بروششکی غزل ۔ انتظار اتی

بروششکی زبان کا پہلا غزل گو، نوجوان نسل کا ہر دلعزیز شاعر غلام ٰعبابس حسن آبادی کی شاعری میں جہاں رومانیت ہے وہاں انسانی تجربات سے حاصل سبق آموز خوبصورت پرائے میں تحریراشعار بھی موجود ہیں ۔ شاعری کے ذریعے بروشسکی اداب کوایک نیا ذہن، تخیل کی ایک نئی جہت ، اور زبان کی شگفتگی،مٹھاس اور لطافت کو بروشو قوم پر عیان کیا۔ انکے اشعارجب مدھر سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں، تودھڑکنوں کی رفتار اور دل کا موسم بھی تبدیل ہوجاتا ہے.غلام عباس مرحوم کو ہم سے بچھڑے کئی برس بیت گئے لیکن اس کے مداحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انکی شاعری میں وصل جاناں کی لطافتيں اور غم دوراں کی تلخياں ساتھ ساتھ نظر آتی ہيں،
ان کی اس غزل کو ذرا پڑھیے اور سنیَے کہ کس خوبصورتی و مہارت کے ساتھ اور نہایت دھیمے لہجے میں مثبت سوچ ، صبر، خود اعتمادی اور جہد مسلسل تلقین کی ہے

انتظار اتی شاعر عباس حسن آبادی

Sabur ay yaray wafadaray intizar ati
Gosay qarar xuzhi qararay intizar ati.
صبر اے یارے وفادارے انتظار اتی
گوسے قرار زوچی قرارے انتظار اتی

ترجمہ
استاد عباس اس شعر میں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہے کہ ، صبر کر ،ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر ، نالہ کناں مت ہو اور وفادار محبوب جاں کا انتظار کر ۔ دل مضطر کو قرار آئے گا، عجلت نہ کر، جلد باز نہ بن اور قَرارِ جاں کا انتظار کر

Zindagi Zuwar Bila Hamisha Berga lo huru
Dunya Balas bila Guyar e Intizar Eti
زندگی جور بلا ہمیشہ برگہ لو ہورو
دنیا بَلاس بلا گویار انتظار اتی
ترجمہ
زندگی جہد مسلسل ہے جنگ ہے تو ہمیشہ کمربستہ ہو کر دلیری کیساتھ میدان جنگ رہ۔ یہ دنیا ایک نہ ایک دن ترے زیر تسلط آ ہی جائے گا ۔اتنظار کر۔

Datu e Khainy Humol Shalas Nesal Uny Gos Ayeer
Fir Juwas Bila Baha e Intizaar Eti

داتوے کھینے حمول شلاس نسل انے گوس ایر
پھری زواس بلا بہار انتظار اتی

ترجمہ
۔موسم خزان میں پت جھڑ دیکھ کر مایوس نہ ہو ۔پھر سے بہار آنےوالا ہے انتظار کر

Un ar akuman ghama e zahar e jiztay duni kuli
But chor da yashuma shuryaray intizar ati.

ان ار اکومن غم ذہر جی ذے دونی کلی
بٹ ذور دا یشوما شریارے انتظار اتی

ترجمہ
اے میرے محبوب اگر غم جاناں یا غم دوراں کا ذہر تمہیں حد درجے تک ستائے بھی تو مت ڈرنا۔،ہمت نہ ہارنا کیونکہ بہت جلد خوشحالی و خوش اقبالی کا زمانہ آنے والا ہے انتظار کر

“>Intizar Eti

 

Advertisements

غم ہے یا خوشی ہے تو

غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو

آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو

میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہے تو

میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تو

دوستوں کے درمیاں
وجہِ دوستی ہے تو

میری ساری عمر میں
ایک ہی کمی ہے تو

میں تو وہ نہیں رہا
ہاں مگر وہی ہے تو

ناصر اس دیار میں
کتنا اجنبی ہے تو

نصرت فتح علی خاں کی آواز میں

چلو اب ہم بچھڑتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

چلو اب ہم بچھڑتے ہیں

سلگتی دھوپ میں غم کی
بھری آنکھوں کے ساون میں
کہو تم الوداع مجھکو
خدا حافظ کہوں میں بھی
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر یہ مختصر ہوگا،یہ ہمکو بھی خبر تھی
یہ تم بھی جانتی تھیں،بس کوئی دن کا سفر ہے یہ
کسی اک موڑ پر اک دن
بچھڑ جائینگے ہم یونہی
تمہاری راہ کی ضد پر،مرے رستے کھلیں گے
یہی وہ موڑ ہے جس پر
بچھڑنا ہے ہمیں ہنس کے
الگ رستے پہ چلنا ہے
الگ منزل کی جانب اب
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جانے سے پہلے آخری درخواست ہے تم سے
سفر لمبا ہے مجھکودیدو”اپنی یاد کی پونجی”
“کھنکتے بول کے سکّے۔۔۔۔۔۔۔”
کہ کل جب خامُشی در پر صدا دے
تو دھر دوں اُس کے کاسے میں
کھنکتے بول کے سکّے
!! تمہارے بول کے سکّے
کوئی بھی اٹپٹا جملہ کہ جس میں ہو
کتاب زیست کی آیات کا جادو
تم اپنی پیاری انگلی سے ہماری پیٹھ پہ لکھ دو
کہ کل جب لفظ دب جائیں،کتابوں کی عمارت میں
یہی جملہ پڑھونگا میں
!!تمہارا اٹپٹا جملہ
جگا دو لمس کے جگنو،مرے سارے بدن پر تم
وہ جگنوجو کریں روشن،تمہاری یاد کو ہر دم
کہ پھر جب بھی اندھیرے سے گزر ہوگا
یہی جگنوتوچمکیں گے
!!تمہارے لمس کے جگنو
بٹھادو پیار کی تتلی،الگ قسموں کی رنگوں کی
مری ہر شاخ پہ چُن کے
کہ کل جب زندگی بےرنگ ہوگی تو
یہی تتلی میں دیکھونگا
!!تمہارے پیار کے تتلی
بہا دو آنکھ کا دریا،مرے کاندھے پہ سررکھ کے
وہ دریا جس میں ہو اپنے،بتائے سب کے سب ساون
کہ جب کل تشنگی میری یہ جسم وجاں جلائے گی
اسی دریا سے پیاس اپنی بجھاوَں گا
!!تمہاری آنکھ کا دریہ
تم اپنے خوش نما ناخن
چبھودو میرے سینے میں
جھپٹ کر اس قدر گہرے
“کہ رہتی زندگی تک اک بھلی سے ٹیس رہ جائے”
چلو اب ہم بچھڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جانے سے پہلے آخری درخواست ہے تم سے
سفر لمبا ہے مجھکودیدو”اپنی یاد کی پونجی”
کھنکتے بول کے سکّے
کوئی بھی اٹپٹا جملہ
تم اپنے لمس کے جگنو
اور اپنے پیار کی تتلی
اور اپنی آنکھ کا دریا

!! وہی اک ٹیس لافانی

(زماں حبیب)