ہنزہ کی حسین راتیں

ہنزہ کی حسین راتیں

Advertisements

گلگت بلتستان پر ثقافتی یلغار – آخری حصہ

تحریر: مولامدد قیزل

جب بھی کسی قوم کو اس کی تاریخ ، اس کے ماضی ، اس کے تہذیب و تمدن، اس کی ثقافت ، اس کے تشخص، اس کے مذہبی، سیاسی ، سماجی، علمی، پہچان سے جدا کردیاجائے ، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیاجائے، اس کے رسم و رواج کو قدیم اور بے کار گردانا جائے ، اس کے رسم الخط کو ختم کردیاجائے تو وہ قوم اغیار اور بیگانوں کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ یہ قوم مردہ ہوجاتی ہے اور اسے دوبارہ زندگی دینے کے لیے ،اس میں روح ڈالنے کے لیے ، نجات حاصل کرنے کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتاہے اور وہ راستہ ہے ایک عظیم لیڈر ، رہنما اور شخصیت کا بیدار ہونا، جو اس قوم کو اس صورتحال سے باہر نکالے اور ہم اس معاملے میں اب تک بدقسمت رہے ہیں۔

 Qizilllگلگت بلتستان کی گوناگوں تہذیب و ثقافت سدا بہار باغیچے کی مانند ہے جس میں مختلف شیریں زبانیں، باغ میں کوئل اور بلبل کی طرح سماعتوں کو راحت پہنچاتی ہیں اور جس میں مختلف مکتبہ فکرکے لوگ باغ کے مختلف گلابوں کی خوشبو کی طرح ماحول کو خوشگوار اور عقل کے لیے باعث راحت بناتے ہیں۔ جس طرح ہمارے جذبات ہمیشہ سرسبز اور شاداب ، جوان اور ایک دوسرے کے لیے باعث تسکین ہوتے ہیں،ہماری ثقافت ہماری پہچان اور چہرہ ہے ۔

 یہ اس مربوط ،منظم ، جاندار اور باکمال ثقافت ہی کی مرہون منت ہے جس نے ہمارے آبا و اجداد کوسربلند و سرفرا ز اور عزیز و باوقار بنا کر کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کیا۔ ہماری ثقافت نے ہمیں وسیع تر سطح پر انسانوں کی دوسری انواع سے ممتاز کیا۔پاکستان میں پائی جانے والی گونا گونی چاہے وہ عقیدے کی شکل میں ہو یا زبان کی شکل میں یا رسم و رواج کی شکل میں، جس رنگ میں بھی ہو، ہماری طاقت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے اور ہماری ثقافت و تہذیب ہمیں ایک ہی کڑی میں پروئے ہوئے موتی کی مانند مربوط کرتی ہے جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آباو اجداد کی طرح سطحی اختلاف سے نکل کر ثقافتی رنگ میں رنگ جائیں۔ اپنے کھوئے ہوئے ثقافتی تشخص کے حصول کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ہماری بقاءکا دارومدار بھی اسی امر پر ہے کہ ہم اپنے تشخص یعنی پہچان کا دوبارہ اثبات کریں۔ اغیار اور بے گانہ ثقافت کو اپنانے کی بجائے اپنی

 ثقافت کو وقت او رحالات کے مطابق عقلی بنیادوں پر استوار کریں۔ دنیا عالمی گاﺅں میں بدل چکی ہے۔ تہذیب اور ثقافت ارتقاءکے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہم آج اپنی ثقافت کی حفاظت نہیں کرسکے اور اسے عقلی بنیادوں پر آگے نہ بڑھا سکے تو گمنام ہوجائیں گے۔ہمیں ایک دوسرے کی زندگیوں کو فائدہ مند بناتے ہوئے رہنا ہوگا ورنہ غلط فہمی، تناﺅ، تصادم اور المیے رونما ہوں گے۔ ہمیں اپنی ثقافت اور تہذیب کا پرچم ہمیشہ بلند رکھنا ہوگا۔ہمیں اپنوں پر بھروسہ اور اعتماد کرنا ہوگا ۔ہمیں اس خطے سے ہی ایک رہنما کو چنا ہو گا جو ہمیں ہماری کھوئی ہوئی شناخت دلا سکے۔ہمیں اپنی اولاد جدید علم سے آرستہ کرنا ہوگا۔

