سندھ یاترا اور قاسم علی سائیں

کراچی کے بعد حیدرآباد صوبۂ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ 1935ء کی دھائیوں تک یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ رہا۔ شہر حیدر آباد کی سڑکوں پر کراچی ہی کی طرح گہما گہمی رہتا ہے مگر ایک فرق جو میں نے محسوس کیا وہ یہ کہ اس گہما گہمی میں بے چینی ، خوف ، شور،گلیوں اور بازاروں میں کہیں رنگ و نسل یا ذات پات نمایاں نظر نہیں آتا۔حیدر آباد سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی لہلہاتے کھیت اور فقیرانہ ،درویشانہ یا یوں کہیے کہ بھگتی انداز جھلکتا لوگ روڈ کنارے مل جائنگے۔ کچھ دیر کو یوں لگتا ہے کہ یونان کے مشہور فلسفی دیوجانس Diogenes کی روح کی کاپیاں یوں سڑک کنارے آ بیٹھے ہیں۔ مگردونوں کی فلسفہ زندگی میں فرق ہے ۔

3
میرے دوست سہیل عالم اور کزن سجاد علی نے سب سے پہلے تو breeze fish point کے گرلڑ مچھلی کھلا کرحیدر آباد کی سرمئی شام میں اور رنگ بھر دئیے ۔ اگلے دن سہیل عالم کے ساتھ اندرون سندھ کی یاترا پر سلطان آباد نامی گاوں پہنچ گئے،سلطان آباد سر آغاخان سوئم سلطان محمد شاہ کے نام سے منسوب ہے 1938 میں بحکم سر آغاخان سوئم مختلف علاقوں سے لوگ آکراس گاوں کو بسا لیا۔ یہ گاوں اور یہاں کے لوگ قابل تعریف ہیں انکی مہمان نوازی ، کشادہ دلی ، سادگی اور صفائی و بے تکلفی قابل دید ہے یہاں ہمیں قاسم علی سائِیں ملے ۔ رسمی تعارف کے بعد انہوں نے ہمیں اپنی گھر پر دعوت دی۔ اس نفسا نفسی کے دور میں انسان دوست قاسم سائیں جیسے لوگوں کا ملنا محال لگتا ہے ۔ ان سے ملنے کا بعد ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم انہیں صدیوں سے جانتے ہیں قاسم سائیں اور اماں جس طرح فیاضی کا مظاہرہ کیا شاید ہم نہ کر پائے۔ کھانا کھا کے وہاں سے نکلے تو انہوں نے ہمیں سندھی ثقافت کا سنگھار اجرک پہنایا۔ جسطرح اجرک سندھی ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان ہے اسی طرح یہاں کے باسی اپنی مخصوص لب و لہجہ ، انداز بیان ، موسیقی،تصوف اور سندھی ملبوسات میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ، نئی نسل میں تصوف کی وہ چمک نظر نہیں آتی جو انکے آباو اجداد میں نظر آتی ہے،

This slideshow requires JavaScript.

شام کو ہم مجیرلیاقت علی صاحب کے ہاں دعوت پر گئے ان سے میری پہلی ملاقات تھی ۔سجاد ، سہل عالم ، اور المعروف ڈاکٹر صاحب نے مجیر صاحب کی کمپنی بہت انجوائے کیا۔ لیاقت صاحب سے مل کر میرا وہ تاثر ٹوٹ گیا جو کہ عام طور پر ایک فوجی کے بارے میں ہوتا ہے ۔ لیاقت بھائی کو میں نے روشن خیال ، ادبی اور منطقی سوچ کے حامل پایا۔ معاشرے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ دقیانوسی تصورات معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔انکے ساتھ سندھی بریانی کے ساتھ مسالہ دار گفتگو میں مزا آیا ۔ یوں رات دس بجے کے قریب میں واپس کراچی ی طرف روانہ ہوا ۔

