کیسی عید، کہاں کی عید!

 

کیسی عید،کیسی خوشی،،کس بات کی،کس شکرانے کی، کس کامیابی کی،،کس کو عید کی مبارک بادی دے،کس طرح خوشی کا اظہار کریں،،جب رات کی نیندیں قضا ہوں۔ جب تن میں سویاں چھب رہی ہوںجب دل غم سے جل رہا ہو اور چہرہ آنسوں سے تر ہو تو کیسی عید ؟؟

جب مائیں اپنے لخت جگرکے موت پرتڑپ رہی ہوں جب باپ غم سے نڈھال ہو جب بہن بھائی کی چیخیں اور سسکیاں کانوںمیں گونج رہی ہوںتو آپ بتائیں ان حالات میں کیسے عید کی مبارک بادی دی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کیسے عید کی خوشیاں منائیں جو اپنی فرذندوں کا خون سے رنگین ہو۔ جو ساٹھ سال سے پاکستانی عوام ،، حکومت اور مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ظلم و جبر سہہ رہی ہے۔ کیسے عید منائیں جہاں ظلم و جبر، ناانصافی،مکاری، قتل و غارت، رشوت اور کئی دوسری اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہوں، کیسے منائیں عید ۔۔جب ہماری پہچان مٹ رہی ہو،جب انسانیت اور انسانی اقدار مٹ رہی ہو،جب انسانوں کےدرمیان رنگ ونسل، ذات پات،اور سوچ وفکرکے امتیاز پراپنے خداوَں کو خوش کرنے اور اپنی ذاتی اد کیلئے انسانی خون بہا دیا جاتا ہو ۔۔ تو عید کیسے منائیں۔

 یہ وہ خطہ عرض ہے یہ وہ گلگت بلتستان ہے۔جسکو قدرت نے تمام تر نعمتوں سے نوازا ہےیہ وہ جنت نظیر تھا جہاں رنگ برنگ کی ثقافتیں،سوچ وفکر، اور بولیاں سے قمقمےروشن تھے گلگت بلتستان  کو اپنے گوناگونی پر فخر تھا، لوگ بھائی  بھائی تھے کسی فرقے کے بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت اور آدمیت کی بنیاد پر۔ مگر آج فساد کیوں۔۔ یہ وہ شاہرہ قراقرم ہے جس  سے کبھی تیرھویں صدی میں وینس کے ماکوپولو اور پندرھویں صدی کے مشہور عرب تاریخ دان البرونی جیسے شخصیات نے ان راہوں سے گزر کر قدرتی جمال سے لطف اندوز ہوئے تھے۔ اور اج بھی دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس فطری حسن سے ہم کلام ہونے کیلئے بے چین ہے یہ وہ علاقے تھے جن کے پہاڈوں پر پریاں اڈان لیتی تھی اور ان پہاڈون کے دامن میں فقیر اور درویش صفت انسان نے اندھیری راتوں میں عبادات کی کسی ڈر کے بغیر۔

مگر آج کیوں ان علاقوں کے نام سے ہی دہشت پھیلتی ہیں۔کیوں یہ راستے جہنم کا دروازہ تابت ہوئے۔آج کیوں ان راہوں سے گزرنے کیلئے درندے اور جانور بھی اپنے رب کی پناہ مانگتے ہیں۔ کیوں آج ان راستوں پر انسان،طاغوت کے ظلم و جبر کا شکار نظر آتا ہے۔

