مرگ انسانیت

valture and child

یہ وہ دل سوز، پریشان کن، اور روح انسانی کو کانپ دینے والی تصویر ہے جسے کیون کارٹر نامی ایک صحافی فوٹو گرافر  photojurnalist نے 1939 کو south suden میں  بدترین قحط کے دوران یہ شاہکار تصویر بنائی جس میں بھوک سے نڈھال بچہ قریب موجود Unite Nations food camp کی طرف بڈھنے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا ہے جبکہ اس کے پیچھے ایک گدھ اسکی موت کا انتظار کر رہی ہے تاکہ اسے اپنا خوراک بنا سکے۔( کیونکہ ہماری قسمت کے مالکوں کی طرح گدھ کی فطرت میں زندہ یعنی حلال  کا  کھانا شامل نہیں ہے۔) (Kevin Carter) کیون کارٹرکو اس دردناک  لمحات کو تصو یر میں قید کرنے پر پلٹزر انعام دیا گیا۔مگر بد قسمت صحافی نے اس بچی کی مدد کئے بغیر  گدھ کی خوراک بننے کے لیے چھوڑ آیا ۔جب اس پر لعن طعن  شروع ہوئی تو 3 ماہ بعد اس نےخود کشی کر لی۔
آج  بھی ہم ایسے ہزار ہا زندہ تصویرِں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ ٹی وی پر ایسے ظلم وجبر کے انگنت کہانیاں دیکھتے اور سنتے ہیں مگر مجال ہے کہ کوئی اثر پڑے ۔ انسانیت مر چکی ہیں ۔اخلاقی پستی اور ذلت آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ انسانیت سوز اور دل دہلا دنیے والے حادثے اور سانحے روز کا معمول بن چکے ہیں یہ حالات  ساری انسانیت کے منہ پر طمانچے کی حیثیت رکھتی ہے
ہر وہ معاشرہ جہاں انسان انسان نما گدھوں کی خوراک بن رہے ہیں ۔ہم سب کیلئے خصوصی پر  انسانیت کے عالمبراد اداروں اور سربراہاں  کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آللہ ہم سب کو دور حاضر کے گدھوں سے محفوظ رکھے امین
قیزل

Advertisements

علم کی چاہ

ارسطو! ایک خدمت گار لڑکے سے مشہور فلاسفی کیسے بنا؟ تاریخ کے جھروکے سے ایک حیرت انگیز واقعہ
یہ سوا دوہزار سال پہلے کا ذکر ہے ، مشہور یونانی فلسفی افلاطون نے ایتھنز میں اکیڈمی کھولی جہاں وہ امراوشرفا کے لڑکوں کو تعلیم دینے لگا۔ جب اکیڈمی میں خاصی چہل پہل ہوگئی، تو اس نے روزمرہ کام کاج کی خاطر ایک اٹھارہ سالہ لڑکا بطور خدمت گار رکھ لیا۔ وہ لڑکا چائے پانی لاتا اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرتا تھا۔ یہ اکیڈمی صرف امرا کے لیے مخصوص تھی۔ چنانچہ لڑکا اپنا کام کرچکتا، تو باہر چلا جاتا۔ اُدھر جماعت کے دروازے بند کیے جاتے اور افلاطون پھر طلبہ کو تعلیم دینے لگتا۔ وہ لڑکا بھی دروازے کے قریب بیٹھا اندر ہونے والی باتیں سنتا رہتا۔
دو ماہ بعد افلاطون کی جماعت کانصاب ختم ہوگیا۔ اب حسب روایت ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں شہر کے سبھی عالم فاضل شرکت کرتے تھے۔ طلبہ کے والدین بھی شریک ہوتے ۔تقریب میں جماعت کے ہرطالب علم کا امتحان بھی ہوتا، وہ یوں کہ ہرایک کو کسی موضوع پر سیرحاصل گفتگو کرنا پڑتی۔ چنانچہ اس تقریب کا موضوع ’’علم کی اہمیت ‘‘ تھا۔ افلاطون کی جماعت سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم ڈائس پہ آتے، موضوع کے متعلق کچھ جملے کہتے اور پھر لوٹ جاتے۔ کوئی طالب علم بھی ’’علم کی اہمیت‘‘ پر متاثر کن تقریر نہ کرسکا۔ یہ دیکھ کر افلاطون بڑا پریشان ہوا۔

اچانک خدمت گار لڑکا اس کے پاس پہنچا اور گویا ہوا ’’کیا میں تقریر کرسکتا ہوں؟‘‘ افلاطون نے حیرت اور بے پروائی کی ملی جلی کیفیت میں اسے دیکھا اور پھر لڑکے کی درخواست مسترد کردی۔ اس نے کہا ’’میں نے تمہیں درس نہیں دیا، پھرتم کیسے اظہار خیال کرسکتے ہو؟‘‘ لڑکے نے تب اسے بتایا کہ وہ پچھلے دو ماہ سے دروازے پر بیٹھا اس کا درس سن رہا ہے۔تب تک افلاطون اپنے تمام شاگردوں سے مایوس ہوگیا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے نوجوان کوحاضرین کے سامنے پیش کیا

لڑکے کو تقریر کرنے کا اشارہ کیا۔ لڑکا بولنا شروع ہوا، تو آدھے گھنٹے تک علم کی فضلیت پر بولتا رہا۔ اس کی قوت گویائی اور بے پناہ علم دیکھ کر سارا مجمع دنگ رہ گیا۔ تقریر بڑی مدلل اور متاثر کن تھی۔ جب لڑکا تقریر مکمل کرچکا، تو افلاطون پھر ڈائس پر آیا اور حاضرین کو مخاطب کرکے بولا ’’آپ جان چکے کہ میں نے پوری محنت سے طلبہ کو تعلیم دی اور دوران تدریس کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی۔ میرے شاگردوں ہی میں سیکھنے کے جوہر کی کمی تھی، اسی لیے وہ مجھ سے علم پانہ سکے ۔ جبکہ یہ (لڑکا) علم کی چاہ رکھتا تھا، لہٰذا وہ سب کچھ پانے میں کامیاب رہا جو میں اپنے شاگردوں کو سکھانا چاہتا تھا۔‘‘

۔آج دنیا اس “لڑکے “کو “ارسطو “کے نام سے جانتی ہے جس نے فلسفے سے لے کر سائنس تک میں اپنے نظریات سے دیرپا اثرات چھوڑے۔ اس کا شمار نوع انسانی کے عظیم فلسفیوں اور دانش وروں میں ہوتا ہے

ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﮔﯽ؟

chikn citens  ﮐﺒﮭﯽ تو آپ نے ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﻟﯿﻨﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺟﺐ قصاب ﺍﯾﮏ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍلتا ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮑﺪﻡ پنجرے میں ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﺑﺮﭘﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻮ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ان میں سے کچھ  اپنی جان بچانے کیلئے ایک دوسرے کے پیچھے چھپ جانے کی ناکام کوشش بھی کرتے ہیں
ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ہنگامہ اور ﺷﻮﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﺮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ سکوت اورﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﮔﯽ؟
یہ حال  صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر
بسنے والے شہریوں کا ہی نہیں بلکہ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻢ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﻮ
ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮍﮬﺎﺋﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺗﮩﺲ ﻧﮩﺲ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺬﻣﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺘﯽ ﮨﻨﮕﺎﻣﮧ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﭘﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﮭﻦ ﮔﺮﺝ ﻣﯿﮟ ﺩﺏ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﮧ “ﺍﮔﻠﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺲ ﮐﯽ ﮨﻮﮔﯽ؟؟