چلو اب ہم بچھڑتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

چلو اب ہم بچھڑتے ہیں

سلگتی دھوپ میں غم کی
بھری آنکھوں کے ساون میں
کہو تم الوداع مجھکو
خدا حافظ کہوں میں بھی
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر یہ مختصر ہوگا،یہ ہمکو بھی خبر تھی
یہ تم بھی جانتی تھیں،بس کوئی دن کا سفر ہے یہ
کسی اک موڑ پر اک دن
بچھڑ جائینگے ہم یونہی
تمہاری راہ کی ضد پر،مرے رستے کھلیں گے
یہی وہ موڑ ہے جس پر
بچھڑنا ہے ہمیں ہنس کے
الگ رستے پہ چلنا ہے
الگ منزل کی جانب اب
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جانے سے پہلے آخری درخواست ہے تم سے
سفر لمبا ہے مجھکودیدو”اپنی یاد کی پونجی”
“کھنکتے بول کے سکّے۔۔۔۔۔۔۔”
کہ کل جب خامُشی در پر صدا دے
تو دھر دوں اُس کے کاسے میں
کھنکتے بول کے سکّے
!! تمہارے بول کے سکّے
کوئی بھی اٹپٹا جملہ کہ جس میں ہو
کتاب زیست کی آیات کا جادو
تم اپنی پیاری انگلی سے ہماری پیٹھ پہ لکھ دو
کہ کل جب لفظ دب جائیں،کتابوں کی عمارت میں
یہی جملہ پڑھونگا میں
!!تمہارا اٹپٹا جملہ
جگا دو لمس کے جگنو،مرے سارے بدن پر تم
وہ جگنوجو کریں روشن،تمہاری یاد کو ہر دم
کہ پھر جب بھی اندھیرے سے گزر ہوگا
یہی جگنوتوچمکیں گے
!!تمہارے لمس کے جگنو
بٹھادو پیار کی تتلی،الگ قسموں کی رنگوں کی
مری ہر شاخ پہ چُن کے
کہ کل جب زندگی بےرنگ ہوگی تو
یہی تتلی میں دیکھونگا
!!تمہارے پیار کے تتلی
بہا دو آنکھ کا دریا،مرے کاندھے پہ سررکھ کے
وہ دریا جس میں ہو اپنے،بتائے سب کے سب ساون
کہ جب کل تشنگی میری یہ جسم وجاں جلائے گی
اسی دریا سے پیاس اپنی بجھاوَں گا
!!تمہاری آنکھ کا دریہ
تم اپنے خوش نما ناخن
چبھودو میرے سینے میں
جھپٹ کر اس قدر گہرے
“کہ رہتی زندگی تک اک بھلی سے ٹیس رہ جائے”
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جانے سے پہلے آخری درخواست ہے تم سے
سفر لمبا ہے مجھکودیدو”اپنی یاد کی پونجی”
کھنکتے بول کے سکّے
کوئی بھی اٹپٹا جملہ
تم اپنے لمس کے جگنو
اور اپنے پیار کی تتلی
اور اپنی آنکھ کا دریا

!! وہی اک ٹیس لافانی

(زماں حبیب)

 

Advertisements

Man gets whatever he strives for; اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلاّٰ مَا سَعٰی

The beautiful verse of the holy Quran, Chapter 53 Surah Najm verse 39: ” Laisa lil insana illa ma sa’a” There is nothing for man except what he strives for.

 

This verse is the secret of the success of human kind. Without struggle and hard work no one can achieve success, believing on luck and sitting idle will not bring success,  Sir Aga Khan III said “Struggle is the meaning of life; defeat or victory is in the hands of God. But struggle itself is man’s duty and should be his joy. 

It does not mean to not believing in God, placing hope on divinity of god that will bring success is only possible when one strive for it. A person who strongly believer of luck, leaving everything on God with the hope that thing pan out for best is the opposite of natural laws, God help those who help themselves must be mankind philosophy in this world,

As Prophet Muhammad (P.B.U.H) said “The reward of deeds depends upon the intentions, and every person will get the reward according to what he has intended.”  With intention of hard work to achieve objective is the main crux achievements in life without moving from our placing and sit with this intention that if it’s in my luck I will get is the irrational perception,  One’s goal, objectives, mission, targets must be backed by his or her actions.  The well know saying “action speaks louder than words” it does not make any difference what you say. What matters is that what you do.  The people who always blaming their luck, without trying to improve their circumstances, such people never achieve anything in their life,such people who blaming that whatever happens to him/her is the result of luck or destiny, lose there will power and stamina and energy of work, this kind of beliefs lead human being in danger, the present scenario of our society is one of the reason of such dogmas,

 we mostly come across with a such people who blaming their luck and arguing  that I wanted to become a engineer and strove hard to achieve this goal but I failed and became a teacher or else so such kind of scenario are relate to luck or destiny , I think this is wrong perspective, if human being strive and not get success , it is impossible.. Mankind must not lose the true spirit of hard work and consistency of struggle, one can mould his destiny, by the true spirit of hard work that’s why it is rightly said man is the architect of his own destiny, History is full of examples who shaped their destiny in the right way, so remember “where there is will, there is way”

