کیا ہم آزاد ہیں ؟

آذادی کیا ہے ؟ شاید ہم اس کی معنوی حقیقت سے اب بھی آگاہ نہیں ہیں، ہم مادیت پرستی کا عروج کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم بےجا طاقت و اقتدار کےحصول اور اسکا نچلے طبقوں پر اطلاق کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم مذہبی انتہا پسندی کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم ذہنی غلامی کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم اقتدار کی خاطر سچے انسانی جذبوں کو لگام دینے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم انسانی روح کو مقید کرنے کی کوشش کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور اس منبے کو سنگسار کرنے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ہمیں حقیقی آزادی کا ادراک کرنے کی از حد ضرورت ہیں ۔
ہم غیر اخلاقی رویوں کوآزادی سمجھ بیٹھے ہیں اس معاشرے میں تہذیب آذاد نہیں، سچ آذاد نہیں ، انصاف آزاد نہیں، باقی سب آذاد ہیں۔
دودھ بیچنے والا آزاد ہے، جتنا مرضی ، پانی ڈال سکتا ہے، ہمارا میڈیا آزاد ہے۔ لفافے میں لپٹی ” صحافت” آزاد ہے۔پیسے دو اور چرچے لو۔ ہمارے ادھر انصاف بھی بکتا ہے، صرف دام بڑھاء.. فیصلہ اپنے حق میں کروائو ہمارا تاجر آزاد ہے۔ ملاوٹ شدہ مال بیچتا ہے، دوا فروش آزاد ہے دو نمبر ادویات بجتے ہیں،ہمارا ، ہر طبقہ آزاد ہے،حد تاکہ ٹریفک سگنل پہ کوئی قاعدہ و قانون نہیں کوئی روک ٹھوک نہیں آذادی ہے۔قاتل آذاد ہے اہل مقتول پابند سلاسل ۔جھوٹ آزاد ہے سچ پہ سزا ہے ۔ اور کیا کیا گنوا لوں ۔۔
اگر برصغیر کی تاریخ کاغایرانہ نگاہ سے مطالعہ کی جائے تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ جو انسانیت کی تذلیل اور ظلم بنی نوع انسان پر مذہب و آزادی کے نام پر سر زمین پاکستان پر ہوئی ہیں وہ سر زمین برصغیر پر اس سے پہلے نہیں ہوا۔ ۔۔ پاکستان اس لئیے آزاد نہیں ہوا کہ یہاں طاقتور اور اہل زر حکومت کریں اور نہ ہی اس لئیے کہ کمزوراور شریف انسانوں کے گلے میں غلامی کا دائمی طوق یا غلامی کی زنجیریں، ہاتھوں میں ظلم وجبر کی ہتھکڑیاں اور پیروں میں بے کسی و بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے کے لئے آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی جسمانی آزادی کی غرض سے کم بلکہ عقلی و ذہنی آزادی کی خاطر ہوا تھا ۔ یہ آزادی انساتیت کو معراج بخشنے کے واسطے ہوا تھا ۔مگر سب کچھ الٹا ہوا ۔ اب بھِی وقت ہیں ہمیں سوچنا چاہیے
غلامی صرف جسمانی غلامی نہیں بلکہ غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔مثلا ۔۔۔میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ آج جسمانی غلامی ، قانونی غلامی ، نفسیاتی غلامی اور ذہنی غلامی پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی ہیں غلامی کی اس بدترین شکل کے نتیجے میں آج اس ملک جسمانی غلام ، نفسیاتی غلام ، اور ذہینی غلام بغاوت پر اتر آئےہیں۔ ۔۔۔
عصر حاضر کی عین ضرورت ہیں کہ اس ملک میں بسنے والے تمام انسانوں کو بغیر کسی تفرق کے علم سے آراستہ کیا جائے ۔۔۔ گلگت بلتستان کو مکمل خود مختاری دی جائے، خیبر پختونخواہ کےقبائلی علاقوں کی پسماندہگی دور کی جائے ، بلوجستان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے عزم کا اعائدہ کیا جائے، سندھ میں نسلی تعصب ختم کی جائے ۔۔پنجاب میں جاگیردارانہ یا برادری نظام کو ختم کیا جائے ۔۔۔۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں دی جائے ، اور پاکستان کو انسانیت پرست ملک بنا دیا جائے ۔۔۔۔ تو عین ممکن ہے کہ اس ملک میں امن و امان، ہو ،،،،،