اللہ ہم سب کو ایک دوسرے کا مددگار بنائے (آمین)

گلگت بلتستان پر ثقافتی یلغار – حصہ دوئم

تحریر: مولامدد قیزل
 یہ کوئی نیا اندازِ واردات نہیں بلکہ صدیوں سے چلا آیا ہے اور یہ انداز اہل مغرب اور اہل مشرق دونوں نے ہم پر خوب آزمایا ہے۔ اہل مغرب اپنے جدید وسائل سے اپنی ثقافت ہم پر مسلط کرنے کی منظم کوشش میں ہیں، جبکہ اہل مشرق (عرب اور ہند) عقائد کے نام پر ہماری ثقافتی پہچان، ہمارے تشخص ہم سے چھین لینے میں مگن ہیں۔
 ہم اہل مغرب کی رنگا رنگ دنیا میں کھو گئے ہیں۔ ہم نے خود ہی Modernism یعنی جدیدیت کے نام پر ان کی ثقافت کو اپنانا شروع کیا ہے۔ ہم اپنی ثقافت سے کوسوں دور بیٹھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی طرز زندگی اور ان کی ثقافت و تہذیب اپنا کر دنیا میں سرخرو ہوں گے ، کامیاب ہوں گے، مگر اس احساس سے یکسر عاری ہوچکے ہیں کہ ہم وہ غلام بن چکے ہیں جو سمجھتا ہے کہ اگر اس کا مالک اسے آزاد کرے تو اسے محنت و مشقت کرنا پڑے گا، پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں گے، کچے گھر میں رہنا پڑے گا، گویا وہ عقاب سے گر کر کرگس بن جاتا ہے جو حرام جانور یعنی مردار پر زندگی بسر کرتا ہے۔ اہل مغرب کے دلدادہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جب کسی قوم کی ثقافت زوال اور انحطاط کا شکار ہوجاتی ہے یا وہ اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھیں تو اغیار سے ملنے والی خوشی انہیں ان کا حقیقی مقام نہیں دلا سکتی۔ کیونکہ جب کوئی ثقافتی و تہذیبی غلبہ حاصل کرتا ہے تو اس معاشرے کے تشخص پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اور یوں اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ آج ہم اپنے آباو اجداد پر فخر اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کسی بھی قیمت پر تہذیب و ثقافت کا سودا نہیں کیا۔ اس لیے وہ باوقار ، قوی و توانا، عالم و دانشور ، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم اور بامشرف ہیںاور ذرا ہم اپنی حالت حاضرہ کا مطالعہ کریں تو ہم مذہب، عقیدہ،زبان، نسل اور علاقے کے نام پر ایک دوسرے کے نہ صرف دست وگریبان ہیں بلکہ ہم میں درندگی، حیوانیت اور دہشت گردی جیسے منفی صفات کے حامل ہو چکے ہیں ۔
 ہمیں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، سوچ و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں ہم اہل مغرب کی رنگارنگی میں کھو گئے ہیں، وہاں ہمیں اہل مشرق نے مذہب اور کلچر کی بحث میں الجھا دیا ہے۔
ثقافت اور دین کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
ہم نے دین اور مذہب کے نام پر جہالت میں اپنے تشخص کو بگاڑ دیا ہے۔ نوجوان نسل کو اس پہلو پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے اورآواز بلند کرنے کی جرات پیدا کرنی چاہئے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، اس کو کسی مخصوص قوم یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں کیاجاسکتا۔ دین ہمارے معاشرے کا باطنی پہلو ہے اور دین ہمارے کلچر کے بہت سے اجزا ءکو متعین نہیں کرتا۔ اس لیے مختلف اسلامی ممالک کی تہذیبیں یا کلچر ایک دوسرے سے نمایاں طور پر الگ الگ ہیں۔ مثال کے طور پر ایرانی کلچر یا تہذیب وہ نہیں جو مصر کی تہذیب یا کلچر ہے۔ یا انڈونیشیا یا سوڈان کی ہے۔ عربی کلچر وہ نہیں جو دوسرے اسلامی ممالک کا ہے۔ ثقافت اور تہذیب کے ان حصوں میں مذہب یا دین کا کوئی تعلق نہیں، جن کا تعلق قومیت سے ہے۔
 دین اسلام اس گونا گونی (Diversity)کی قدرکرتاہے ۔ اس لیے ہم کسی ایک ملک کی تہذیب یا ثقافت کو اسلامی تہذیب یا ثقافت نہیں کہہ سکتے۔ گلگت بلتستان کے کسی بھی طبقئہ فکر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی ایک مخصوص انداز فکر کو اسلام سے منسوب کریں۔مذہب ایک انفرادی اور باطنی سوچ و فکر کا نام ہے جو بندہ اور اس کے مالک یعنی خدا کے ردمیان کا معاملہ ہے۔ آج اگر ہم بکھرے ہیں، تو اس کی ایک اہم وجہ یہ مذہبی سوچ ہی ہے جس کو ہم نے ایک دوسرے پر مقدم جاں کر اغیار کے بتائے ہوئے احکام اور انکے تہذیب و ثقافت کے رنگ میں رنگنے کی کوشش ہے.
 گلگت بلتستان ایک منفرد تہذیب و ثقافت کا حامل خطہ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ثقافتی تشخص سے نکل کر اغیار میں گم ہوتے جار ہے ہیں۔ وہ معاشرے ، قوم ، افراد یا گروہ گمنام ہوجاتے ہیں جو دوسری قوموں کی شناخت اور تہذیب کو اپنا کر ہستی اور بقاءکی کوشش کرتے ہیں، ان کی مثال ایسے درخت یا سوکھے ہوئے درخت کی شاخوں کی طرح ہے جن کو گلگت بلتستان کے لوگ عموماً انگور کے درخت کے نیچے کھڑا کرتے ہیں جن کے کاندھے اور سروں پر انگور کا درخت پھل دیتا ہے۔ گویا یہ سوکھی ہوئی لکڑیوں کی مانند ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دیتے ہیں اور دوسروں کے مذاق کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ ثقافت تباہ کب ہوتی ہے؟ جب کوئی گروہ ، سسٹم ، ایک مخصوص طبقہ، سیاسی، ذاتی اور انفرادی مقاصد یا مفادات کے لیے کسی قوم کو اسیر بنائے۔ اس کی ثقافتی بنیادوں کو نشانہ بنائے۔ ان کی ثقافت کو قدیم اور پرانا ظاہر کرکے ترمیم کے نام پر اپنی ثقافت، نئی چیزیں او ر افکار متعارف کروائے اور انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم کرنے کی کوشش کرے۔اورلوگ اسے بغیر سوچ و فکر کے قبول کرتے ہیں۔ اس کو ثقافتی یلغار کہتے ہیں۔ یہ سقوط ، بربادی اور زوال کی نشانی ہے۔ اگر ایسے موقعوں پر اہل علم ، دانشو ر اور نوجوان خاموش رہیں تو ان کی آنے والی نسل غلام اور بے نام رہ جاتی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

