دی میجک بائی ہونڈا بائرن – بک ریویو بائی ایم قیزل

کیا آپ پریشان ہیں؟ کیا آپ زندگی سے مطمعین نہیں ؟ کیا آپ کو اپنی زندگی میں کوئی رونق یا چاشنی نظر نہیں آتی؟ کیا رشتوں میں وہ حرارت اب نہیں رہی جسکا ذکر آپ کے آباو اجداد کرتے تھے ؟ کیا آپکےمعاشی حالت میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی ؟ کیا آپ اپنی نوکری سے تنگ آچکے ہیں؟ کیا آپ کا بوس یا سپروائزر بدتمیز اور تعصب پسند ہے ؟ کیا آپکا کاروبار آگے نہیں بڑھ رہا ؟ کیا آپ کو زندگی میں کہیں روشنی اور امید نظر نہیں آتی ؟ کیا آپ کو یہ معاشرہ اخلاقی وروحانی برائیوں کامسکن نظر آتا ہے ؟ کیا آپ نے بھی ہار مان لیا ہے کہ یہاں کام شرافت و صداقت سے نہیں بلکہ جھوٹ و images (1)مکاری سے ہوتا ہے ؟ ۔ ۔ ۔ تو جناب ٹھہریئں ۔۔۔۔۔
یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ ہماری اپنی نقطہ نظر ہے ۔ ہم نے اس دنیا کو یوں پرکھا اور جانا ہے ، جس رنگ کے عینک ہم نے پہن لی ہے یا پہنایا گیا ہے ہمیں دنیا بھی ایسا ہی دیکھ رہا ہے ۔اور اگر ایسا ہے بھی تو اسکا علاج کیا ہے ؟ ہم ایک بیمار معاشرے میں رہتے ہیں نا شکرا ہونا بیماری ہی تو ہے اس بیماری سے شفا آپ کو ایک دن میں نہیں مل جاتی ۔
اگر آپ اپنی نقطہ نظر بدلنا چاہتے ہیں ؟ سکون ،اطمینان قلبی ، تسکین روح اور ذہنی آسودگی چاہتے ہیں تومشہور کتاب دی میجک بائی ہونڈا بائرن ضرور پڑھیں ۔ مشہور ناول نگارایلف شفق کہتی ہیں اگر آپ محبت کرنے سے پہلے اور بعد میں ایک ہی انسان ہیں تو آپ نے محبت کی ہی نہیں ہے۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ ایک اچھی کتاب پڑھنے سے پہلے اور بعد میں ایک ہی انسان ہیں تو آپ نے وہ کتاب پڑھی ہی نہیں ہے ۔ یہ کتاب آپ پر ضرور مثبت نقوش چھوڈ جائے گا جو آپ کے لیے یقنا راحت بخش ہونگے۔