Advertisements

مرحوم سلطان کریم ایک خاموش خدمت گار

ہر پل مدد اور خدمت کے لئےکمر بستہ چیرمین سلطان کریم سے کراچی میں مقیم ہنزہ، گلگت ، غذر اور چترال کا ہر فرد واقف ہے ۔ سیاسی و سماجی خدمات میں انہوں نے ہر ممکن لوگوں کی مدد کی ، پچھلے دنوں موٹر سائیکل حادثے میں جان بحق ہوئَے ، اللہ انہیں جنت الفردوس اور لواحقین کو صبر وجمیل عطا کرے ۔
سلطان کریم ایک نایاب ہیرا اور قوم کا ایک اعظیم سپوت تھا، انکی کمی شاید ہی کوئی پورا کر پائے ۔ خدمت انکی رگ رگ میں رچی تھی، وہ ہمشہ خاموش خدمت کے قائل تھے اس نے کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش تک نہ کی ۔ انکے ارادے بلند اور قومی خدمت کے لیے ہروقت تیار تھے ۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں محو رکھنا ہو معاشرے کی تعمیر میں ہر وقت اپنا حصہ ڈالتے رہنا ، مسائل کی تلاش میں کوشاں رہنا ، ملی یگانگت کے لیے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا ،مختلف سیاسی پارٹیوں کی پلیٹ فورم پر لوگوں کے مسائل اجاگر کرنا سلطان کریم کا خاصہ تھا ۔مرحوم سلطان کریم فرینڈز آف ہنزہ کے بانی تھے جسے نوجوانوں کومثبت سرگرمیوں مصروف رکھںے کے لیے بنایا تھا ۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ن کے کارکن تھے اور انہوں نے اس پارٹی کی وساطت سے میٹرول کالونی کے مسائل حل کرنے کی از حد کوشش کی ۔ سلطان کریم نیک دل ، خوش مزاج اور نیک سیرت انسان تھے ، اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے

23244455_1063904700418230_2118702414772939474_n
مرحوم سلطان کریم کی بے وقت اور نا گہانی موت نے جہاں کئی لوگوں کو سوگوار اور غم زدہ کیا وہاں ان تمام موٹرسائیکل چلانے والوں کو تنبُّہ بھی کیا ہے کہ معمولی سی بھی بے پرواہی اور غفلت انسانی جان کا ضیاع کا سبب بن سکتا ہے ۔ موٹر سائیکل حادثے میں اب تک ہم نے کئی قیمتی جانوں کوگنوا دیا ہے ااگر ان تمام حادثوں کا جائزہ لے تو ان سب میں ایک چیز یکساں ہے اور وہ ہے رات میں موٹر سائیکل پر سفر ۔ رات 12 کے بعد بڑی گاڈیاں شاہراہوں پر نکلتے ہیں ساز و سامان سے لدے ان گاڈیوں کی موجودگی میں روڈ پر موٹر سائیکل چلانا انتہائی خطر ناک ہے
آپ تمام موٹر سائیکل چلانے والے حضرات سے التماس ہے خصوصا کراچی میں رہنے والے نوجوان جو رات کو ہاے وے پر یا انڈسٹریل ایریاز سے سفر کرتے ہیں اپنی قیمتی جانوں کا خیال رکھے۔

بروششکی غزل ۔ انتظار اتی

بروششکی زبان کا پہلا غزل گو، نوجوان نسل کا ہر دلعزیز شاعر غلام ٰعبابس حسن آبادی کی شاعری میں جہاں رومانیت ہے وہاں انسانی تجربات سے حاصل سبق آموز خوبصورت پرائے میں تحریراشعار بھی موجود ہیں ۔ شاعری کے ذریعے بروشسکی اداب کوایک نیا ذہن، تخیل کی ایک نئی جہت ، اور زبان کی شگفتگی،مٹھاس اور لطافت کو بروشو قوم پر عیان کیا۔ انکے اشعارجب مدھر سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں، تودھڑکنوں کی رفتار اور دل کا موسم بھی تبدیل ہوجاتا ہے.غلام عباس مرحوم کو ہم سے بچھڑے کئی برس بیت گئے لیکن اس کے مداحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انکی شاعری میں وصل جاناں کی لطافتيں اور غم دوراں کی تلخياں ساتھ ساتھ نظر آتی ہيں،
ان کی اس غزل کو ذرا پڑھیے اور سنیَے کہ کس خوبصورتی و مہارت کے ساتھ اور نہایت دھیمے لہجے میں مثبت سوچ ، صبر، خود اعتمادی اور جہد مسلسل تلقین کی ہے