PT

گلگت بلتستان پر ثقافتی یلغار – حصہ اول

تحریر: مولامدد قیزل

جس طرح گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے  بلند اور اونچا ہے اسی طرح ان بلندیوں میں رہنے والے لوگ بھی بلند کردار کے مالک ہیں انہیں آبشار کی طرح آر پار دیکھا جا سکتا ہے۔ملاوٹ سے پاک ان لوگوں کی رسم و رواج ، تہذیب و تمدن اس قوم کو اور منفرد بنا دیتی ہے کسی بھی ملک و قوم کے تشخص کا اصلی سر چشمہ انکی تہذیب و ثقافت ہوتی ہے ۔ جو کہ انسانی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ ایک معاشرہ اور ایک قوم کے کلچر اور تہذیب کے اعلیٰ مظاہر اس کے خصوصیات ،طرز فکر نظام اخلاق، علم و ادب، فنون ،عادات و اطوار ،اسکا دینی نظریہ ،زبان، رہن سہن ،رسم و رواج ،فن تعمیر روایات، لباس، اور طرز حیات میں نظر آتے ہیں ۔یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو بہادر ، شجاع و غیور ، غیرت مند، قابل فخر اور خود مختار بنا دیتی ہے اور انکا فقدان قوم کو حقیر ، غلام اور بزدل بنا دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ انکی شناخت تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ جاتا ہے ۔کچھ ایسا ہی حال اہل گلگت بلتستان کا بھی ہے تہذیب و ثقافت میںفرانگی اور عربی ملاوٹ نے اس قوم کی شناخت کو مٹا کر حقیر بنا دی ہے۔

