مووی ریویو ۔ میگن لیوی

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ روۓ زمین پر سب زیادہ خطرناک جانور کونسا ہے ؟ تو میرا جواب ہوگا انسان۔ کیونکہ انسان کے اندر ان تمام جانوروں کی عادات مدفون ہے پتہ نہیں کب کونسا جانور جاگے ۔
“ہر انسان کے اندر ایک دھوپ میں تپتی سحرا ، ایک گھنا جنگل اور زہریلے پانی کا تالاب ہوتا ہے اور اس سحرا ۔۔ گھنے جنگل اور پانی میں ہر قسم کے جانور رہتے ہیں جو انسان کے اندر سے وقتن فوقتا ظاہر ہوتے رہتے ہیں بس ہر وہ جانور جو اس مسکن کا باسی ہے تاک میں رہتا ہے کہ کب انسان پہ اس کا دورا پڑتا ہے اور وہ کود کر اس پر حاوی ہو ۔
انسان اگر بھادری اور بے خوفی پہ آئے تو اس میں سے
شیر جھلکتا ہے ۔
جب انسان اپنے اندر حسد اور نفرت کا زھر پالتا ہے توimages ایک سانپ بن جاتا ہے اور موقع ملتے ہی اگلے کو ڈس لیتا ہے اور جب رشتوں کا تقدس نکل جائے تو سوئر بن جاتا ہے ۔
اور جب مکاری اور کمینے پن پے اتر آئے تو لومڑی بن جاتا ہے اور جب حرام کھانے کی بات آئے تو یہ انسان گدھ بھی بن جاتا ہے ۔
پھر جب وفاداری کی بات آئے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” تو ایک نام جو ہر شخص کی ذہن میں اجاگر ہوتا ہے اور اسی وفادار جانور جسے کچھ لوگ جانور کہنا مناسب نہیں سمجھتے ۔۔۔یہ فلم بھی ایک ایسی وفادار جانور کے گرد گھومتی ہے ۔ اور وہ یے کتا ۔۔۔ کتا؟ جی کتا ؟ جو کئی انسان نما سانپ ،گدھ ۔۔۔۔سے بہتر ہے۔
یہ فلم ایک ایسے کتے کی کہانی ہے جو ١٩٩٩ میں پیدا ہوا اور سن ٢٠١٢ میں مر گیا مگر مرنے سے پہلے اس نے ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائیں ۔ جی جناب کئی جانیں بچائی ہمارے معاشرے میں کتا تو گالی ہے وہ کس طرح انسان کا دوست ہو سکتا ہے اور کس طرح مدد کرتا ہے دیکھ کر میں تو حیران ہوگیا ۔ عراق میں جنگ کے دوران بارودی سرنگیں کھوجنے والا یہ کتا۔۔ریکس پورے فوجی اعزازوں کے ساتھ ریٹائر ہوا۔۔۔ جی پورے فوجی اعزازوں کیساتھ ریٹائرڈ ہو ا ۔۔۔۔۔ اور اسے الوداع پوری دنیا کے سامنے بیس بال گراونڈ میں جس طرح سے استقبال کرکے ان کو عزت دی گئی سچ پوچھے تو وہ قابل تعریف ہے۔ ہمارے ہاں اگر انسان کسی ادارےریٹائر ہو جاۓ تو اسے اگلے دن آفس کے دروازے پر ہی روکا جاتا ہے ۔ ۔۔۔۔ اور کیا نہیں ہوتا آپ خود ہی جانتے ہیں اس فلم کا اینڈ تو کمال ہے ۔
یہی تو فرق ہے ان ترقی یافتہ ملکوں کی جہاں کام کی قدر ہے چاہیے وہ جو بھی کرے ۔۔۔ انسانی جانوں کی قدر ہے انسانیت کی حرمت کی قدر ہے ۔۔سیکھنے اور سوچنے کے بہت کچھ ۔ ۔۔۔ ایک شاندار فلم میں تو یہ کہوں گا کہ اپنے فالتو وقت کو اس فلم سے چار چاند ضرور لگائیں اور ہمیں اپنی رائے سے آگاہ رکھیں