دی مجیک جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کسی جادو کے بارے میں ہوگا مگر ایسا نہیں بلکہ یہ کتاب ہے شکرگزاری کے بارے میں، منونیت کے بارے میں ، تَشَکُّر کے بارے میں۔ سپاس گُزاری کے بارے میں ہے۔یہ کتاب ہے انسان کوانسانیت کے حدود میں لاکر لازاوال مہربانیوں کا ادراک کے بارے میں ۔ یہ کتاب آپ کو جھنجھوڑ دیتی ہیں یہ آپ سے پوچھتی ہیں کہ کیا آپ نے اپنی آتی جاتی سانس کا شکر ادا کیا؟ کیا آپ نے کبھی سورج ہوا پانی خوراک اور اپنی صحت کا شکر ادا کیا؟کیا آپ نے کبھی اپنی آنکھوں کا شکریہ ادا کیا جن کی بدولت آپ کئی نعمتوں کو دیکھتیں ہیں؟ کبھی اپنے ذہن ، اور دوسرے حواس کا شکریہ ادا کیا ؟ کیا آپ نے کبھی اس خوبصورت صبح کا خیر مقدم کیا شکرگزاری کی جو ایک تازہ دم زندگی کی نوید لے کر آئی ہے ؟ کیا آپ نے اپنے آفیس میں موجود اسیسٹنٹ، ریسپشنیسٹ، آفس کولیگز، آفس میں موجود سہولیات کا سپاس گزار رہے کہ یہ آپکو میسر ہیں ،کیا آپ ان رشتوں کا شکرگزار ہے جنہوں نے تمہارے لیےوقت، جان اور مال کی قربانی دی ؟ کیا آپ سپاس گزار رہے جو آپکی گلیاں ، گھر، آفیس ، واش رومز وغیرہ روز آپ کے لیَے صاف کرتے ہیں ؟
رائٹر ہمیں اس کتاب میں سکھاتی ہیں کہ آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنی آنکھوں کو اپنے چہرے کو غور سے دیکھیں ۔پھر آنکھیں بند کریں اور یہ سوچیں کہ آپ دیکھ نہیں سکتے ۔ خوبصورت دن ۔تاروں بھرے آسمان ۔ٹھنڈی ہواوں سے بھری شام ، ڈوبتے سورج اور خوبصورت درختوں کو آپ دیکھ نہیں سکتے ۔۔ اب آپ آنکھیں کھولیں اپنی آنکھوں کو غور سے آئینے میں دیکھیں ۔ اب دل پر ہاتھ رکھ کر اس بات پر شکر ادا کریں کے آپ دیکھ سکتے ہیں اور اس وقت جو مسرت اور خوشی آپ محسوس کرتے ہیں وہ ہوتی ہے شکرگزاری کی اصل روح! اسی طرح کے اٹھائیس پریکٹسس اس کتاب میں ہیں جو ہماری سوچ کےزاویعے کو بدل دیتی ہے۔
اور نہ جانے کیا کیا زندگی میں ان گنت مہربانیاں ذکر و ادراک ہے حو ہم پر قدرت ہر لمحا نچھاور کرتا رہتا ہے ہم ہیں کہ بس شکایات لیے خفا بیٹھے ہیں۔
یہ کتاب مثبت سوچوں کا ایک انمول تحفہ ہے دل چاہتا کہ راہ ملنے والا ہر شخص کے ہاتھ یہ کتاب تھاما لوں اور بولوں کہ اسے پڑھ لیے ، زندگی بہت حسین ہے ، زندگی کی رونق اور اصلیت ان سب سے جوڈ کر بنتی ہے جن سے ہمار ا ایک لمحے کے لیے ہی کیوں نہ ملاقات ہو، زندگی حسین ہے لحاظہ شکرگزار بنیں ، سپاساس گزار رہیے،

