سندھ یاترا اور قاسم علی سائیں

کراچی کے بعد حیدرآباد صوبۂ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ 1935ء کی دھائیوں تک یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ رہا۔ شہر حیدر آباد کی سڑکوں پر کراچی ہی کی طرح گہما گہمی رہتا ہے مگر ایک فرق جو میں نے محسوس کیا وہ یہ کہ اس گہما گہمی میں بے چینی ، خوف ، شور،گلیوں اور بازاروں میں کہیں رنگ و نسل یا ذات پات نمایاں نظر نہیں آتا۔حیدر آباد سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی لہلہاتے کھیت اور فقیرانہ ،درویشانہ یا یوں کہیے کہ بھگتی انداز جھلکتا لوگ روڈ کنارے مل جائنگے۔ کچھ دیر کو یوں لگتا ہے کہ یونان کے مشہور فلسفی دیوجانس Diogenes کی روح کی کاپیاں یوں سڑک کنارے آ بیٹھے ہیں۔ مگردونوں کی فلسفہ زندگی میں فرق ہے ۔

3
میرے دوست سہیل عالم اور کزن سجاد علی نے سب سے پہلے تو breeze fish point کے گرلڑ مچھلی کھلا کرحیدر آباد کی سرمئی شام میں اور رنگ بھر دئیے ۔ اگلے دن سہیل عالم کے ساتھ اندرون سندھ کی یاترا پر سلطان آباد نامی گاوں پہنچ گئے،سلطان آباد سر آغاخان سوئم سلطان محمد شاہ کے نام سے منسوب ہے 1938 میں بحکم سر آغاخان سوئم مختلف علاقوں سے لوگ آکراس گاوں کو بسا لیا۔ یہ گاوں اور یہاں کے لوگ قابل تعریف ہیں انکی مہمان نوازی ، کشادہ دلی ، سادگی اور صفائی و بے تکلفی قابل دید ہے یہاں ہمیں قاسم علی سائِیں ملے ۔ رسمی تعارف کے بعد انہوں نے ہمیں اپنی گھر پر دعوت دی۔ اس نفسا نفسی کے دور میں انسان دوست قاسم سائیں جیسے لوگوں کا ملنا محال لگتا ہے ۔ ان سے ملنے کا بعد ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم انہیں صدیوں سے جانتے ہیں قاسم سائیں اور اماں جس طرح فیاضی کا مظاہرہ کیا شاید ہم نہ کر پائے۔ کھانا کھا کے وہاں سے نکلے تو انہوں نے ہمیں سندھی ثقافت کا سنگھار اجرک پہنایا۔ جسطرح اجرک سندھی ثقافت کی ایک خوبصورت پہچان ہے اسی طرح یہاں کے باسی اپنی مخصوص لب و لہجہ ، انداز بیان ، موسیقی،تصوف اور سندھی ملبوسات میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ، نئی نسل میں تصوف کی وہ چمک نظر نہیں آتی جو انکے آباو اجداد میں نظر آتی ہے،

This slideshow requires JavaScript.

شام کو ہم مجیرلیاقت علی صاحب کے ہاں دعوت پر گئے ان سے میری پہلی ملاقات تھی ۔سجاد ، سہل عالم ، اور المعروف ڈاکٹر صاحب نے مجیر صاحب کی کمپنی بہت انجوائے کیا۔ لیاقت صاحب سے مل کر میرا وہ تاثر ٹوٹ گیا جو کہ عام طور پر ایک فوجی کے بارے میں ہوتا ہے ۔ لیاقت بھائی کو میں نے روشن خیال ، ادبی اور منطقی سوچ کے حامل پایا۔ معاشرے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔ دقیانوسی تصورات معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے ۔انکے ساتھ سندھی بریانی کے ساتھ مسالہ دار گفتگو میں مزا آیا ۔ یوں رات دس بجے کے قریب میں واپس کراچی ی طرف روانہ ہوا ۔

مرحوم سلطان کریم ایک خاموش خدمت گار

ہر پل مدد اور خدمت کے لئےکمر بستہ چیرمین سلطان کریم سے کراچی میں مقیم ہنزہ، گلگت ، غذر اور چترال کا ہر فرد واقف ہے ۔ سیاسی و سماجی خدمات میں انہوں نے ہر ممکن لوگوں کی مدد کی ، پچھلے دنوں موٹر سائیکل حادثے میں جان بحق ہوئَے ، اللہ انہیں جنت الفردوس اور لواحقین کو صبر وجمیل عطا کرے ۔
سلطان کریم ایک نایاب ہیرا اور قوم کا ایک اعظیم سپوت تھا، انکی کمی شاید ہی کوئی پورا کر پائے ۔ خدمت انکی رگ رگ میں رچی تھی، وہ ہمشہ خاموش خدمت کے قائل تھے اس نے کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش تک نہ کی ۔ انکے ارادے بلند اور قومی خدمت کے لیے ہروقت تیار تھے ۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں محو رکھنا ہو معاشرے کی تعمیر میں ہر وقت اپنا حصہ ڈالتے رہنا ، مسائل کی تلاش میں کوشاں رہنا ، ملی یگانگت کے لیے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا ،مختلف سیاسی پارٹیوں کی پلیٹ فورم پر لوگوں کے مسائل اجاگر کرنا سلطان کریم کا خاصہ تھا ۔مرحوم سلطان کریم فرینڈز آف ہنزہ کے بانی تھے جسے نوجوانوں کومثبت سرگرمیوں مصروف رکھںے کے لیے بنایا تھا ۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ن کے کارکن تھے اور انہوں نے اس پارٹی کی وساطت سے میٹرول کالونی کے مسائل حل کرنے کی از حد کوشش کی ۔ سلطان کریم نیک دل ، خوش مزاج اور نیک سیرت انسان تھے ، اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے

23244455_1063904700418230_2118702414772939474_n
مرحوم سلطان کریم کی بے وقت اور نا گہانی موت نے جہاں کئی لوگوں کو سوگوار اور غم زدہ کیا وہاں ان تمام موٹرسائیکل چلانے والوں کو تنبُّہ بھی کیا ہے کہ معمولی سی بھی بے پرواہی اور غفلت انسانی جان کا ضیاع کا سبب بن سکتا ہے ۔ موٹر سائیکل حادثے میں اب تک ہم نے کئی قیمتی جانوں کوگنوا دیا ہے ااگر ان تمام حادثوں کا جائزہ لے تو ان سب میں ایک چیز یکساں ہے اور وہ ہے رات میں موٹر سائیکل پر سفر ۔ رات 12 کے بعد بڑی گاڈیاں شاہراہوں پر نکلتے ہیں ساز و سامان سے لدے ان گاڈیوں کی موجودگی میں روڈ پر موٹر سائیکل چلانا انتہائی خطر ناک ہے
آپ تمام موٹر سائیکل چلانے والے حضرات سے التماس ہے خصوصا کراچی میں رہنے والے نوجوان جو رات کو ہاے وے پر یا انڈسٹریل ایریاز سے سفر کرتے ہیں اپنی قیمتی جانوں کا خیال رکھے۔