قیزل

Advertisements

بدلا نام ،گم ہوئی تاریخ گلگت بلتستان

کرنل ڈین کے مطابق کسی قوم کو بغیر جنگ کے غلام بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ذہن کنٹرول کیئے جائیں۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان۔ جب تک کسی انسان کا ذہن آزاد ہو گا وہ غلامی کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی عوام کا زندگی کے بارے میں نظریہ اور اقدار اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے تو وہ عوام کی سمت بھی کنٹرول کر سکتا ہے اور انہیں بڑی آسانی سےغلامی یا تباہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ اس قوم کو غلام بنانے کے لئے لازمی ہے اس قوم کی جڑوں کو کاٹ دیا جائَے یعنی انکی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرئَے یا انہیں انکی تاریخ سے دور رکھا جائے

تاریخی معلومات کو دو طریقوں سے مسخ کیا جاتا ہے ایک غیر ارادی طور پر جسے روایات کے ذریعے اگلی نسل کومنتقل کیا جاتا ہے اور دوسرا ارادی طور پر جسے کسی خاص منصوبے کے تحت، جان بوجھ کر مسخ کیا جاتا ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ کو نئے نسل تک حقیقی حالت میں پہنچانے سے گریز ارادی طور پر کیا گیا ۔ اسے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محض غلط فہمی یا لا پرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں مگر اس عمل میں شدت اس وقت آجاتا ہے، جب ایک شخص یا گروہ اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرتے ہیں ۔مثلا گلگت بلتستان کی تاریخ کو پاکستان اور کشمیر کے سیاسی و مذہبی رہنماوں نے اپنے مفادات کے خاطر تاریخ کو مسخ کرتے آرہے ہیں جس میں گلگت بلتستان کے نام نہاد سیاسی و مذہبی مفاد پرست لوگ بھی شامل ہیں۔ ہمیں جان بوجھ کر تاریخ سے دور رکھا جا رہا ہے، ہمیں ذبرستی کبھی پاکستان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر کا تو کبھی ہندوستان کا ،ہماری تاریخی کارناموں کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ، ہمیں وہ اپنی تاریخی کارنامے ، اپنے سیاسی و مذہبی قائدین کے قصے، اپنی ثقافت و روایات ، اپنے طرز معاشرت ، وہ اپنی زبان ، اپنی ادب وغیرہ وغیرہ پڑھتاتے ہیں ، پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں ہم نے اپنی زبانوں کو نہیں پڑھا، ہم نے اپنے روایات و ثقافت کا علمی تشہیر نہیں کی ، ہم اپنے طریقہ نظام حکومت سے نا واقف ہیں، ہمیں اپنے راجاوں و میروں کی تاریخ کو مسخ کر کے بتاایا گیا یا انکے صرف کمزریوں کو نما یاں کر کے ان سےنفرت پیدا کرایا گیا ۔

اول تو ہمیں علمی دنیا سے دور رکھا گیا اور اگر کہیں درسگاہیں ، اسکول، اور آذادی کے نصف صدی بعد کوئی یونیورسٹی بنایا بھی گیا تو ان مِیں طالب علموں کو غیر ممالک کے قدیم بادشاہوں کے حالات، میدان جنگ کے نقشے، اور واقعات پڑھائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے تو ہم ہندوستان ، عرب و عجم کے قدیم بادشاہوں کے حالات ایک ایک کرکے بتادئنگے لکین مادر وطن کے میروں و راجاوں، جنگ آذادی کے اعظیم رہنماوں کے متعلق پوچھو تو گونگے ہو جاتے ہیں یا کچھ حتمی علم نہیں ہوتا۔ انگلستان و برطانیہ کے بادشاہوں ۔رچرڈ، چارلس، اور جیمز خاندان کے حالات پوچھو تو بڑے فخر سے فرفر بتائے گے لیکن راجہ بغیر تھم، شری بدت، مغلوٹ، گرکس، میر جمال خان، ،خاندان تراخان و مقپون، علی شیر ایچن ، آزادی گلگت بلتستان کے نامور رہنما کرنل مرزا حسن خان وغیرہ کے بارے میں پوچھو تو لاعلمی کا اظہار کرئنگے۔ ہندوستان ،انگلستان و عرب کے قدیم باشاہوں کے کارناموں کا ،طرز سلطنت، عدل پروری، اور اصلاحات کے مداح ہونگے لیکن رانی جوار خاتون کی شجاعت،انصاف، رعاء پروری، اور اصلاحات سےکوئی فرد واقف نہیں ہوگا۔ اور دور حاضر میں ہم بھٹو، عمران خان، میاں ، اور الطاف و ذر کے شعلہ بیانی پر واہ واہ کرینگے لکین شہید وطن مرحوم حیدر شاہ رضوی، نواز خان ناجی، بابا جان،منظور پروانہ وغیرہ جیسے ںڈر سپوت کے فکر انگیز تقاریر سن کر خاموشی سادھ لیتے ہیں

