شلاس نسل انے گوس ایر
پھری زواس بلا بہار انتظار اتی

ترجمہ
۔موسم خزان میں پت جھڑ دیکھ کر مایوس نہ ہو ۔پھر سے بہار آنےوالا ہے انتظار کر

Un ar akuman ghama e zahar e jiztay duni kuli
But chor da yashuma shuryaray intizar ati.

ان ار اکومن غم ذہر جی ذے دونی کلی
بٹ ذور دا یشوما شریارے انتظار اتی

ترجمہ
اے میرے محبوب اگر غم جاناں یا غم دوراں کا ذہر تمہیں حد درجے تک ستائے بھی تو مت ڈرنا۔،ہمت نہ ہارنا کیونکہ بہت جلد خوشحالی و خوش اقبالی کا زمانہ آنے والا ہے انتظار کر

“>Intizar Eti