With a beautiful poetic expression of Allama Iqbal

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلمان

مومن ہے تو خود آپ ہے تقدیر الہٰی 

اساتذہ قوم کے معمار

کوئی بھی قوم اور معاشرہ تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ تعلیم کا حصول استاد کے بغیر ممکن نہیں اساتذہ قوم کے معمار ہیں نوجوانوں کی سیرت اور کردار سازی کا فریضہ سر انجام دیتے آئے ہیں، قوم کے سنوار اور بگاڑ میں معلم کا کلیدی کردار ہے۔۔۔۔۔ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ معاشرے کی تعمیر میں ایک استاد کاکلیدی رول ہوتاہےاساتذہ کرام ہمارے معاشرے کی وہ عظیم ہستی ہیں جو نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اور انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ حق بات تو یہ ہے کہ اساتذہ روحانی ماں باپ ہوتے ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت و صفائی کے اصول سکھاتے ہیں بلکہ روحانی بیماریوں سے چھٹکارہ دلا کر معاشرے کا ایک اعظیم فرد بھی بناتے ہیں۔۔ اور انسان کے اندر پنہاں تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کو پروان چڑھاتے ہیں، آج اس قوم کے معمار کے پاس نونہال پود
ہے۔ بلکہ یہ کہوں کی   بیج ہیں جن کو محبت و شفقت کی ذمین میں بو کر اور

 علم کی پانی سے ایک گلستان
۔ تیار کرتے ہیں۔آج ان ننھے منے بچوں کا یہ گلستان اُن کے ہاتھ ہے ۔ اس کی   آبیاری کرنے میں بحیثیت ایک مالی کے  اپنی کوششوں اور کاوشوں سے سنواریں۔ اور مستقبل کو امن کا گہوارہ بنانے کی نوید دے  
۔ ۔کیونکہ ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر بھی ان اساتذہ کے پُرعزم کاندھوں پر بالکل اسی مالی کی طرح ہے

دورے جدید نے ان بچوں کو بھی جدید بنایا ہے اور آج کے بچے کمپیوٹر ذہن کے مالک ہیں ۔ معمولی پیش رفت اور گائیڈ لائن کے بعد وہ سماج کے معتبر اور ذی شعور بچے کہلا سکتے ہیں اگر ایک لائق فائق اور مشفق استاد کے ذیر اثر تربیت پائے۔ آج ان تمام بچوں کا مستقبل ان محترم و مکرم اساتذہ کے
ہاتھوں میں ہیں جو کل کو ایک محقق، سائنسداں، سیاستداں اور متعدد شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین بن کرابھریں گے اگر آج ایک استاد اپنی شخصیت سے طلبا کو متاثر کریںتو وہ ان کیلئے مشعل راہ بنجائے،۔۔۔

 اللہ تمام بن نوع انسان کو ایک مہربان اور مشفق استاد کی سرپرستی عطا فرمائیں۔ 

میں آج ان تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے میری علمی پرورش کی۔ جنہون نے اپنی علم کے
ذریعے انسان شناسی دی۔ جنہوں نے اپنی علم کے ذریعے عقل کو علم سے روشن کرنے کا ہنر سکھایا۔
، اور سلام ہوان تمام اساتذہ پر جو علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن ومنور کرتے ہیں، سلام ہو ایسے اساتذہ کرام پر جو دنیا میں انسانیت ، محبت، امن،اور اخوت کا پرچار کرتے ہیں سلام ہو اساتذہ پر جو علم کی روشنی سےجہالتکے اندھیرے کو ختم کرتے ہیں، سلام ہوجو تاریک زہنوں کو منور کرتےہیں۔۔۔۔