انتظار اتی شاعر عباس حسن آبادی

Sabur ay yaray wafadaray intizar ati
Gosay qarar xuzhi qararay intizar ati.
صبر اے یارے وفادارے انتظار اتی
گوسے قرار زوچی قرارے انتظار اتی

ترجمہ
استاد عباس اس شعر میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہے کہ ، صبر کر ،ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر ، نالہ کناں مت ہو اور وفادار محبوب جاں کا انتظار کر ۔ دل مضطر کو قرار آئے گا، عجلت نہ کر، جلد باز نہ بن اور قَرارِ جاں کا انتظار کر

Zindagi Zuwar Bila Hamisha Berga lo huru
Dunya Balas bila Guyar e Intizar Eti
زندگی جور بلا ہمیشہ برگہ لو ہورو
دنیا بَلاس بلا گویار انتظار اتی
ترجمہ
زندگی جہد مسلسل ہے جنگ ہے تو ہمیشہ کمربستہ ہو کر دلیری کیساتھ میدان جنگ رہ۔ یہ دنیا ایک نہ ایک دن ترے زیر تسلط آ ہی جائے گا ۔اتنظار کر۔

Datu e Khainy Humol Shalas Nesal Uny Gos Ayeer
Fir Juwas Bila Baha e Intizaar Eti

داتوے کھینے حمول شلاس نسل انے گوس ایر
پھری زواس بلا بہار انتظار اتی

ترجمہ
۔موسم خزان میں پت جھڑ دیکھ کر مایوس نہ ہو ۔پھر سے بہار آنےوالا ہے انتظار کر

Un ar akuman ghama e zahar e jiztay duni kuli
But chor da yashuma shuryaray intizar ati.

ان ار اکومن غم ذہر جی ذے دونی کلی
بٹ ذور دا یشوما شریارے انتظار اتی

ترجمہ
اے میرے محبوب اگر غم جاناں یا غم دوراں کا ذہر تمہیں حد درجے تک ستائے بھی تو مت ڈرنا۔،ہمت نہ ہارنا کیونکہ بہت جلد خوشحالی و خوش اقبالی کا زمانہ آنے والا ہے انتظار کر

“>Intizar Eti

 

زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا

 زندگی کے آغاز کے بارے میں جدید ترین سائنس پر یہ تفصیلی مضمون بی بی سی کی ویب سائٹ پر سنہ 2016 میں شائع ہوا تھا اس مضمون میں عام قارئین کے لیے عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے  اگر آپ تصورآفرنیش کا سائنسی نقطہ نگاہ دیکھنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل عنوان پر کلک  کریں

زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا

آذادی اظہار رائے پہ قدغن کیوں

آذادی اظہار رائے پہ قدغن نہ صرف معاشرے کو ذوال کی طرف دھکیلنے کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ جہالت ، عقلی و فکری انحطاط کا پیش خیمہ بھی ہے ۔ اگر غلامی کی تاریخ کا جائزہ لے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے سامراجی قوتیں اور اشرفیہ  ظلم و جبر سے جسم انسانی کو تو قید کر سکتے ہیں مگر فکر، سوچ، ترقی، جستجو،  تلاش اورمنظق کو کبھِی قابو میں نہیں رکھ سکتے،عقل کی بینائی کو ظلم و جبر کبھی بھی دبوچ نہیں سکتا۔ عقل روشنی ہے اور روشنی آخر غالب آ جاتی ہے
اہل مغرب کا مذہبی لبادہ اوڈھے افریقہ پر اقتصادی تسلط کی کوشش اور اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں، حبشی غلاموں کی آواز کو اشرفیہ کبھی خاموش نہیں کر سکے ۔سائنسدانوں کو زندان میں ڈالنے والےاور دقیانوسی کو رد کرنے والوں پر ظلم تو ڈاھے گے مگر آج ظالم بے نام و نشان اور خرد مند سرخرو ہے  ، اور کئی ایسی مثالیں تاریخ کی اوراق میں محفوظ ہیں ،ہمیں انکی نقش قدم پر چلنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ایک انسانیت پرست معاشرے کی حصول کے لیے ہمیں سنجیدگی سے عقلی بنیادوں پر معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے9753846_67b1c06497_o
عقلی استدلال ، منطق اور فکر نو کی حوصلہ شکنی سے آج ہمارا معاشرہ ایک بد بودار جوہڑ کا روپ دھارچکا ہے۔ جہاں انسان تسخیر کائنات میں سیاروں پر قدم جما چکا ہے وہاں اس معاشرے کا غلیظ انسان نما جانور نفسانی خواہشات کی تکمیل  کے لئے مردہ خوری اور قبروں میں  گھسا ہوا ہے ۔ دنیا نئی علم کی کھوج میں ہے اور ہم تاریخ کی گھپاوں میں دست و گریبان ہیں۔ انسان فطرت آزاد پیدا ہوا ہے مگر اس معاشرے میں ہر کہیں پا زنجیر ہے ۔ عقلی و فکری، سماجی و معاشرتی قیود نے انسان کی حقیقی شخصیت کو فنا کر دیا ہے ۔
یہ آذادی اظہار رائے ہی کی مرہون منت ہے کہ انسان نے اپنی خواب و خیال کا اظہار کر کے ذریعے ترقی کے بام عروج پر پہنچا ہے اور اگر  آذادی اظہار رائے اور فکری آذادی کو پابند سلاسل کرنے کوشش کرتے رہنے گے تو معاشرہ مزید زَبُوں حالی کا شکار ہو گا ۔  محبت نفرت میں بدلے گا ، معاشرہ  معاشرہ فساد و بگاڑ کی آماج گاہ بن جائَے گا۔

مرغیوں کے بہکاوے میں مت آئیں

یہ کہانی آپ نے ضرور سنا یا پڑھا ہو گا کہ ایک مرتبہ ایک کسان نے عقاب کے انڈے کو اپنے فارم میں لے آیا اور اسے اپنی مرغیوں میں سے ایک کے ڈربے میں رکھ دیا ۔ ایک دن اس انڈے میں سے ایک پیارا سا ننھا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ وہ زندگی بھر اپنے آقا کا دیا ہوا دانہ دنکا چگتا رہا اور پوری زندگی اس صحن کی مٹی میں لٹ پٹ ہو کر کیڑے مکوڑے کھاتا رہا۔

ایک دن باقی مرغیوں کےساتھ کھیلتے ہوئے اس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اڑتے دیکھے۔اور حسرت سے ایک آہ بھری اور خود  سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ’’کاش میں بھی ایک عقاب پیدا ہوا ہوتا اور آسمان کی ان بلندیوں کا پرواز کرتا ۔  جب اس  خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں پر عیان ہوا  تو انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا تم ایک مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اڑنا نہیں۔تم ایک پالتو حقیر پرندہ ہو، تمہارا کام آقا کا دیا ہوا سستا اناج کھانا اور انڈے دینا ہے ۔ یو ں اگر باغیانہ روش اختیار کرو گے تو نہ  صرف تم لقمہ اجل بنو گے بلکہ ساتھ ساتھ ہمیں بھی زندان نما پنجرے کی صحبتیں سہنے پڑئنگے۔ یہ سن کر اس عقاب نے اڑنے کی حسرت دل میں دبائے مرغیوں کی طرح جیتا رہا، راہ چلتے جس کسی نے بھی خیرات میں جو دانہ ڈالا چگتے اپنی حسرتوں پہ روتا رہا  اور ایک  دن ہوا یوں کہ ایک دانا و بینا شخص کا یہاں سے گزر ہوا ۔ دیکھتا کیا ہے  کہ ایک شاہین مرغیوں کے ساتھ اپنی شناخت بھولے دانے چگ رہا ہے ۔ دانا شخص اس عقاب سے گویا ہوا ۔

