بدلا نام ،گم ہوئی تاریخ گلگت بلتستان

کرنل ڈین کے مطابق کسی قوم کو بغیر جنگ کے غلام بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ذہن کنٹرول کیئے جائیں۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان۔ جب تک کسی انسان کا ذہن آزاد ہو گا وہ غلامی کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی عوام کا زندگی کے بارے میں نظریہ اور اقدار اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے تو وہ عوام کی سمت بھی کنٹرول کر سکتا ہے اور انہیں بڑی آسانی سےغلامی یا تباہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ اس قوم کو غلام بنانے کے لئے لازمی ہے اس قوم کی جڑوں کو کاٹ دیا جائَے یعنی انکی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرئَے یا انہیں انکی تاریخ سے دور رکھا جائے

تاریخی معلومات کو دو طریقوں سے مسخ کیا جاتا ہے ایک غیر ارادی طور پر جسے روایات کے ذریعے اگلی نسل کومنتقل کیا جاتا ہے اور دوسرا ارادی طور پر جسے کسی خاص منصوبے کے تحت، جان بوجھ کر مسخ کیا جاتا ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ کو نئے نسل تک حقیقی حالت میں پہنچانے سے گریز ارادی طور پر کیا گیا ۔ اسے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محض غلط فہمی یا لا پرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں مگر اس عمل میں شدت اس وقت آجاتا ہے، جب ایک شخص یا گروہ اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرتے ہیں ۔مثلا گلگت بلتستان کی تاریخ کو پاکستان اور کشمیر کے سیاسی و مذہبی رہنماوں نے اپنے مفادات کے خاطر تاریخ کو مسخ کرتے آرہے ہیں جس میں گلگت بلتستان کے نام نہاد سیاسی و مذہبی مفاد پرست لوگ بھی شامل ہیں۔ ہمیں جان بوجھ کر تاریخ سے دور رکھا جا رہا ہے، ہمیں ذبرستی کبھی پاکستان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر کا تو کبھی ہندوستان کا ،ہماری تاریخی کارناموں کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ، ہمیں وہ اپنی تاریخی کارنامے ، اپنے سیاسی و مذہبی قائدین کے قصے، اپنی ثقافت و روایات ، اپنے طرز معاشرت ، وہ اپنی زبان ، اپنی ادب وغیرہ وغیرہ پڑھتاتے ہیں ، پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں ہم نے اپنی زبانوں کو نہیں پڑھا، ہم نے اپنے روایات و ثقافت کا علمی تشہیر نہیں کی ، ہم اپنے طریقہ نظام حکومت سے نا واقف ہیں، ہمیں اپنے راجاوں و میروں کی تاریخ کو مسخ کر کے بتاایا گیا یا انکے صرف کمزریوں کو نما یاں کر کے ان سےنفرت پیدا کرایا گیا ۔

اول تو ہمیں علمی دنیا سے دور رکھا گیا اور اگر کہیں درسگاہیں ، اسکول، اور آذادی کے نصف صدی بعد کوئی یونیورسٹی بنایا بھی گیا تو ان مِیں طالب علموں کو غیر ممالک کے قدیم بادشاہوں کے حالات، میدان جنگ کے نقشے، اور واقعات پڑھائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے تو ہم ہندوستان ، عرب و عجم کے قدیم بادشاہوں کے حالات ایک ایک کرکے بتادئنگے لکین مادر وطن کے میروں و راجاوں، جنگ آذادی کے اعظیم رہنماوں کے متعلق پوچھو تو گونگے ہو جاتے ہیں یا کچھ حتمی علم نہیں ہوتا۔ انگلستان و برطانیہ کے بادشاہوں ۔رچرڈ، چارلس، اور جیمز خاندان کے حالات پوچھو تو بڑے فخر سے فرفر بتائے گے لیکن راجہ بغیر تھم، شری بدت، مغلوٹ، گرکس، میر جمال خان، ،خاندان تراخان و مقپون، علی شیر ایچن ، آزادی گلگت بلتستان کے نامور رہنما کرنل مرزا حسن خان وغیرہ کے بارے میں پوچھو تو لاعلمی کا اظہار کرئنگے۔ ہندوستان ،انگلستان و عرب کے قدیم باشاہوں کے کارناموں کا ،طرز سلطنت، عدل پروری، اور اصلاحات کے مداح ہونگے لیکن رانی جوار خاتون کی شجاعت،انصاف، رعاء پروری، اور اصلاحات سےکوئی فرد واقف نہیں ہوگا۔ اور دور حاضر میں ہم بھٹو، عمران خان، میاں ، اور الطاف و ذر کے شعلہ بیانی پر واہ واہ کرینگے لکین شہید وطن مرحوم حیدر شاہ رضوی، نواز خان ناجی، بابا جان،منظور پروانہ وغیرہ جیسے ںڈر سپوت کے فکر انگیز تقاریر سن کر خاموشی سادھ لیتے ہیں