Advertisements

مووی ریویو ۔ میگن لیوی

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ روۓ زمین پر سب زیادہ خطرناک جانور کونسا ہے ؟ تو میرا جواب ہوگا انسان۔ کیونکہ انسان کے اندر ان تمام جانوروں کی عادات مدفون ہے پتہ نہیں کب کونسا جانور جاگے ۔
“ہر انسان کے اندر ایک دھوپ میں تپتی سحرا ، ایک گھنا جنگل اور زہریلے پانی کا تالاب ہوتا ہے اور اس سحرا ۔۔ گھنے جنگل اور پانی میں ہر قسم کے جانور رہتے ہیں جو انسان کے اندر سے وقتن فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں بس ہر وہ جانور جو اس مسکن کا باسی ہے تاک میں رہتا ہے کہ کب انسان پہ اس کا دورا پڑتا ہے اور وہ کود کر اس پر حاوی ہو ۔
انسان اگر بھادری اور بے خوفی پہ آئے تو اس میں سے
شیر جھلکتا ہے ۔
جب انسان اپنے اندر حسد اور نفرت کا زھر پالتا ہے توimages ایک سانپ بن جاتا ہے اور موقع ملتے ہی اگلے کو ڈس لیتا ہے اور جب رشتوں کا تقدس نکل جائے تو سوئر بن جاتا ہے ۔
اور جب مکاری اور کمینے پن پے اتر آئے تو لومڑی بن جاتا ہے اور جب حرام کھانے کی بات آئے تو یہ انسان گدھ بھی بن جاتا ہے ۔
پھر جب وفاداری کی بات آئے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” تو ایک نام جو ہر شخص کی ذہن میں اجاگر ہوتا ہے اور اسی وفادار جانور جسے کچھ لوگ جانور کہنا مناسب نہیں سمجھتے ۔۔۔یہ فلم بھی ایک ایسی وفادار جانور کے گرد گھومتی ہے ۔ اور وہ یے کتا ۔۔۔ کتا؟ جی کتا ؟ جو کئی انسان نما سانپ ،گدھ ۔۔۔۔سے بہتر ہے۔
یہ فلم ایک ایسے کتے کی کہانی ہے جو ١٩٩٩ میں پیدا ہوا اور سن ٢٠١٢ میں مر گیا مگر مرنے سے پہلے اس نے ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائیں ۔ جی جناب کئی جانیں بچائی ہمارے معاشرے میں کتا تو گالی ہے وہ کس طرح انسان کا دوست ہو سکتا ہے اور کس طرح مدد کرتا ہے دیکھ کر میں تو حیران ہوگیا ۔ عراق میں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں کھوجنے والا یہ کتا۔۔ریکس پورے فوجی اعزازوں کے ساتھ ریٹائر ہوا۔۔۔ جی پورے فوجی اعزازوں کیساتھ ریٹائرڈ ہو ا ۔۔۔۔۔ اور اسے الوداع پوری دنیا کے سامنے بیس بال گراونڈ میں جس طرح سے استقبال کرکے ان کو عزت دی گئی سچ پوچھے تو وہ قابل تعریف ہے۔ ہمارے ہاں اگر انسان کسی ادارےریٹائر ہو جاۓ تو اسے اگلے دن آفس کے دروازے پر ہی روکا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔ اور کیا نہیں ہوتا آپ خود ہی جانتے ہیں اس فلم کا اینڈ تو کمال ہے ۔
یہی تو فرق ہے ان ترقی یافتہ ملکوں کی جہاں کام کی قدر ہے چاہیے وہ جو بھی کرے ۔۔۔ انسانی جانوں کی قدر ہے انسانیت کی حرمت کی قدر ہے ۔۔سیکھنے اور سوچنے کے بہت کچھ ۔ ۔۔۔ ایک شاندار فلم میں تو یہ کہوں گا کہ اپنے فالتو وقت کو اس فلم سے چار چاند ضرور لگائیں اور ہمیں اپنی رائے سے آگاہ رکھیں

GB Folks ستمگار اور

آج کراچی رنگون کمیونٹی سینٹر میں معروف شاعر جناب ظفر وقار تاج کی البم ستمگار کی تقریب رونمائی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جی بی فلوکس نے کراچی میں مقیم نہ صرف اہل شینا زبان کو بلکہ گلگت بلتستان سے محبت کرنے والے تمام اہل زبان و فکر کو یکجا کیا جس کے لیے جناب جہاں زیب ، اسرار الدین اسرار اور انکی ٹیم مبارک باد کے مسحق ہیں ۔  

اس بات سے کسے انکار کہ ادب ، شاعری ، موسیقی کسی بھی معاشرے کی تہذیب و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں معاشرہ اگر جسم ہے تو اس میں پنہاں اداب اس کی روح ہے ۔ جس معاشرے کا ادب جتنا رنگین و ترقی پسند ہوتا ہے  اتنا ہی وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ادب زندگی اور معاشرے کو مردہ نہیں ہونے دیتا وہ خود متحرک رہتا ہے اور افراد میں تحرک پیدا کرتا رہتا ہے۔  طفر وقارتاج نے جو روح شینا زبان میں پھونکی ہے اس سے نہ صرف شینا ادب متحرک ہوا ہے بلکہ ایک تحریک نے بھی جنم لی ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔  سر زمین گگلت بلتستان جتنا حسین ہے اتنا ہی میٹھا اور شرین انکی زبانیں بروششسکی ، وخی ، شینا، بلتی اورکھوارہیں جتنا بلند پہاڑ اور شفاف پانی کی جھرنے ہیں اتنا ہی بلند کردار اور شفاف ضمیر کے لوگ بھی ہیں ۔ اس حسین منظر کو یہاں کی موسیقی و شاعری اور حسین بنا دیتی ہے۔ اور اس زبان میں نکھار بھرنے والے یہاں کے شعراء ہیں ،