آخر تمہیں ہوا کیا ہے تم ایک عقاب ہو،تمہارے اندر خدا نے پرواز کی صلاحیت رکھا ہے ،تم  سمندر میں غوطہ مارنے کی صلاحیت رکھتے ہو، تمہارا خوراک تمہاری محنت و خون پسینے کا حاصل تازہ غذا ہے اور تم پرندوں کا بادشاہ ہو۔ تم ایک آذاد مخلوق ہو جسکا نشیمن بلند و بالا پہاڈوں کی چوٹیاں ہے ، تم کہاں ان مرغیوں کی باتوں آئَے ہو،  چل میں تجھے پہاڈ کی چوٹی پر لےجاتا ہوں جہاں تیرے آباواجداد کا نشمین ہے۔ تجھے اس پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دو گا اگر تو ڈر گیا تو زمین سے ٹکرا کر مر جاوگے اور اگر ہمت کی توبادِ مخالف تجھے آسمان کی بلندیوں میں لے جائے گا۔تجھے تیرا کھویا ہوا شناخت مل جائَے گا۔

عقاب یہ باتیں سن کر پہلے تو ڈر سا گیا کہ کہیں دوسرے مرغیوں کو پتہ چلے تو وہ اسکا شکایت کہیں اس ظالم کسان سے نہ کرئے جو اسے زندان میں ڈال کر ظلم کی انتہا کرے گا۔ مگر عقابی روح جو ایک بار اس میں بیدار ہوئی تو کہاں کا ڈر اور کس کا ڈر، اور اس دانا، ںڈر و بہادر آدمی کے ساتھ چل دیا، اس عقلمند انسان نے اسے پہاڈ کی چوٹی سے پھنک دیا، عقاب تیزی سے زمین کی طرف گرنے لگی لیکن جونہی اپنے پر کھول دیَے آسمان کی بلندی کی طرف اڈان بھرنے لگی ۔

اگر دیکھا جائے تو ہماری قوم کا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے قدرت نے جس احسن تقویم پر انسان کو جن خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ انسان اس معاشرےمیں کہیں ڈونڈھنے سے بھی نہیں ملتا۔ نہ جانے اس  سیدھی قامت اور دو ٹانگوں سے چلنے والی اس مخلوق کو کس قسم کے رائلر مرغی کے زیر سایہ پرورش  ملی ہے کہ جس کے ہاتھ سے علم کی دریا بہتی تھی۔ جس کے پیر ہزاروں میل کا راستہ چل کر بھی نہیں تھکتے تھے۔ جس کے خیال اور ہمت ایسی کہ وہ  بادلوں سے اوپر سیاروں تک کو تسخر کرنے کی جستجو میں رہتے۔اسکی تیراکی ایسی  کہ سمندری مخلوق  دھنگ رہ جاتے۔ اس کی آنکھیں ایسی کہ غیب کی رازوں کو نمایاں کرئے اورانکے کان ایسے ستاروں پر پہنچے انسانوں سے ہم کلام ہو جائَے ۔کبھِی پہاڑوں کے اندر سرنگیں بنائے تو کبھی آبشاروں کو ہوا میں معلق کر دے۔ کبھی سمندروں کا رخ موڈے تو کبھی ریگستانوں کو سیراب کرے ، وہ انسان آج مرغیوں کی طرح سبسڈی گندم کھانے پہ مجبور ہے  وہ انسان آج بنیادی انسانی حقوق سے محروم اپنی ہی صحن سے  آسمان پر ان ہی جیسے انسانوں کی اڈان دیکھ کر خواہشوں کی آگ میں جلنے ہر مجبور ہے ۔ وہ انسان آج خوف و ہراس میں مبتلا سہما ہوا ہے۔ ایک دنیا جہاں انسان تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہے وہاں اس معاشرے کا انسان ذہنی غلامی کے اشکنجےمیں جھکڑا ہوا ہے۔ اس معاشرے  کی ذہن سازی بھی انہی مرغیوں کی طرح ہوئی ہے جو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ایک جرم سمجھتے ہیں، انہیں دانہ چکنا سکھایا گیا ہے۔انکی شناخت کو مسخ کر کے انہیں فارمی مرغی بنا دیا گیا ہے۔