ایسا کیوں ہے ؟ کسی قوم انکی تاریخ سے کیوں دور رکھآ جاتا ہے ؟؟ ہمارے اندر ایسا راویہ کیوں پیدا ہوا ہے ؟؟ایسا اس لیے ہیں کہ ہم تاریخ شناس نہیں اس لئے ہم باآسانی پنجابی، سندھی، پٹھان وغیرہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ہماری اپنی کوئی نمایاں پہلو نہیں رہا ہے ہمیں کالونیل حکومتوں کے ذہنی غلام بنانے کے لئے تاریخ سے دور رکھا گیا ہے، یا ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ سیاسی خاندانوں کی تبدیلی کی تاریخ ہے اسکی تاریخ میں کوئی فکر ، خیالات کی گوناگونی اور تبدیلی کی کشمکش نہیں ۔ ہماری تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کا تعلق ماضی سے ٹوٹ جائَے، جب لوگ تاریخ سے بیگانے ہوجائے ، ان میں تاریخ شناسی ختم ہوجائے تو اسکے نتیجے میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ انہیں اپنی شناخت کی کوئی فکر نہیں رہتی ۔ان کے پاس تاریخ سے حاصل کرنے والا کوئی جذبہ نہیں رہ جاتا ۔وہ مکمل طور پر ذہنی غلام بن جاتے ہیں۔

تاریخ شناسی ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں میں شناخت کو پیدا کرتا ہے مزاحمت کا احساس دلاتا ہے، حقیقی تبدیلی کے لئے ذہنوں کو تیار کرتا ہے اپنی مارد وطن کی خدمت انجام دینے کا احساس پیدا کرتی ہے اپنی وطن سے محبت ان میں پیدا کراتی ہے۔ تو وقت حاضر اور دور جدید کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو کھونے نہ دے ، اپنی تاریخ کو آنے والی نسل تک درست انداز میں منتقل کرے، تعلمی اداروں میں اپنی زبان و ثقافت اور تاریخ کو پڑھائے ۔ تاریخ پر ریسریچ کرنے کے مواقعے فراہم کرئے۔حکومت وقت سے یہ امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جس سے قوم کے اندر شعور پیدا ہو۔


وفاقی جماعتوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

مولا مدد قیزل

یہ کوئی بہادر ، عوام دوست ، غریب پرست ، یا ان کا ماضی عوامی خدمت میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ  میرے پڑھے لکھے نوجوان دوست انہیں اس لئے  ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے ، کہیں انکو گورنمنٹ سروس کا کوئی راستہ ملے ۔۔پاک چین راہ داری کا جو سوشا ہے اس میں کہیں کوئی دو چار آنے کمانے کا موقعہ نصیب ہو ۔۔اور وجہ کیونکہ یہ فیڈرل پارٹیز کے کارندے ہیں جو انہیں ترقیافتہ کاموں کے لئے فنڈز دینگے ۔ بس اتنی سی ہے ہمارے سوچنے اور غور کرنے کی حد ؟؟؟ بقول انکے کہ جب حق پرست ، نڈر ، بہادر ، سرزمین گلگت بلتستان کا سپوت نواز خان ناجی صاحب جیت کے اپنے لوگوں کے لئے کیا کیا ؟؟؟  ایک با شعور اور باضمیر ، انسانی جذبوں سے آراستہ و پوستہ فرد کے لئے نواز خان ناجی کا جیت جانا ہی سب کچھ ہے ۔ ان کے لئے امید کا ایک کرن ہے ،شبسنان میں رہنے والوں کے لئے طلوع آفتاب ہے ، کیونکہ انکی زندگی دو وقت کی روٹی نہیں ، انکا مقصد گلے میں زنجیر باندھے بادشاہ کے حکم پر ناچنا نہیں، یہ لذید کھانے کا شوقین نہیں۔ بلکہ انکی روح میں آزادی کی چاہت ہے ، انکی جذبوں میں برابری ، مساوات ، اور انسانی حقوق کی روانی ہے ،