جو امن کا خواب گلگت بلتستان کے شعراء، ادیب و دانشوروں نے دیکھا ہیں وہ آج عملی طور نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ اس تحریک کوGB Folks استحکام دینے کے لیے ہم سب کو مل کام کرنا ہوگا ، جہاں ذیب اوراسرارالدین اسرار اور دوسرے روفقاء نے جو کوشش کی ہے وہ قابل تعریف ہے انسان کی بہتری‘ خوشحالی‘ ترقی و ترویج کے لئے شاعروں و ادیبوں نے انسانی معاشرے کو کسی لگے بندھے سانچے میں اسیر ہونے کی بجائے نئی راہیں دکھائی ہیں۔ یہ راہیں‘ نئی صبحوں اور ارتقاء کی راہیں ہیں۔ ان ہی  تحریکوں کی فکری راہنمائی نے ہی اجتماعی تہذیب کا روپ دھارا ہے۔ تعلیم و تربیت کے سانچے میں ڈھلنے کے بعد ترقی کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں‘ اور ان راہوں پر قدم سے قدم ملا کر چلنے سے ایک نئی اور جدید تہذیب تشکیل پاتی ہے گلگت بلتستان کے ادبی دانشور اور شعراء اسے خوب نبا رہیے ہیں ۔

گو کہ مجھے شینا زبان نہیں آتی مگر ایک چیز جو میں نے ظفر وقار تاج کی شاعری میں  لوگوں کی روایوں و احساسات کے زریعے محسوس کیا ہے وہ لوگوں کی شدت پسندانہ رویوں میں آنے والی ترقی پسند لچک کو دیکھا ہےاگر گلگت بلتستان کے شعراء اور ادیبوں کی علمی کاشوں کو اسی طرح سامنا لاجا ئے تو بعید نہیں کہ آج جس طرح عالمگیر رنگا رنگی کو سچائی‘ انصاف اور حقیقت کا روپ دے کر پیش کیا ہمشہ کے لیے امر ہوجائے۔

مجھے امید ہے کہ gbfolks ہماری زبان و ثقافت کی ترویج ۔ ہم آہنگی اور ترقی کے لیے اس طرح کے مزیذ پرگرامز کا انعقاد کرے گی ۔

پانچ فروی مذہبی سامراج اور گلگت بلستان و کشمیر

جس طرح مغربی سامرجیوں اور تاجروں نے ستریویں صدی سے سینکڑوں مشینری ادارے قائم کرنا شروع کی اور مشنریوں کو مشرقی ممالک تبلغ کے لئے بھیجتے رہے عیسائیت کی اشاعت سے اہل مغرب کا مقصد یہ تھا کہ ان ممالک کے لوگوں نے اگر انکی مذہب کو قبول کرلی تو وہ اپنی آقاوں کو اپنا ہم مذہب یا ہم عقیدہ یا ہم مسلک سمجھ کر انکی معاشی لوٹ کھوسٹ کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے اس طرح اہل مغرب نے مذہب کےنام پراقتصادی تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کی ۔ اسی لئے جنوبی افریقہ کے ایک سردار نے کہا
“جب سفید آدمی آیا تو اس کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس اراضی اب اس کے پاس اراضی ہے اور ہمارے پاس بائیبل”
گلگت بلتستان سمیت کشمیر کے حالات بھی اس تناظر میں کوئی مختلف نہیں ۔ان علاقوں پر پچھلے 70 سال سے جو بھی مسلط ہے وہ صرف اور صرف مذہبی عقائد کے بنا پر مسلط ہے اور ان علاقوں کے باشندے بھی خاموش اس لئے ہیں کیوں یہ لوگ سمجھتے ہیں یہ انکے ہم مذہب ، ہم مسلک اور ہم عقیدہ اسلامی بھائی ہیں ۔ اور جناب کہتے ہیں کہ الحاق گلگت بلتستان بھی تو اسی مد میں ہوا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ شہر گلگت اور غذرکی مارکیٹوں پر قابض ہمارے سرحد (کے پی کے) کے بھائی اور ریاستی اداروں میں پنجابی بھائی ہیں جنہیں ہم نے صرف اور صرف ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر جگہ دی ہے اور آنے والے وقتوں میں ہنزہ پرسندھی بھائیوں کی راج ہوگی اور ہم برتن مانجتے رہینگے، اسی طرح اگر ہنزہ یا دیامر کا کوئی بھائی اگر نگر میں زمین لینا چاہے توزمین درکنار ایک ڈابہ بھی کھول نہیں سکتا، اسی طر ح اگر ہنزہ میں کوئی چلاسی بھائی بزنس زمین خریدنا چاہیے تو بھی یہی رویہ ملا گا۔ یہ رویہ آپ کو پورے گلگت بلستسان کے لوگوں میں ہر خاص وعام میں ملے گا ۔ کیونکہ ہمیں مسلک پرست بنایا گیا ہے اور یہی ہماری اجتماعی غلامی کا سبب ہے ۔
اہل مغرب اس طریق حکومت سے سرخرو نہیں ہوئے بلکہ بدنام ہوئے اور یہ کوئی قابل قبول طرز حکومت بھی نہیں ، اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو یہاں کے باسیوں کے بنیادی حقوق دینے میں انکی عملی مدد کرنی چاہیے ۔ انہیں فکری آزادی مہیا کرنے کے لئے موحول دینی چاہیے ، غلامی کی بیڑیاں ، شکنجے ، زنجیریں اور تعزیریں وقتی طور پر شاید کار آمد ثابت ہوں مگر اسکا دور رس کوئی فائدہ نہیں، یوم یکجہتی گلگت بلتستان و کشمیر کو عملی اور عقلی بنیادوں پر پرکھنے کی ضرورت ہے ۔
ظلم دنیا کے جس حصے میں بھی ہو ہمیں نسلی ، جغرافیائی اور فکری سرحدوں سے نکل کر اس کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرنا چاہیے بلکہ عملی کردار بھی ادا کرنا چاہیےتہذیب یافتہ اور انسانی معاشروں میں ،غلامی کسی بھی صورت قبول نہیں جسمانی ، نفسیاتی ، قانونی اور ذہنی غلامی کے شکنجے میں مقید انسانوں کی آزادی کے لئے سعی کرنا چاہیے، چاہیے وہ کشمیر ہو یا گلگت بلتستان یا دنیا کا کوئی اور خطہ ۔
#Kashimir#GB#Human-rights#Freedom#Humanity#