کلچر کی دو صورتیں ہیں ،دو پہلو یادو شکلیں ہیں۔ ایک وہ جو ظاہر اور نمایاں ہے اور دوسری وہ جو نہاں ہیں، باطنی ہیں یا غیر مرئی پہلو ہیں یا ہم اسے ذہنی صورت بھی کہہ سکتے ہیں ۔ثقافت کے ظاہری پہلوﺅںمیں ہمارا لباس ، رہن سہن، فن تعمیر، اوڑھنے بچھانے کی چیزیں، مصوری ، موسیقی، شاعری ، غذا، ظروف سازی وغیرہ شامل ہیں۔

گلگت بلتستان ثقافت کے اس ظاہری پہلو میں ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے جو ہمیں دنیا کی دوسری قوموں سے ممتاز اور منفرد بنا دیتی ہے مثلاً ہماری موسیقی میں جوش ، جوبن اور زندگی کے ذرات پائے جاتے ہیں ڈھول کی تھاپ ، سرانائی کی مدھر بانسری کی دھن نہ صرف کانوں میں رس گھولتی ہے بلکہ انسانی جذبات میں خوشی اور تازگی کی ایسی موجیں پیدا کرتی ہے کہ جس سے جوان تو جوان بوڑھے اور بچے بھی اس موسیقی کی اونچی لہروں میں بحیرئہ عرب کی موجوں میں جھومتے ہوئے مچھلیوں کی طرح رقص کنا ں ہوتے ہیں ۔ ان دھنوں کی تاثیر ایسی ہے کہ بیمار دلوں کے مرجھائے ہوئے چہرے بھی گلگت ، بلتستان کے پہاڑوں میں چھپے یاقوت اور ہیرے کی طرح کھل اٹھتے ہیں ۔ ہمارا ثقافتی لباس چوغہ ، ٹوپی، اور اس پر سفید پر کو اگر محبت ، وفاداری اور قومی شناخت کے جذبہ بصیرت سے دیکھیں تو یہ ہمیں بادشاہی اور ملکوتی لباس سے کم نظر نہیں آتا۔ اور اس لباس میں ملبوس ایک بزرگ گویا آسمانی ہستی سے کم نہیں اور ایک جوان کے۔ٹو کی طرح بلند اور راکا پوشی کی طرح حسین و جمیل نظر آتا ہے اور اسی طرح دوسری چیزیں بھی ہماری پہچان اور وقار کی علامت ہیں۔ بد قسمتی سے ہم رفتہ رفتہ ثقافت کی اس پہلو کو فراموش کرتے آئے ہیں۔مثلاً دیسی قالین،ضروف سازی وغیرہ، ہمیں چاہیے کہ انہیںزمانے کے ساتھ جدید طرز پر قائم رکھے۔

ثقافت کے دوسرے پہلو جو نہاں ہیں جو کہ ہماری تقدیر طے کر نے میں مو¿ثر ہوتے ہیں، مثلاً سب سے زیادہ اہم اخلاقیات، معاشرے میں بسنے والے افراد کی ذاتی، سماجی اور معاشی زندگی کا طور طریقہ ، عقائد ، روایتی تصورات اور قصے کہانیاں شامل ہیں۔ ثقافت کے اس پہلو سے ہماری امیدیں ، امنگیں اور خواب جڑے ہوئے ہیں۔ ثقافت کے اس پہلو میں ہمارے انداز فکر کا طریقہ ہے۔ یعنی دیکھنے، سوچنے ، اچھائی اور برائی کا، خوبصورتی اور بدصورتی کا ، سلیقے اور بد سلیقگی کا ، معیار پرکھنے کا طریقہ، یہ سب کلچر کا باطنی پہلو ہے۔

جس طرح ثقافت معاشرے کی ساخت، جسم یا ڈھانچہ میں روح اور جان کا درجہ رکھتی ہے، اسی طرح ثقافت کے باطنی پہلو، ثقافت کے ظاہری پہلو میں روح کا درجہ رکھتی ہے، اور جب ثقافت کا ذہنی یا باطنی پہلو کمزور ہوجاتا ہے تو معاشرے کی پوری ساخت ڈھیلی پڑجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم پر غلبہ حاصل کرنا ہو، انہیں غلام بنانا ہو، ان کے مال و دولت پر قبضہ جمانا ہو تو سب سے مو¿ثر طریقہ ان کی سوچ و فکر یعنی روح پر غلبہ حاصل کرنے کا ہے،اس کے ذریعے ان کے جان و مال، عزت و آبرو، تہذیب و ثقافت ، یہاں تک کہ ان کے عقائد پر بھی غلبہ حاصل کرسکتے ہو۔

