کیا ہم آزاد ہیں ؟

آذادی کیا ہے ؟ شاید ہم اس کی معنوی حقیقت سے اب بھی آگاہ نہیں ہیں، ہم مادیت پرستی کا عروج کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم بےجا طاقت و اقتدار کےحصول اور اسکا نچلے طبقوں پر اطلاق کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم مذہبی انتہا پسندی کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم ذہنی غلامی کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم اقتدار کی خاطر سچے انسانی جذبوں کو لگام دینے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم انسانی روح کو مقید کرنے کی کوشش کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور اس منبے کو سنگسار کرنے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ہمیں حقیقی آزادی کا ادراک کرنے کی از حد ضرورت ہیں ۔
ہم غیر اخلاقی رویوں کوآزادی سمجھ بیٹھے ہیں اس معاشرے میں تہذیب آذاد نہیں، سچ آذاد نہیں ، انصاف آزاد نہیں، باقی سب آذاد ہیں۔
دودھ بیچنے والا آزاد ہے، جتنا مرضی ، پانی ڈال سکتا ہے، ہمارا میڈیا آزاد ہے۔ لفافے میں لپٹی ” صحافت” آزاد ہے۔پیسے دو اور چرچے لو۔ ہمارے ادھر انصاف بھی بکتا ہے، صرف دام بڑھاء.. فیصلہ اپنے حق میں کروائو ہمارا تاجر آزاد ہے۔ ملاوٹ شدہ مال بیچتا ہے، دوا فروش آزاد ہے دو نمبر ادویات بجتے ہیں،ہمارا ، ہر طبقہ آزاد ہے،حد تاکہ ٹریفک سگنل پہ کوئی قاعدہ و قانون نہیں کوئی روک ٹھوک نہیں آذادی ہے۔قاتل آذاد ہے اہل مقتول پابند سلاسل ۔جھوٹ آزاد ہے سچ پہ سزا ہے ۔ اور کیا کیا گنوا لوں ۔۔
اگر برصغیر کی تاریخ کاغایرانہ نگاہ سے مطالعہ کی جائے تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ جو انسانیت کی تذلیل اور ظلم بنی نوع انسان پر مذہب و آزادی کے نام پر سر زمین پاکستان پر ہوئی ہیں وہ سر زمین برصغیر پر اس سے پہلے نہیں ہوا۔ ۔۔ پاکستان اس لئیے آزاد نہیں ہوا کہ یہاں طاقتور اور اہل زر حکومت کریں اور نہ ہی اس لئیے کہ کمزوراور شریف انسانوں کے گلے میں غلامی کا دائمی طوق یا غلامی کی زنجیریں، ہاتھوں میں ظلم وجبر کی ہتھکڑیاں اور پیروں میں بے کسی و بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے کے لئے آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی جسمانی آزادی کی غرض سے کم بلکہ عقلی و ذہنی آزادی کی خاطر ہوا تھا ۔ یہ آزادی انساتیت کو معراج بخشنے کے واسطے ہوا تھا ۔مگر سب کچھ الٹا ہوا ۔ اب بھِی وقت ہیں ہمیں سوچنا چاہیے
غلامی صرف جسمانی غلامی نہیں بلکہ غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔مثلا ۔۔۔میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ آج جسمانی غلامی ، قانونی غلامی ، نفسیاتی غلامی اور ذہنی غلامی پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی ہیں غلامی کی اس بدترین شکل کے نتیجے میں آج اس ملک جسمانی غلام ، نفسیاتی غلام ، اور ذہینی غلام بغاوت پر اتر آئےہیں۔ ۔۔۔
عصر حاضر کی عین ضرورت ہیں کہ اس ملک میں بسنے والے تمام انسانوں کو بغیر کسی تفرق کے علم سے آراستہ کیا جائے ۔۔۔ گلگت بلتستان کو مکمل خود مختاری دی جائے، خیبر پختونخواہ کےقبائلی علاقوں کی پسماندہگی دور کی جائے ، بلوجستان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے عزم کا اعائدہ کیا جائے، سندھ میں نسلی تعصب ختم کی جائے ۔۔پنجاب میں جاگیردارانہ یا برادری نظام کو ختم کیا جائے ۔۔۔۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں دی جائے ، اور پاکستان کو انسانیت پرست ملک بنا دیا جائے ۔۔۔۔ تو عین ممکن ہے کہ اس ملک میں امن و امان، ہو ،،،،،

قیزل