طبقاتی تہذيب اور سرمایہ داروں کا غلبہ۔۔

ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ تہذیب طبقات میں بٹ جاتی ہے تو خیالات کی نوعیت بھی طبقاتی ہو جاتی ہے اور جس طبقے کا غلبہ مادی قوتوں پر ہوتا ہے اسی طبقے کا غلبہ ذہنی قوتوں پر بھی ہوتا ہے یعنی معاشرے میں اسی کے خیالات و افکار کا سکہ چلتا ہے۔ ۔۔۔۔ 
(سمجھے جناب ،نہیں تو پھر سے پڑھ لے اور باریکی سے پڑھ لے)
اور جب ان عقائد و افکار کے خلاف باغیانہ خیالات ابھرتے ہیں تو حکمران ، اداروں پر قابض سرمایہ دار ان خیالات کا سختی سے سد باب کرتے ہیں ان خیالات کی تبلیغ کرنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن ۔دین و دھرم کا دشمن اور خدا کا بھی قرار دیتے ہیں ۔انکی زبان بندی جاتی ہے انکی تحریروں کو نذر آتش یا قدغن لگایا جاتا ہے۔ اور ضرورت ہو تو جان سے بھی مار دیا جاتا ہے ۔ عصر حاضر میں اگر یہ باغیانہ روش نوجوان اپناۓ تو اسے مالی اقتصادی طور پر اتنا کمزور کیا جاتا ہے کہ اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے تگ و دو میں لگ جاتا ہے ۔۔۔۔تاریخ اور عصر حاضر ایسے کئی مثالوں سے بھری پڑی ہ

