پانچ فروی مذہبی سامراج اور گلگت بلستان و کشمیر

جس طرح مغربی سامرجیوں اور تاجروں نے ستریویں صدی سے سینکڑوں مشینری ادارے قائم کرنا شروع کی اور مشنریوں کو مشرقی ممالک تبلغ کے لئے بھیجتے رہے عیسائیت کی اشاعت سے اہل مغرب کا مقصد یہ تھا کہ ان ممالک کے لوگوں نے اگر انکی مذہب کو قبول کرلی تو وہ اپنی آقاوں کو اپنا ہم مذہب یا ہم عقیدہ یا ہم مسلک سمجھ کر انکی معاشی لوٹ کھوسٹ کے خلاف احتجاج نہیں کریں گے اس طرح اہل مغرب نے مذہب کےنام پراقتصادی تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کی ۔ اسی لئے جنوبی افریقہ کے ایک سردار نے کہا
“جب سفید آدمی آیا تو اس کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس اراضی اب اس کے پاس اراضی ہے اور ہمارے پاس بائیبل”
گلگت بلتستان سمیت کشمیر کے حالات بھی اس تناظر میں کوئی مختلف نہیں ۔ان علاقوں پر پچھلے 70 سال سے جو بھی مسلط ہے وہ صرف اور صرف مذہبی عقائد کے بنا پر مسلط ہے اور ان علاقوں کے باشندے بھی خاموش اس لئے ہیں کیوں یہ لوگ سمجھتے ہیں یہ انکے ہم مذہب ، ہم مسلک اور ہم عقیدہ اسلامی بھائی ہیں ۔ اور جناب کہتے ہیں کہ الحاق گلگت بلتستان بھی تو اسی مد میں ہوا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ شہر گلگت اور غذرکی مارکیٹوں پر قابض ہمارے سرحد (کے پی کے) کے بھائی اور ریاستی اداروں میں پنجابی بھائی ہیں جنہیں ہم نے صرف اور صرف ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر جگہ دی ہے اور آنے والے وقتوں میں ہنزہ پرسندھی بھائیوں کی راج ہوگی اور ہم برتن مانجتے رہینگے، اسی طرح اگر ہنزہ یا دیامر کا کوئی بھائی اگر نگر میں زمین لینا چاہے توزمین درکنار ایک ڈابہ بھی کھول نہیں سکتا، اسی طر ح اگر ہنزہ میں کوئی چلاسی بھائی بزنس زمین خریدنا چاہیے تو بھی یہی رویہ ملا گا۔ یہ رویہ آپ کو پورے گلگت بلستسان کے لوگوں میں ہر خاص وعام میں ملے گا ۔ کیونکہ ہمیں مسلک پرست بنایا گیا ہے اور یہی ہماری اجتماعی غلامی کا سبب ہے ۔
اہل مغرب اس طریق حکومت سے سرخرو نہیں ہوئے بلکہ بدنام ہوئے اور یہ کوئی قابل قبول طرز حکومت بھی نہیں ، اس لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو یہاں کے باسیوں کے بنیادی حقوق دینے میں انکی عملی مدد کرنی چاہیے ۔ انہیں فکری آزادی مہیا کرنے کے لئے موحول دینی چاہیے ، غلامی کی بیڑیاں ، شکنجے ، زنجیریں اور تعزیریں وقتی طور پر شاید کار آمد ثابت ہوں مگر اسکا دور رس کوئی فائدہ نہیں، یوم یکجہتی گلگت بلتستان و کشمیر کو عملی اور عقلی بنیادوں پر پرکھنے کی ضرورت ہے ۔
ظلم دنیا کے جس حصے میں بھی ہو ہمیں نسلی ، جغرافیائی اور فکری سرحدوں سے نکل کر اس کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرنا چاہیے بلکہ عملی کردار بھی ادا کرنا چاہیےتہذیب یافتہ اور انسانی معاشروں میں ،غلامی کسی بھی صورت قبول نہیں جسمانی ، نفسیاتی ، قانونی اور ذہنی غلامی کے شکنجے میں مقید انسانوں کی آزادی کے لئے سعی کرنا چاہیے، چاہیے وہ کشمیر ہو یا گلگت بلتستان یا دنیا کا کوئی اور خطہ ۔
#Kashimir#GB#Human-rights#Freedom#Humanity#

طبقاتی تہذيب اور سرمایہ داروں کا غلبہ۔۔

ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ تہذیب طبقات میں بٹ جاتی ہے تو خیالات کی نوعیت بھی طبقاتی ہو جاتی ہے اور جس طبقے کا غلبہ مادی قوتوں پر ہوتا ہے اسی طبقے کا غلبہ ذہنی قوتوں پر بھی ہوتا ہے یعنی معاشرے میں اسی کے خیالات و افکار کا سکہ چلتا ہے۔ ۔۔۔۔ 
(سمجھے جناب ،نہیں تو پھر سے پڑھ لے اور باریکی سے پڑھ لے)
اور جب ان عقائد و افکار کے خلاف باغیانہ خیالات ابھرتے ہیں تو حکمران ، اداروں پر قابض سرمایہ دار ان خیالات کا سختی سے سد باب کرتے ہیں ان خیالات کی تبلیغ کرنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن ۔دین و دھرم کا دشمن اور خدا کا بھی قرار دیتے ہیں ۔انکی زبان بندی جاتی ہے انکی تحریروں کو نذر آتش یا قدغن لگایا جاتا ہے۔ اور ضرورت ہو تو جان سے بھی مار دیا جاتا ہے ۔ عصر حاضر میں اگر یہ باغیانہ روش نوجوان اپناۓ تو اسے مالی اقتصادی طور پر اتنا کمزور کیا جاتا ہے کہ اپنی دو وقت کی روٹی کے لیے تگ و دو میں لگ جاتا ہے ۔۔۔۔تاریخ اور عصر حاضر ایسے کئی مثالوں سے بھری پڑی ہ