اہل دانش و علم ، غیرت مند، تہذیب و تمدن اور کلچر کے پاسبان یہ جانتے ہیں کہ اغیار یعنی دشمن ہمیشہ دوسری قوموں کو برباد اور غلام بنانے کے لیے ، ان پر تسلط اور غلبہ حاصل کرنے کے لیے، اپنی تہذیب و ثقافت کی ترویج و تسلط کرنے کے لیے اس قوم کی ثقافت کے باطنی پہلو کو ختم یا کمزور کرتا ہے۔

—– جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

کیسی عید، کہاں کی عید!

 

کیسی عید،کیسی خوشی،،کس بات کی،کس شکرانے کی، کس کامیابی کی،،کس کو عید کی مبارک بادی دے،کس طرح خوشی کا اظہار کریں،،جب رات کی نیندیں قضا ہوں۔ جب تن میں سویاں چھب رہی ہوںجب دل غم سے جل رہا ہو اور چہرہ آنسوں سے تر ہو تو کیسی عید ؟؟

جب مائیں اپنے لخت جگرکے موت پرتڑپ رہی ہوں جب باپ غم سے نڈھال ہو جب بہن بھائی کی چیخیں اور سسکیاں کانوںمیں گونج رہی ہوںتو آپ بتائیں ان حالات میں کیسے عید کی مبارک بادی دی جا سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کیسے عید کی خوشیاں منائیں جو اپنی فرذندوں کا خون سے رنگین ہو۔ جو ساٹھ سال سے پاکستانی عوام ،، حکومت اور مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ظلم و جبر سہہ رہی ہے۔ کیسے عید منائیں جہاں ظلم و جبر، ناانصافی،مکاری، قتل و غارت، رشوت اور کئی دوسری اخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہوں، کیسے منائیں عید ۔۔جب ہماری پہچان مٹ رہی ہو،جب انسانیت اور انسانی اقدار مٹ رہی ہو،جب انسانوں کےدرمیان رنگ ونسل، ذات پات،اور سوچ وفکرکے امتیاز پراپنے خداوَں کو خوش کرنے اور اپنی ذاتی اد کیلئے انسانی خون بہا دیا جاتا ہو ۔۔ تو عید کیسے منائیں۔

 یہ وہ خطہ عرض ہے یہ وہ گلگت بلتستان ہے۔جسکو قدرت نے تمام تر نعمتوں سے نوازا ہےیہ وہ جنت نظیر تھا جہاں رنگ برنگ کی ثقافتیں،سوچ وفکر، اور بولیاں سے قمقمےروشن تھے گلگت بلتستان  کو اپنے گوناگونی پر فخر تھا، لوگ بھائی  بھائی تھے کسی فرقے کے بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت اور آدمیت کی بنیاد پر۔ مگر آج فساد کیوں۔۔ یہ وہ شاہرہ قراقرم ہے جس  سے کبھی تیرھویں صدی میں وینس کے ماکوپولو اور پندرھویں صدی کے مشہور عرب تاریخ دان البرونی جیسے شخصیات نے ان راہوں سے گزر کر قدرتی جمال سے لطف اندوز ہوئے تھے۔ اور اج بھی دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس فطری حسن سے ہم کلام ہونے کیلئے بے چین ہے یہ وہ علاقے تھے جن کے پہاڈوں پر پریاں اڈان لیتی تھی اور ان پہاڈون کے دامن میں فقیر اور درویش صفت انسان نے اندھیری راتوں میں عبادات کی کسی ڈر کے بغیر۔

مگر آج کیوں ان علاقوں کے نام سے ہی دہشت پھیلتی ہیں۔کیوں یہ راستے جہنم کا دروازہ تابت ہوئے۔آج کیوں ان راہوں سے گزرنے کیلئے درندے اور جانور بھی اپنے رب کی پناہ مانگتے ہیں۔ کیوں آج ان راستوں پر انسان،طاغوت کے ظلم و جبر کا شکار نظر آتا ہے۔