پرنس کریم آغاخان کا دورئے جی بی و چترال اور مذہبی رواداری کا مثالی نمونہ

برفیلے پہاڑوں کے اوٹ میں رہنے والوں نے دل و دماغ پر طاری کیا کیا جذبات محسوس کی اور کیا کچھ نہیں دیکھا ؟ یہ سب تاریخ میں رقم ہے کبھی یہ وادیاں بستی رہی کبھی اجڑتی رہی، ناک نقشے بدلتے رہے، رسم و رواج، دھرم کرم کی موجوں پر صدیا ں بہتے بہتے سمندر کی تہہ میں کہیں جا چھپی تو کہیں امنڈتی رہی ۔ ہریالی اور سرسبز و شاداب گلگت بلتستان و چترال دور بت مت میں بھی جڑے رہے اگر کبھی بکھرے تو صرف اسوقت جب اس کے ارد گرد کے لوگ یہاں قابض ہوۓ اور یہاں کے لوگوں کی دماغوں کو کھارا پانی دے کر ذہنی خشک سالی پیدا کرنے کی کوشش کی ، جس کی ویرانی میں شدت پسندی کا تھور محبتوں کی کھیتیوں کو بنجر کر جاتا ہے۔
مذہب کا سائنسی نظریہ ارتقاء سے اس دور کا ہر خوش نصیب انسان آگاہ ہے جس نے مسلک کی تالاب سے نکل کر فطرت کی سمندر میں غوطہ خوری کی جسارت کی ہے ۔وہ جانتا ہے کہ تصور خدا کی رنگ رنگینیاں پتھر کے دور سے پہلے اور بعد ۔۔۔اور آج کیا ہے اور کیوں ہے ۔ ان سب تصورات میں ایک سوچ جو یکساں ہے وہ بنی نوع انسان کا فوق الفطرت پر ایمان ہے جو انکے لیے دین و دنیا میں نجات دہندہ ہے۔ ان تصورات کے ساتھ کئی لوگ پیوند خاک ہوۓ اور انکے ساتھ انکے تصورات بھی اوجل ہوگئے جو باقی رہا وہ انسان ۔ ان سب میں جو اہم ہے وہ انسان ہے ۔
ایک روشن ۔ پرسکون۔ جسمانی ،ذہنی و روحانی صحت مند زندگی کا دارومدار رواداری سے ہی ممکن ہے ۔ یہ مذہبی نظریات ماضی کی طرح ہوا میں تحلیل ہوجائنگے مگر انسان باقی ہے۔ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام نے بھی مختلف عقائد کے پیرؤوں کے ساتھ رواداری کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے ، ان کے جان ومال ، عزت وآبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قراردیا ہے ۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذھب پر عمل کرنے کی آزادی ہو ، بلکہ انہیں روزگار ، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں ، اُن کے ساتھ حسن ِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے اور ان کی دلآزاری سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھا مگر آج آغاخان کے دورۓ پاکستان پر چترال و گلگت بلتستان کے باسیوں نےعملی طور پر کر دیکھایا ۔ جو تاریخی و قابل تحسین ہے۔ آنےوالے وقتوں میں مورخ ضرور اس بین المسالک بھائی چارگی و دوستی کو رقم کرگا۔ یہ نیک شگون ہے ہماری بقا کے لیے ۔ ہماری ذہنی و مادی ترقی کےلیے، مرحبا ان تمام علماء کرام کو جنہوں نے انسانیت کی پل تعمیر کی ۔ مرحبا ان نواجونوں کو جن کے لیے تصورات سے زیادہ انسانی جذبات اہم ہیں مرحبا ہو ان ذہنوں کو جو روشنی پھیلاتی ہیں ۔ مرحبا ان شیرین گفتار زبانوں کو آپس کی کدورتوں میں میٹھاس بھرتےہیں ۔
اب نوجوانون، اور سلجھے و سمجھدار مذہبی سکالرز اور رہنماوں کے کندھوں پر ہے کہ اس فضا کو برقرار رکھے ۔ تاریک ذہنوں سے آنےوالی آوازوں کو نہ سنے ۔ محبتوں کی راگ آلاپتے رہے ۔مذہبی نظریات سے زیارہ انسانی جانوں کو اہمیت دے کیونکہ اسلام نے ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔

