سائنسی دورمیں مرید و مرشد کی ضرورت

سائنس نے انسان پر تصوراتی و فکری مورتیوں کی حقیقت عیان کر دیا ہے جو عقائد کی بھول بھلیاں میں سفر کرتا ہے اب وہ انسان جو منطقی یا سائنسی علم سے آگاہ ہے وہ ان تمام فکری و جسمانی زنجیروں سے آزاد ہو چکا ہے عقائد کی اس طو فانی دنیا میں ہر کوئی اپنے لیے سچا یعنی ناجی اور دوسرا ناری ہے لیکن ہر گروہ میں بے یقینی اور شک کا لاوا اُبلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود اس طلسماتی دنیا سے نکل جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔
مرید و مرشد ، ولی ، گروہ ، پیر، امام ،پادری، کمانڈر، کا تصور ہے کیا یا صحبت مرشد و امام و ولی وغیرہ کی اہمیت کیا ہے یہ بات بلکل دورست ہے کہ مرید کے دل میں مرشد ، امام ، کمانڈر، کی محبت اور عشق، یا صحبت مرید کے ذہن کو آب و تاب بخشتا ہے یا کند ذہن یا حیوانی خیال بناتا ہے۔ مرید مرشد کی شخصیت کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیے تصور ، خیال یا وہم کی قوت سے کام لیتا ہے. یہ وہم ، خیال یا تصور اس لیے کرایا یا کیا جاتا ہے تاکہ تصور کے ذریعے مرشد و امام و کمانڈر و ولی وگروہ و پادری وغیرہ سے قائم ذہنی تعلق توانا ہوجاے.اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ مرشد و امام ۔۔۔۔ وغیرہ کی صفات اور مرشد کی صلاحیتیں اس کی روح یا ذات میں گردش کرنے لگتی ہیں. تصور کی مسلسل مشق سے مرید یا طالب کے اندر ایک ایسی کیفیت مستحکم ہوجاتی ہے اور ایک ایسا وقت آن پہنچتا ہے جیسے تصوف میں “فنا فی الشیخ” کہا جاتا ہے۔
مرید و مرشد کے نظریے کو ہم یوں غلط نہیں گردان سکتے اور نہ ہی انکار کر سکتے ہیں اس تصور کا ساخت یا الفاظ بدل گئے ہیں مگر جوہر اب بھی کسی نہ کسی طور موجود ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک مجاہد کا کمانڈر سے تعلق ہو ایک کامریڈ کا مارکسی یا سول سائنٹسٹ سے تعلق مرید و مرشد کے پرائے میں آتا ہے۔ انسان چاہے لادین ہی کیوں نہ ہو کہیں نہ کہیں ،کسی نہ کسی سے روحانی یا فکری طور پر جڑا ہوتا ہے ۔ جسطرح جسمانی یا ظاہری پرویش کے لیے یا زندگی کے لیے انسان محتاج ہے اسی طرح عقلی یا روحانی پرویش کے لیے بھی انسان محتاج ہے ۔اب روحانی ۔عقلی یا جسمانی و ظاہری صحت مند زندگی کا دارمدار آپکا مرشد۔ ولی ، کمانڈر یا وارث، اسکولینگ، پر ہے کہ وہ تمہیں جینے کا گر کیا دیتا ہے ۔ تمہیں تنگ نظری ۔ انا پرستی ۔ بنیاد پرستی کے اندھیرے گھپا میں لے جاتا ہے یا منطق ۔ سائینس۔ روشن خیالی۔ گوناگونی ۔ محبت جیسے مثبت روایوں کی طرف لے جاتا ہے۔ میری ضعیف عقل کے مطابق یہ رشتہ ہر انسان کے ساتھ کسی نہ کسی طور پر موجود ہے، اور اسکا اظہار دنیا کی ساری کمیونٹیز ، سوسائٹز ، یا معاشروں میں ہمیں انفرادی و اجتماعی صورت میں نظر آتا ہے ۔
ایک صحتمند کمیونٹی یا معاشرے کی تکمیل کے لیے مرشد یا لیڈر ، سائنٹسٹ، سوشلیسٹ ، فلسفر کی ضرورت ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا اس سے انکاری کا کوئی جواز مجھے نظر نہیں آتا۔
اگر میں اسے دور حاضر کے الفاط میں کہوں تو یہ مرکز مائل قوت centripetal force ہے جو ہر معاشرے میں اور انفرادی و اجتماعی طور پر مختلف اشکال یا صورتوں یا اظہاروں میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رشتے کو یا ضرورت کو کن بنیادوں پر پرکھا جائے، کیا اس کے علاوہ بھی کوئی سسٹم ہمارے پاس موجود ہے جس سے انفرادی و اجتماعی ضرورت، ۔ خواہش کی تکمیل ہو سکے ؟