جبکہ پاکستانی  فیڈرل پرست لوگوں کا رویہ افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کی ہے جو سفید فام ظالموں کے خلاف مزاحمت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان ، اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی،کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار انکے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے ۔انہیں نشان عبرت بنا دیتے ۔مگر انسانی ذیست میں رب کائنات نے جو آذادی کے جراثیم رکھے ہیں ان سے کوئی روگردانی کیسےکر سکتا ہے ۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ، مذاحمت کرتا ہے ، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے سہنے  والی جبر و ظلم کو  کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

ںواز خان ناجی کا جیتنا اور انہیں اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کا مدد نہیں کرنا، انہیں اور عوام کو مجبور کرنا ، ہم پر مسلط باشاہوں، حکمرانوں اور غاصبوں  کا شیوہ رہا ہے اور یہ چال ہے کہ تمہیں یہ سب دیکھا کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر دلیر ۔ بہادر اور دور اندیش نوجوان کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ، اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں ووٹ ایک نوکری کی مد نہیں دینی چاہیے ، ہمیں رشتہ دار ، ہم زبان ، اور ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر نہیں دینا چاہیے ۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی اور حال میں درپیش مشکالات، سنحاحات، اورمسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے ، ہمیں ایک روشن آذاد مستقبل کی مد میں ووٹ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ریاستی غنڈا گردی کا جواب سوچ و بچار سے دینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اصلی اور کھوٹے سکوں  میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ووٹ کا صیحی حقدار وہ ہے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی دلانے کی
Published@ GBVotes & Pamirtimes

ہمیں کیسا سیاسی لیڈر چاہیے ؟؟؟

ایک ایسا معاشرہ جہاں ظلم و بربریت عام ہو، جہاں فرقہ واریت کا زہر انسانیت کی رگ و پے میں سریت کر  چکی ہو، جہاں انصاف طاقت کے بل بوتے پر ملے، جہاں دہشت گردی حکومت کی سر پرستی میں یا پھر آنکھوں کے عین نیچے ہورہی ہو، جہاں غریب سہمے اور خوف سے لرز جاتے ہوں ،جہاں نوکریاں مسلک ، علاقے، اور سیاسی تناظر میں ملتے ہوں  جہاں انسان وحشی درندے بنے ہو،  ایک ایسے علاقے میں آپ کو کیسا لیڈر چاہیے ؟؟

ایسا بہارد لیڈر جو اس ظلم و جبر کی خوف ناک  طوفان  سے ٹکرائے جس نے سارا معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لی ہے ۔۔ ۔۔ یا ایسا دور اندیش لیڈر جو ان حالات کامقابلہ نرمی اور دانشمندی سے کرے، یا ایسا لیڈر جو خود غرض ، دھوکے باز اور نادیدہ قوتوں کا کھٹ پتلی ہو ؟؟؟ یا پھر ایک ایسا لیڈر جس کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہو؟؟ یا ایسا لیڈر جو شہرت کا بھوکا ہو ؟؟

 ذرا سوچیے کہ معاشرے کے ان مایوس کن حالات میں آپ اپنی ووٹ کی طاقت سے کیسے لیڈر کو آگے لانا چاہتنے ہیں؟ بتائے کہ ووٹ کسے دیا جائَے ۔ کیا ووٹ نظریاتی بنیاد پر دی جائے ، یا لسانی، علاقائی یا نسلی بنیاد پر دی جائے یا پھر اپنے  “عزیزوں” کو دی جاِئے ؟؟؟ بتائے کہ آپ کے ووٹ کا صیح حقدار کون ہے؟ آخر ووٹ کسے دیا جائَے ؟؟

عصر حاضر کا ہم سے کیا تقاضا ہے ؟ ہمیں کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟ ہمیں کیسا ماحول چاہیے ؟ کیا ہم دوسروں پر فوقیت نہیں بلکہ ہم برابری چاہیتے ہیں ؟؟ کیا ہمیں سوچ و فکر، طرز زندگی، ثقافت ونمدن ، بول چال ،رہن سہن وغیرہ میں گونا گونی چاہیے نہ کہ انتہا پسندی ؟؟؟ کیا ہم ذات برادری، پیری فقیری وغیرہ وغیرہ سے نکنا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم معاشرے کے ہر طبقے میں ہم آہنگی چاہتے ہیں ؟ کیا ہم جدید زمانے سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم دنیا کے آزاد اور ترقی یافتہ معاشرے کے صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔؟؟