تو ایسا میں کیا کیا جائَے ؟ایسے میں ایک ایسا باہمت ، ںڈر ، بے باک ، بہادر، دور اندیش ، عاقل، انسان پرست، رہمنا کی ضرورت ہے جو ہمیں بھِی اس عقاب کی طرح  خود شناس بنائَے ، جو اس معاشرے کو خودار بنائَے ، اور دانا و بہادر کسان سر زمین گلگت بلستان کا سپوت بابا جان ہے جو ہمیں مرغیوں کی بہکاوئے سے نکال کر ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائَے گا۔  وہ جو ہمارے نمائندے بنے اسمبلیوں میں بٹھیے ہیں وہ پالتو فارمی مرغیاں ہے جن کا مطلب  و مقصد صرف دانہ چگنا ہے،

اگر آپ ذی شعوروعقلمند  انسان  ہیں اور آپ کے خواب آپکا زندہ ضمیر  تسخیر کائنات کے ہیں  آپ کو محنت و حلال کی روٹی کھانے کو جی چاہتا ہے عقلی عروج چاہتے ہیں انسانی عظمتوں کا ادراک چاہتے ہیں امن و انصاف چاہتے ہیں ۔ اپنے بچوں کو کرپشن و رشوت  سے آذاد روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ اپنی کھوئی ہوئی شناخت چاہتے ہیں  تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیئے، کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیئے کیونکہ انہوں نے آپکو بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنی ووٹ کا صیح استعمال کرئے ، اور یہ حکم خدا وندی  بھی ہے کہ إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا  ما  بأنفسهم یعنی یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔

یہ کالم پامیر تائمز ،پھسو تائمز، اوررپوٹر ٹائمز پر بھی شائع ہوا

نوروز نام ہے خود احتسابی کا

کوئی بہار سے بھلا منہ کیسے موڑسکتا ہے۔جناب یہ  بہار کا موسم ہی تو ہے جو ہر سال ایک نیا پن لے لاتا ہے۔ زمین ایک نئی زندگی پاتی ہے تو ادھر درختوں پر پھولوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ سورج اور زمین سمیت اس پورے نظام شمسی میں ایک  ارتقاء یا تبدیلی   جنم لیتا ہے۔ سردی سے ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﮯ ﺭﻭﺯ ﻭﺷﺐ کے ایام  بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں تو  روئے زمین پر بسنے والے تبدیلی پسند لوگ  QIZILLزندگی میں آنے والی تمام تبدلیوں کو اجتماعی طور پر نوروز سے منسوب کر کے اس تبدیلی کو  مناتے ہیں۔

جناب ۱ اہل فار
س  اسے عید کے طور پر برسوں سے مناتے ہیں کہتے ہیں مشہور ایرانی بادشاہ زرتشت کے دور میں نوروز کو خصوصی مقام حاصل ہوا۔ زرتشت کے دور میں نوروز چار قدرتی عناصر پانی ، مٹی ، آگ اور ہوا کا مظہر اور علامت سمجھا جاتا تھا۔  ۔مغربی چین سے ترکی تک،  ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان،پاکستان کے علاقے اور شمالی عراق کے لوگ نوروزبڑے اہتمام سے منا تے ہیں

 تو کچھ لوگوں کا دعویٰ ہیں کہ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت و وصایت کا رسمی اعلان اسی دن ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دن منجی عالم بشریت  یعنی امام مہدی کے ظہور فرمائیں گے۔  تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار سورج کی روشنی اسی دن سیارہ زمین پرپڑی۔جناب وہ نوروز کا دن ہی تھا جس دن طوفان نوح تھم گیا۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضر ت موسی نےعصا کا معجزہ  دیکھایا اور فرعون کے جادو گروں کو مات دی۔۔ تو جناب عالی ۱ ان دعوں کا ایک بہت بڑی لیسٹ ہے۔ ۔ ۔  ان میں کتنی صداقت ہے اس سے مجھے کوئی لین دین نہیں ۔۔ مگر جناب میں زندگی کے ہر شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلی کا خواہاں ضرور ہوں ۔