ایسا کیوں ہے ؟ کسی قوم انکی تاریخ سے کیوں دور رکھآ جاتا ہے ؟؟ ہمارے اندر ایسا راویہ کیوں پیدا ہوا ہے ؟؟ایسا اس لیے ہیں کہ ہم تاریخ شناس نہیں اس لئے ہم باآسانی پنجابی، سندھی، پٹھان وغیرہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ہماری اپنی کوئی نمایاں پہلو نہیں رہا ہے ہمیں کالونیل حکومتوں کے ذہنی غلام بنانے کے لئے تاریخ سے دور رکھا گیا ہے، یا ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ سیاسی خاندانوں کی تبدیلی کی تاریخ ہے اسکی تاریخ میں کوئی فکر ، خیالات کی گوناگونی اور تبدیلی کی کشمکش نہیں ۔ ہماری تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کا تعلق ماضی سے ٹوٹ جائَے، جب لوگ تاریخ سے بیگانے ہوجائے ، ان میں تاریخ شناسی ختم ہوجائے تو اسکے نتیجے میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ انہیں اپنی شناخت کی کوئی فکر نہیں رہتی ۔ان کے پاس تاریخ سے حاصل کرنے والا کوئی جذبہ نہیں رہ جاتا ۔وہ مکمل طور پر ذہنی غلام بن جاتے ہیں۔

تاریخ شناسی ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں میں شناخت کو پیدا کرتا ہے مزاحمت کا احساس دلاتا ہے، حقیقی تبدیلی کے لئے ذہنوں کو تیار کرتا ہے اپنی مارد وطن کی خدمت انجام دینے کا احساس پیدا کرتی ہے اپنی وطن سے محبت ان میں پیدا کراتی ہے۔ تو وقت حاضر اور دور جدید کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو کھونے نہ دے ، اپنی تاریخ کو آنے والی نسل تک درست انداز میں منتقل کرے، تعلمی اداروں میں اپنی زبان و ثقافت اور تاریخ کو پڑھائے ۔ تاریخ پر ریسریچ کرنے کے مواقعے فراہم کرئے۔حکومت وقت سے یہ امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جس سے قوم کے اندر شعور پیدا ہو۔


وفاقی جماعتوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

مولا مدد قیزل

یہ کوئی بہادر ، عوام دوست ، غریب پرست ، یا ان کا ماضی عوامی خدمت میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ  میرے پڑھے لکھے نوجوان دوست انہیں اس لئے  ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے ، کہیں انکو گورنمنٹ سروس کا کوئی راستہ ملے ۔۔پاک چین راہ داری کا جو سوشا ہے اس میں کہیں کوئی دو چار آنے کمانے کا موقعہ نصیب ہو ۔۔اور وجہ کیونکہ یہ فیڈرل پارٹیز کے کارندے ہیں جو انہیں ترقیافتہ کاموں کے لئے فنڈز دینگے ۔ بس اتنی سی ہے ہمارے سوچنے اور غور کرنے کی حد ؟؟؟ بقول انکے کہ جب حق پرست ، نڈر ، بہادر ، سرزمین گلگت بلتستان کا سپوت نواز خان ناجی صاحب جیت کے اپنے لوگوں کے لئے کیا کیا ؟؟؟  ایک با شعور اور باضمیر ، انسانی جذبوں سے آراستہ و پوستہ فرد کے لئے نواز خان ناجی کا جیت جانا ہی سب کچھ ہے ۔ ان کے لئے امید کا ایک کرن ہے ،شبسنان میں رہنے والوں کے لئے طلوع آفتاب ہے ، کیونکہ انکی زندگی دو وقت کی روٹی نہیں ، انکا مقصد گلے میں زنجیر باندھے بادشاہ کے حکم پر ناچنا نہیں، یہ لذید کھانے کا شوقین نہیں۔ بلکہ انکی روح میں آزادی کی چاہت ہے ، انکی جذبوں میں برابری ، مساوات ، اور انسانی حقوق کی روانی ہے ،

