اساتذہ قوم کے معمار

کوئی بھی قوم اور معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم کا حصول استاد کے بغیر ممکن نہیں اساتذہ قوم کے معمار ہیں نوجوانوں کی سیرت اور کردار سازی کا فریضہ سر انجام دیتے آئے ہیں، قوم کے سنوار اور بگاڑ میں معلم کا کلیدی کردار ہے۔۔۔۔۔ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ معاشرے کی تعمیر میں ایک استاد کاکلیدی رول ہوتاہےاساتذہ کرام ہمارے معاشرے کی وہ عظیم ہستی ہیں جو نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ حق بات تو یہ ہے کہ اساتذہ روحانی ماں باپ ہوتے ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت و صفائی کے اصول سکھاتے ہیں بلکہ روحانی بیماریوں سے چھٹکارہ دلا کر معاشرے کا ایک اعظیم فرد بھی بناتے ہیں۔۔ اور انسان کے اندر پنہاں تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کو پروان چڑھاتے ہیں، آج اس قوم کے معمار کے پاس نونہال پود
ہے۔ بلکہ یہ کہوں کی   بیج ہیں جن کو محبت و شفقت کی ذمین میں بو کر اور

 علم کی پانی سے ایک گلستان
۔ تیار کرتے ہیں۔آج ان ننھے منے بچوں کا یہ گلستان اُن کے ہاتھ ہے ۔ اس کی   آبیاری کرنے میں بحیثیت ایک مالی کے  اپنی کوششوں اور کاوشوں سے سنواریں۔ اور مستقبل کو امن کا گہوارہ بنانے کی نوید دے  
۔ ۔کیونکہ ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر بھی ان اساتذہ کے پُرعزم کاندھوں پر بالکل اسی مالی کی طرح ہے

دورے جدید نے ان بچوں کو بھی جدید بنایا ہے اور آج کے بچے کمپیوٹر ذہن کے مالک ہیں ۔ معمولی پیش رفت اور گائیڈ لائن کے بعد وہ سماج کے معتبر اور ذی شعور بچے کہلا سکتے ہیں اگر ایک لائق فائق اور مشفق استاد کے ذیر اثر تربیت پائے۔ آج ان تمام بچوں کا مستقبل ان محترم و مکرم اساتذہ کے
ہاتھوں میں ہیں جو کل کو ایک محقق، سائنسداں، سیاستداں اور متعدد شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین بن کرابھریں گے اگر آج ایک استاد اپنی شخصیت سے طلبا کو متاثر کریںتو وہ ان کیلئے مشعل راہ بنجائے،۔۔۔

 اللہ تمام بن نوع انسان کو ایک مہربان اور مشفق استاد کی سرپرستی عطا فرمائیں۔ 

میں آج ان تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے میری علمی پرورش کی۔ جنہون نے اپنی علم کے
ذریعے انسان شناسی دی۔ جنہوں نے اپنی علم کے ذریعے عقل کو علم سے روشن کرنے کا ہنر سکھایا۔
، اور سلام ہوان تمام اساتذہ پر جو علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن ومنور کرتے ہیں، سلام ہو ایسے اساتذہ کرام پر جو دنیا میں انسانیت ، محبت، امن،اور اخوت کا پرچار کرتے ہیں سلام ہو اساتذہ پر جو علم کی روشنی سےجہالتکے اندھیرے کو ختم کرتے ہیں، سلام ہوجو تاریک زہنوں کو منور کرتےہیں۔۔۔۔

ان تمام ٹیچرذ کو سلام جنہوں نے سرٹ ڈی- جے اسکول 

۔ شاہین اسکول دنیور میں مجھے علمی دنیا سے آشنا کیا۔
مولامدد قیزل

۔

Affirmative Action Plan is required to eliminate discrimination in NGOs

 Affirmative Action Plan is a program or policy of a firms or organizations that aims to eliminate discrimination by providing equal opportunities ,I feel after analyzing the despair educated youth of society that in NGOs and Govt sector the hiring of employees are on the basis of discrimination, which is the reason of violence in community  ..therefore To minimize violence, poverty, and to enhance quality of life it is need of the contemporary society,to develop affirmative action plan in NGOs, the heads of the NGOs must realize that in the past century the selections were on the basis of  Racism, racial discrimination, xenophobia , ethnic, cast, language, etc this is the reason today these NGOs are headed by a single cast, which bring unjust social, economic and political orders, These phenomena mutate, re-invent and continue to manifest themselves in contemporary societies, causing severe psychological scars and perpetuating deep inequality and poverty if appropriate affirmative action plan not taken on time, intolerance in youth will be rise. Which might be creating hindrances for the operations of these NGOs successfully, Therefore, this Programme of Action, is very important and need of the time for the global community in order to succeed…….the youth are willing to serve these NGOs on the basis of merit but unfortunately the ill tradition of hiring system keep them away to do so. Which bring despair in youth…  give your suggestions that how could we eliminate this system to bring equal employee opportunities  in these NGOs