 بلا کوئی کیوں نہ ہو کیونکہ زندگی ۔۔ تبدیلی کا دوسرا نام  ہی تو ہے۔ ۔ اور یہ مثبت تبدیلی ہی ہے جو مجھے اور آپ سب کے لئے وجہ مسکراہٹ ہے۔ تو دوستو مسکراتے  رہیــــــے ،خوش رہیــــــے،شــــاد رہیــــــے آباد رہیـــــــــے ۔۔

اور یہی نو روز کا پغام بھی ہے جو مجھے اور آپ کو ایک لمحے کے لئے غور و فکر کرنے کا موقعہ دیتا ہے۔یہ سوال کرتا ہے  کہ اے اہل خرد ، اے حضرت انسان، نہ جانے تو کتنے ایسے مذہبی، ثقافتی و دنیاوی تہوار ازل سے  مناتے آ  چلے ہو، مگر کچھ ہی لوگ ہیں جنہوں نے ان رسومات سے حقیقی خوشی و شادمانی حاصل کی ۔ ذرا تو یہ بتا کہ نہ جانے تیرے زندگی میں کتنے  اس طرح کے ماہ وسال آتے اور جاتے رہتے ہیں اور  اس کا تجھے احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ میرے عزیز تہوار اچھے کھانے ، نئے کپڑے زیب تن کرنے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کا نام نہیں  بلکہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر سوچنے کا نام ہے  آنے والے سال کو کس طرح کارآمد اور قیمتی بنا سکتے اس پر کچھ  غور وفکر کرنے کا ایک موقعہ ہے۔ میرے رفیق ، یہ تہوار مادی و معنوی  خود احتسابی  کرکے سال نو کیلئے منصوبی بندی کا  نام ہے۔ یہ تہوارت  ایک فکری لمحے کا نام ہے۔ یہ ہمیں بغیر ٹہرے گزرتے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی گھنٹی ہے، یہ ایک ایسی فکری لمحے کا نام ہے جو انفرادی و اجتماعی بالخصوص قوموں کی زندگی میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر زندگی کے یہ لمحات چند گھنٹوں کی مادی خوشی کی نذر ہو، فضولیات اور خرافات میں گزارے۔ اور اگر ہم اپنے گزرے ہوئے لمحات کے آئینہ میں اپنے عمل کا محاسبہ نہ کریں  تو جناب سمجھ لیجے گا۔ کہ یہ ایک لمحہ کی بھول آپ کے کارموں پر پانی پھیر سکتی ہے جبکہ اس ایک لمحے کا صیح استعمال نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر قوموں کی زندگی سنوار سکتی ہے ۔ ۔ تو بس وہی لوگ بازی لے جاتے جو ماہ وسال کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ تو نوروز ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم خود احتسابی کر کے ایک نئی امنگوں بھری مستقبل کی طرف روان دواں ہوں

تودوستو ہم بات کر رہے تھے نوروز کی  یعنی شمسی سال کا  نیا دن یا پہلا دن جو کہ علامت ہے تبدیلی کا، بہار کی آمد کا موسم سرما کی موت اور فطرت میں خوبصورت رنگ بھرنے کا، خواب و غفلت سے انسان کے بیدار ہونے کا،سوچ و فکر کے نتجے میں جاگ جانے کا ، فطرت سے متصل ہوجانے کا،تو آیئے زندگی میں آنے والی ہر اس فطری تبدیلی کا خیرمقدم کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کی قدر کرے، ہر لمحے کو غنیمت جان کر اسے اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسل کے لئے بیش قمیت بنائے۔

سال نو آپ اور آپ کے خاندان ۔ ملک و ملت میں خوشیوں کا بہارلے آئے، ملک و ملت میں موجود گوناگونی مثل باغ و گلشن بن جائے۔ آمین

یہ کالم پامیر تائمز پر بھی شائع ہوا