قیزل

سائنسی دورمیں مرید و مرشد کی ضرورت

سائنس نے انسان پر تصوراتی و فکری مورتیوں کی حقیقت عیان کر دیا ہے جو عقائد کی بھول بھلیاں میں سفر کرتا ہے اب وہ انسان جو منطقی یا سائنسی علم سے آگاہ ہے وہ ان تمام فکری و جسمانی زنجیروں سے آزاد ہو چکا ہے عقائد کی اس طو فانی دنیا میں ہر کوئی اپنے لیے سچا یعنی ناجی اور دوسرا ناری ہے لیکن ہر گروہ میں بے یقینی اور شک کا لاوا اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود اس طلسماتی دنیا سے نکل جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔
مرید و مرشد ، ولی ، گروہ ، پیر، امام ،پادری، کمانڈر، کا تصور ہے کیا یا صحبت مرشد و امام و ولی وغیرہ کی اہمیت کیا ہے یہ بات بلکل دورست ہے کہ مرید کے دل میں مرشد ، امام ، کمانڈر، کی محبت اور عشق، یا صحبت مرید کے ذہن کو آب و تاب بخشتا ہے یا کند ذہن یا حیوانی خیال بناتا ہے۔ مرید مرشد کی شخصیت کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیے تصور ، خیال یا وہم کی قوت سے کام لیتا ہے. یہ وہم ، خیال یا تصور اس لیے کرایا یا کیا جاتا ہے تاکہ تصور کے ذریعے مرشد و امام و کمانڈر و ولی وگروہ و پادری وغیرہ سے قائم ذہنی تعلق توانا ہوجاے.اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ مرشد و امام ۔۔۔۔ وغیرہ کی صفات اور مرشد کی صلاحیتیں اس کی روح یا ذات میں گردش کرنے لگتی ہیں. تصور کی مسلسل مشق سے مرید یا طالب کے اندر ایک ایسی کیفیت مستحکم ہوجاتی ہے اور ایک ایسا وقت آن پہنچتا ہے جیسے تصوف میں “فنا فی الشیخ” کہا جاتا ہے۔
مرید و مرشد کے نظریے کو ہم یوں غلط نہیں گردان سکتے اور نہ ہی انکار کر سکتے ہیں اس تصور کا ساخت یا الفاظ بدل گئے ہیں مگر جوہر اب بھی کسی نہ کسی طور موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک مجاہد کا کمانڈر سے تعلق ہو ایک کامریڈ کا مارکسی یا سول سائنٹسٹ سے تعلق مرید و مرشد کے پرائے میں آتا ہے۔ انسان چاہے لادین ہی کیوں نہ ہو کہیں نہ کہیں ،کسی نہ کسی سے روحانی یا فکری طور پر جڑا ہوتا ہے ۔ جسطرح جسمانی یا ظاہری پرویش کے لیے یا زندگی کے لیے انسان محتاج ہے اسی طرح عقلی یا روحانی پرویش کے لیے بھی انسان محتاج ہے ۔اب روحانی ۔عقلی یا جسمانی و ظاہری صحت مند زندگی کا دارمدار آپکا مرشد۔ ولی ، کمانڈر یا وارث، اسکولینگ، پر ہے کہ وہ تمہیں جینے کا گر کیا دیتا ہے ۔ تمہیں تنگ نظری ۔ انا پرستی ۔ بنیاد پرستی کے اندھیرے گھپا میں لے جاتا ہے یا منطق ۔ سائینس۔ روشن خیالی۔ گوناگونی ۔ محبت جیسے مثبت روایوں کی طرف لے جاتا ہے۔ میری ضعیف عقل کے مطابق یہ رشتہ ہر انسان کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر موجود ہے، اور اسکا اظہار دنیا کی ساری کمیونٹیز ، سوسائٹز ، یا معاشروں میں ہمیں انفرادی و اجتماعی صورت میں نظر آتا ہے ۔
ایک صحتمند کمیونٹی یا معاشرے کی تکمیل کے لیے مرشد یا لیڈر ، سائنٹسٹ، سوشلیسٹ ، فلسفر کی ضرورت ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا اس سے انکاری کا کوئی جواز مجھے نظر نہیں آتا۔
اگر میں اسے دور حاضر کے الفاط میں کہوں تو یہ مرکز مائل قوت centripetal force ہے جو ہر معاشرے میں اور انفرادی و اجتماعی طور پر مختلف اشکال یا صورتوں یا اظہاروں میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رشتے کو یا ضرورت کو کن بنیادوں پر پرکھا جائے، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی سسٹم ہمارے پاس موجود ہے جس سے انفرادی و اجتماعی ضرورت، ۔ خواہش کی تکمیل ہو سکے ؟