مگر آج گلگت بلتستان خون سے لہولہان ہے ہرطرف سوگ، غم اور ماتم ہے،معصوم اور بے گناہ انسانوں کا خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ اور آسمان پر خون کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ستم بالاستم یہ ہے کہ ان فرقہ واریت کا شکار ہونے والے معصوم جانوں کا حکومتی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ حکومت ہمیشہ کی طرح طفیل تسلیاں دیتی رہی۔ کوئٹہ سے گلگت بلتستان تک ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے لواحقین سے گورنیمٹ اظہار ہمدردی کرتا اورشہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کرتا۔ مگر اب بھی غلیظ حرکتوں میں مصروف عمل ہے۔ ان ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کی جانے والی احتجاج کو سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ صحافی براری نے نظر انداز کیا ۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا از خود نوٹس لے رہے ہیں ان کی نظر میں ان معصوم مسلمانوں کے قتل عام کی کوئی اہمیت نہیں اور خاموش تماشائی بنے بیٹھیں ہے۔ کیوں ؟؟ جب اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کئی مون نے واقعے کی مذمت کی مگر پاکستانی انصاف کے دعویدار عدلیہ اور سیاسی حکمران بے حس پڑے ہیں۔

کہاں جاتے ہیں یہ دہشت گرد۔ آسمان کھا جاتا ہے یا زمین نگل جاتی ہے۔ یہ کونسے مذہب کے پیروکار ہیں اورکیسی مذہب ہے جس میں خدا کی رضا مندی کیلئے بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے ہیں۔ وہ کیسا خدا ہے جو انسانی خون، جبرو ظلم کے بدلے جنت عطا کرتا ہے۔ وہ کیسا خدا ہے جو زمین پر فساد قائم کرکے اپنا حکمرانی چاہتا ہے،وہ کیسا انسان ہےجس میں وحشیت اور درندگی کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔وہ کیسا انسان ہے جو عقلی تقاضوں سے گر کر حیوانی صفات سے بھی بدتر درجے کے اعمال میں مصروف عمل ہے۔ وہ کیسے اعمال ہیں جن کو احکام خدادندی سے منسوب کر فطری نظام میں فساد برپا کر دیتےہیں

۔یہ اسلام نہیں ہو سکتا،، کیونکہ اسلام سلامتی کا دین ہے، محبت کا دین ہے،، اخوت کا دین ہے،، یہ کونسی مخلوق ہیں جن کے دل ہیںمگر احساس اور جذبات سے عاری ہے جن کے آنکھیں ہیں مگر ان میں نور بصیرت اور حقیقت دیکھنے سے عاری ہے، جن پاس عقل ہے مگر ان پر تالے لگے ہوئے ہیں، دنیا کے کسی معاشرے مین کسی بھی مذہب میں کسی بھی حکومت میں ایسے سوچ اور انسان نما حیوان کیلئے کوئی جگہ نہیں سوائے پاکستان کےجہاں وحشی درندے دنداناتے پھرتےہیں۔

حکومت ان وحشی درندوں کو کیوں نہیں پکڑتی ، حکومت کے جھوٹے دعوئے اور مکاری عوام کو سمجھ میں آنا چاہیے۔ کوئی تیسری طاقت نہیں جب تک ان دہشت گرد عناصر میں اس علاقے لوگ، اس ملک کے باشندے شامل نہ ہو کسی کی کیا مجال کہ وہ سرعام غیر انسانی اور وحشیانہ قتل و غارت کریں۔ اس کی واضح مثال واقعہ سانحئہ علی آباد ہنزہ ہے۔ جس میں متاثرین عطاآباد کے ائی- ڈی- پیز پر گولیاں برسائی گئی۔ اور باپ بیٹے کو مار دیا گیا۔ اس دہشت گردی میں کون شامل تھے؟؟ اس دہشت گردی میں کس کے ہاتھ ہیں ؟؟ سب آپ کے سامنے ہیں۔۔ اس دہشت گردی پر حکومت ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ کا کرراد آپ کے سامنے ہے۔

اب آپ فیصلہ کریں کہ ہمیں کس طرح اپنی جان و مال کی حفاطت کرنا ہیں،۔۔ دشمن کو ان کی برے عظائم میں ناکام کرنے کیلئے مذہب کی سرحدوں سے نکل کر انسانیت کی بنیادوں اور قومیت کے اصولوں پر مل بیٹھ کر دوبارہ رہنا ہو گا ۔۔۔