جبکہ پاکستانی  فیڈرل پرست لوگوں کا رویہ افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کی ہے جو سفید فام ظالموں کے خلاف مزاحمت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان ، اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی،کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار انکے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے ۔انہیں نشان عبرت بنا دیتے ۔مگر انسانی ذیست میں رب کائنات نے جو آذادی کے جراثیم رکھے ہیں ان سے کوئی روگردانی کیسےکر سکتا ہے ۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ، مذاحمت کرتا ہے ، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے سہنے  والی جبر و ظلم کو  کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

ںواز خان ناجی کا جیتنا اور انہیں اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کا مدد نہیں کرنا، انہیں اور عوام کو مجبور کرنا ، ہم پر مسلط باشاہوں، حکمرانوں اور غاصبوں  کا شیوہ رہا ہے اور یہ چال ہے کہ تمہیں یہ سب دیکھا کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر دلیر ۔ بہادر اور دور اندیش نوجوان کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ، اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں ووٹ ایک نوکری کی مد نہیں دینی چاہیے ، ہمیں رشتہ دار ، ہم زبان ، اور ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر نہیں دینا چاہیے ۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی اور حال میں درپیش مشکالات، سنحاحات، اورمسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے ، ہمیں ایک روشن آذاد مستقبل کی مد میں ووٹ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ریاستی غنڈا گردی کا جواب سوچ و بچار سے دینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اصلی اور کھوٹے سکوں  میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ووٹ کا صیحی حقدار وہ ہے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی دلانے کی
Published@ GBVotes & Pamirtimes

ہمیں کیسا سیاسی لیڈر چاہیے ؟؟؟

ایک ایسا معاشرہ جہاں ظلم و بربریت عام ہو، جہاں فرقہ واریت کا زہر انسانیت کی رگ و پے میں سریت کر  چکی ہو، جہاں انصاف طاقت کے بل بوتے پر ملے، جہاں دہشت گردی حکومت کی سر پرستی میں یا پھر آنکھوں کے عین نیچے ہورہی ہو، جہاں غریب سہمے اور خوف سے لرز جاتے ہوں ،جہاں نوکریاں مسلک ، علاقے، اور سیاسی تناظر میں ملتے ہوں  جہاں انسان وحشی درندے بنے ہو،  ایک ایسے علاقے میں آپ کو کیسا لیڈر چاہیے ؟؟

ایسا بہارد لیڈر جو اس ظلم و جبر کی خوف ناک  طوفان  سے ٹکرائے جس نے سارا معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لی ہے ۔۔ ۔۔ یا ایسا دور اندیش لیڈر جو ان حالات کامقابلہ نرمی اور دانشمندی سے کرے، یا ایسا لیڈر جو خود غرض ، دھوکے باز اور نادیدہ قوتوں کا کھٹ پتلی ہو ؟؟؟ یا پھر ایک ایسا لیڈر جس کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہو؟؟ یا ایسا لیڈر جو شہرت کا بھوکا ہو ؟؟