مگر آج گلگت بلتستان خون سے لہولہان ہے ہرطرف سوگ، غم اور ماتم ہے،معصوم اور بے گناہ انسانوں کا خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ اور آسمان پر خون کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ستم بالاستم یہ ہے کہ ان فرقہ واریت کا شکار ہونے والے معصوم جانوں کا حکومتی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ حکومت ہمیشہ کی طرح طفیل تسلیاں دیتی رہی۔ کوئٹہ سے گلگت بلتستان تک ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے لواحقین سے گورنیمٹ اظہار ہمدردی کرتا اورشہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے اقدامات کرتا۔ مگر اب بھی غلیظ حرکتوں میں مصروف عمل ہے۔ ان ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کی جانے والی احتجاج کو سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ صحافی براری نے نظر انداز کیا ۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا از خود نوٹس لے رہے ہیں ان کی نظر میں ان معصوم مسلمانوں کے قتل عام کی کوئی اہمیت نہیں اور خاموش تماشائی بنے بیٹھیں ہے۔ کیوں ؟؟ جب اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کئی مون نے واقعے کی مذمت کی مگر پاکستانی انصاف کے دعویدار عدلیہ اور سیاسی حکمران بے حس پڑے ہیں۔

کہاں جاتے ہیں یہ دہشت گرد۔ آسمان کھا جاتا ہے یا زمین نگل جاتی ہے۔ یہ کونسے مذہب کے پیروکار ہیں اورکیسی مذہب ہے جس میں خدا کی رضا مندی کیلئے بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے ہیں۔ وہ کیسا خدا ہے جو انسانی خون، جبرو ظلم کے بدلے جنت عطا کرتا ہے۔ وہ کیسا خدا ہے جو زمین پر فساد قائم کرکے اپنا حکمرانی چاہتا ہے،وہ کیسا انسان ہےجس میں وحشیت اور درندگی کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔وہ کیسا انسان ہے جو عقلی تقاضوں سے گر کر حیوانی صفات سے بھی بدتر درجے کے اعمال میں مصروف عمل ہے۔ وہ کیسے اعمال ہیں جن کو احکام خدادندی سے منسوب کر فطری نظام میں فساد برپا کر دیتےہیں

۔یہ اسلام نہیں ہو سکتا،، کیونکہ اسلام سلامتی کا دین ہے، محبت کا دین ہے،، اخوت کا دین ہے،، یہ کونسی مخلوق ہیں جن کے دل ہیںمگر احساس اور جذبات سے عاری ہے جن کے آنکھیں ہیں مگر ان میں نور بصیرت اور حقیقت دیکھنے سے عاری ہے، جن پاس عقل ہے مگر ان پر تالے لگے ہوئے ہیں، دنیا کے کسی معاشرے مین کسی بھی مذہب میں کسی بھی حکومت میں ایسے سوچ اور انسان نما حیوان کیلئے کوئی جگہ نہیں سوائے پاکستان کےجہاں وحشی درندے دنداناتے پھرتےہیں۔

حکومت ان وحشی درندوں کو کیوں نہیں پکڑتی ، حکومت کے جھوٹے دعوئے اور مکاری عوام کو سمجھ میں آنا چاہیے۔ کوئی تیسری طاقت نہیں جب تک ان دہشت گرد عناصر میں اس علاقے لوگ، اس ملک کے باشندے شامل نہ ہو کسی کی کیا مجال کہ وہ سرعام غیر انسانی اور وحشیانہ قتل و غارت کریں۔ اس کی واضح مثال واقعہ سانحئہ علی آباد ہنزہ ہے۔ جس میں متاثرین عطاآباد کے ائی- ڈی- پیز پر گولیاں برسائی گئی۔ اور باپ بیٹے کو مار دیا گیا۔ اس دہشت گردی میں کون شامل تھے؟؟ اس دہشت گردی میں کس کے ہاتھ ہیں ؟؟ سب آپ کے سامنے ہیں۔۔ اس دہشت گردی پر حکومت ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ کا کرراد آپ کے سامنے ہے۔

اب آپ فیصلہ کریں کہ ہمیں کس طرح اپنی جان و مال کی حفاطت کرنا ہیں،۔۔ دشمن کو ان کی برے عظائم میں ناکام کرنے کیلئے مذہب کی سرحدوں سے نکل کر انسانیت کی بنیادوں اور قومیت کے اصولوں پر مل بیٹھ کر دوبارہ رہنا ہو گا ۔۔۔