ان تمام ٹیچرذ کو سلام جنہوں نے سرٹ ڈی- جے اسکول 

۔ شاہین اسکول دنیور میں مجھے علمی دنیا سے آشنا کیا۔
مولامدد قیزل

۔

Affirmative Action Plan is required to eliminate discrimination in NGOs

 Affirmative Action Plan is a program or policy of a firms or organizations that aims to eliminate discrimination by providing equal opportunities ,I feel after analyzing the despair educated youth of society that in NGOs and Govt sector the hiring of employees are on the basis of discrimination, which is the reason of violence in community  ..therefore To minimize violence, poverty, and to enhance quality of life it is need of the contemporary society,to develop affirmative action plan in NGOs, the heads of the NGOs must realize that in the past century the selections were on the basis of  Racism, racial discrimination, xenophobia , ethnic, cast, language, etc this is the reason today these NGOs are headed by a single cast, which bring unjust social, economic and political orders, These phenomena mutate, re-invent and continue to manifest themselves in contemporary societies, causing severe psychological scars and perpetuating deep inequality and poverty if appropriate affirmative action plan not taken on time, intolerance in youth will be rise. Which might be creating hindrances for the operations of these NGOs successfully, Therefore, this Programme of Action, is very important and need of the time for the global community in order to succeed…….the youth are willing to serve these NGOs on the basis of merit but unfortunately the ill tradition of hiring system keep them away to do so. Which bring despair in youth…  give your suggestions that how could we eliminate this system to bring equal employee opportunities  in these NGOs

 

ذرا سنبھل کے چلنا

میں نے شہر کراچی میں تقریبا دس سال گزارے ہر روز اس انسانی

 ہجوم سے بھری شہر میں کچھ نہ کچھ غور کرنے کو ملتا رہا ہے۔ آج

  کچھ تجربات آپ کےگوش گزار کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔

 ۔پیدل چلنے والا پارک میں بیٹھنے والوں کی پروا نہ کرتے ہوئے

گھاس پر پان تھوک جاتا ہے تو موٹر سائیکل سوار پیدل چلنے

 والوں کے انتہائی قریب سے لہراتے ہوئے گزرتا ہے، اور شیخی

 کے  ساتھ انہیں ڈراتا ہے۔ اسی طرح کار والا اپنی دولت کے نشے

میں دھت سُست رفتار گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں پر گرد اور کیچڑ

 اچھالتاچلاجاتاہے۔۔۔ نوجوان حضرات کسی پارٹی کا روپ جما کر اپنا 

بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پان کھا کر دیواروں پر پچکاریاں مارنا

 اپنا واقار سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

ہم سے ہر شخص اپنے سے کم تر کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے

 اور اس کے ساتھ توہین امیز سلوک کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔

 اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو شاید اس کےاپنے رتبہ و مرتبہ میں کمی واقع ہو

 جائے گی۔ راہ چلتے افراد کو تنگ کرنا تو معولی بات ہے۔ اس لیے ہم ہر

 لحظہ و لمحہ اس “فرض” کو ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کر کے ہم فخر

 محسوس کرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے زمانہ جاہلیت میں عرب سردار

اپنے غلاموں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا اپنی شان سجھتے تھے

۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہم جدید ترقی یافتہ دور میں صدیوں پرانی سوچ

 رکھتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے بر عکس ہم نے اپنے بدن کو تو خوبصورت

 لباسوں سے ڈھانپ لیا لیکن ہم عقل و خرد اور فکر

 کو لباس شعور نہیں پہنا سکے۔ شاید ہم ننگے فکر و بدن کے ساتھ

اکسویں صدی میں خود کو معزز کہلوانا چاہتے ہیں؟

الغرض ہم میں سے ہر کوئی اپنے سے کمتر کو تنگ کرنا اور تکلیف میں

 مبتلا کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر غریب اور کمزور

 شخص اپنے سے طاقتور کی طرف نقصان اٹھاتا اور اسے گالیاں دیتا نظر آتا ہے۔

مجھے یہ فکر روز ستاتی ہے کہ تہذیب یافتہ اور ١٠٠%خواندگی پر

 فخر کرنے والے کچھ نوجوان بھی روز بہ روز اس مرض میں مبتلا

 ہوتےہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اپنی وقار اور ثقافت سے محروم نوجوانوں سے

 اپیل ہے کہ اپنی تاریخ اور پہچان پر کبھی آنچ آنا نہ دے ہماری

 اقدار اور پرورش میں انسانیت اور محبت کا سبق  د یا گیا ہے۔۔اور

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تم میں سے ہر سواری والا پیدل چلنے والوں کے لئے اور پیدل چلنے والا

 کھڑے ہوؤں کے لئے اور کھڑا ہوا بیٹھے ہوؤں کے لئے باعثِ سلامتی بن جائے۔

اے فخر پاکستان کے نوجوانوں قوموں میں تمہاری حسن اخلاق کی

 مشالیں موجود ہیں ذرا سنبھل کے چلنا۔