 ذرا سوچیے کہ معاشرے کے ان مایوس کن حالات میں آپ اپنی ووٹ کی طاقت سے کیسے لیڈر کو آگے لانا چاہتنے ہیں؟ بتائے کہ ووٹ کسے دیا جائَے ۔ کیا ووٹ نظریاتی بنیاد پر دی جائے ، یا لسانی، علاقائی یا نسلی بنیاد پر دی جائے یا پھر اپنے  “عزیزوں” کو دی جاِئے ؟؟؟ بتائے کہ آپ کے ووٹ کا صیح حقدار کون ہے؟ آخر ووٹ کسے دیا جائَے ؟؟

عصر حاضر کا ہم سے کیا تقاضا ہے ؟ ہمیں کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟ ہمیں کیسا ماحول چاہیے ؟ کیا ہم دوسروں پر فوقیت نہیں بلکہ ہم برابری چاہیتے ہیں ؟؟ کیا ہمیں سوچ و فکر، طرز زندگی، ثقافت ونمدن ، بول چال ،رہن سہن وغیرہ میں گونا گونی چاہیے نہ کہ انتہا پسندی ؟؟؟ کیا ہم ذات برادری، پیری فقیری وغیرہ وغیرہ سے نکنا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم معاشرے کے ہر طبقے میں ہم آہنگی چاہتے ہیں ؟ کیا ہم جدید زمانے سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم دنیا کے آزاد اور ترقی یافتہ معاشرے کے صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔؟؟

اگر ہاں تو یہ سب ایک مخلص ، دیانت دار، صالح اور عقل و فہم سے آراستہ لیڈر ہی کی بدولت ممکن ہے جسے آپ اپنی قیمتی ووٹ کے ذریعے اپنا حمکران چنتے ہیں۔ یہ سب وہ سولات ہیں جن کے تناظر میں آپ کو ایک سیاسی رہنما کا انتخاب کرنا ہے۔ ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ دانشمندی سے فیصیلہ کرنا ہے ۔ ہمیں اپنی کمزریوں  کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، ہمِیں اپنی ذات، انا، خاندان، مذہب ، علاقہ ، زبان،سیاسی وابستگی ، نظریات وغیرہ کو بالائے طاق  رکھ کر فیصلہ کرنا ہے  ہمیں کم از کم  آنے والے دس بیس سالوں کومد نظر رکھ کے فیلصہ کرنا ہے ،ہمیں ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں اتحاد باہمی اور احترام باہمی کو ملحوظ رکہ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔

  ہماری بے بسی کا مذاق  اڑایا جاتا ہے، ہماری بے حسی پر اغیار  ہنستے ہیں۔ کھبی ہمیں بزدل  گردان کر فساد پر اکستاتے ہیں تو کبھِی ہمیں قتل کر کے غدار شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔کبھی ہمارے عقائد میں دراڈیں اور شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی انہی عقائد کو مسلمہ جان کر اسکی دفاع کے لئے مذہبی غنڈے تیار کرتے ہیں۔

یوں نت نیے انداز میں ہمیں آپس میں لڑائَے اور الجھائے رکھتے ہیں۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے ، اپنی دھرتی،سے ، اور اپنے لوگوں سے مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔ اجتماعی استحکام، یگانگت، یکجہتی اور ترقی کیلئے ہمیں تمام انفرادی مفادات کو قوم اور ملی مفادات کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں علاقائی، ذاتی اور نسلی تعصبات اور نفرتوں کو خیرباد کرنے کی ضرورت ہے اور ہم تب ہی ایک حقیقی ، باکرادا، صالح، دلیر، دانشمند، کھرا ، نڈر اورسچا لیڈر منتخب کر سکیں گے۔   تب ہی ہم ایک ایسے لیڈر کے انتخاب میں کامیاب ہونگے جو ہماری امنگوں کا ترجمان ہوگا جو ہماری دلوں کی آواز ہوگا ۔۔ ۔

پس ہمیں ایک ایسے لیڈر چاہیے جن کے پاس ان تمام سولات کا عملی اور مثبت جواب موجود ہو، آئیں اپنی انا اور ذات سے بالا تر ہو کر ایسے لیڈر کو منتخب کرے۔
published@ Pamirtimes