اگر ہاں تو یہ سب ایک مخلص ، دیانت دار، صالح اور عقل و فہم سے آراستہ لیڈر ہی کی بدولت ممکن ہے جسے آپ اپنی قیمتی ووٹ کے ذریعے اپنا حمکران چنتے ہیں۔ یہ سب وہ سولات ہیں جن کے تناظر میں آپ کو ایک سیاسی رہنما کا انتخاب کرنا ہے۔ ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ دانشمندی سے فیصیلہ کرنا ہے ۔ ہمیں اپنی کمزریوں  کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، ہمِیں اپنی ذات، انا، خاندان، مذہب ، علاقہ ، زبان،سیاسی وابستگی ، نظریات وغیرہ کو بالائے طاق  رکھ کر فیصلہ کرنا ہے  ہمیں کم از کم  آنے والے دس بیس سالوں کومد نظر رکھ کے فیلصہ کرنا ہے ،ہمیں ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں اتحاد باہمی اور احترام باہمی کو ملحوظ رکہ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔

  ہماری بے بسی کا مذاق  اڑایا جاتا ہے، ہماری بے حسی پر اغیار  ہنستے ہیں۔ کھبی ہمیں بزدل  گردان کر فساد پر اکستاتے ہیں تو کبھِی ہمیں قتل کر کے غدار شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔کبھی ہمارے عقائد میں دراڈیں اور شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی انہی عقائد کو مسلمہ جان کر اسکی دفاع کے لئے مذہبی غنڈے تیار کرتے ہیں۔

یوں نت نیے انداز میں ہمیں آپس میں لڑائَے اور الجھائے رکھتے ہیں۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے ، اپنی دھرتی،سے ، اور اپنے لوگوں سے مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔ اجتماعی استحکام، یگانگت، یکجہتی اور ترقی کیلئے ہمیں تمام انفرادی مفادات کو قوم اور ملی مفادات کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں علاقائی، ذاتی اور نسلی تعصبات اور نفرتوں کو خیرباد کرنے کی ضرورت ہے اور ہم تب ہی ایک حقیقی ، باکرادا، صالح، دلیر، دانشمند، کھرا ، نڈر اورسچا لیڈر منتخب کر سکیں گے۔   تب ہی ہم ایک ایسے لیڈر کے انتخاب میں کامیاب ہونگے جو ہماری امنگوں کا ترجمان ہوگا جو ہماری دلوں کی آواز ہوگا ۔۔ ۔

پس ہمیں ایک ایسے لیڈر چاہیے جن کے پاس ان تمام سولات کا عملی اور مثبت جواب موجود ہو، آئیں اپنی انا اور ذات سے بالا تر ہو کر ایسے لیڈر کو منتخب کرے۔
published@ Pamirtimes

غلامی اور گلگت بلتستان

گلے کا طوق ہے اب بھی غلامی کی یہ زنجیریں
لگے ہیں عقل پہ تالیں جو بولے اس پہ تعزیریں

وہ پہلے کنگ تھا پھر سنگھ پھرجمہور کے نخرے
سب ہی نے ہم کو پہنائیں بڑی رنگیں زنجیریں
قیزل
یہ بات سچ ہے کہ غلام معاشرے ہمیشہ انتشار کا شکار رہتے ہیں۔اور ان  پرقابض حکمرانوں کا منشا بھی یہی ہوتا ہے ۔جب تاریخ کے اوراق کا مطالیہ کرتے ہیں تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ دنیا کےتمام تہذیبوں نے غلامی کو مذہبی ،اخلاقی، اور انسانی بنیادوں پر جائز قرار کر اسے معاشرے کے استحکام اور ترقی کا ضامن قرار دیا۔ بلکل اسی طرح گلگت بلتستان کو کشمیر کی آذادی سے منسوب کر کے انہیں اپنی غلام بنایا رکھا ہے جبکہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے قانون تحت اپنے ماتحت رکھا ہے۔
غلام نجی جائیداد کے زمرے میں آتے ہیں اس لیے ان کی حیثیت ملکیت کی ہوتی ہے۔ اس لیے غلاموں کے انسانی درجہ کو گھٹا کر اسے محض جائیداد کا ایک بے جان حصہ سمجھا گیا ہے جس پر اس قابض ملک کے آقا کا اختیار ہوتا ہے کہ جس طرح کا وہ چاہے اس کے ساتھ سلوک کریں اور اسے استعمال کرے یا کسی اور کے ہاتھ بھیج دے۔ اسی لیے ایک غلام کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسکا اپنا نام بھی نہیں ہوتا ہے اسکا مالک جو چاہیے وہی نام رکھتا ہے اور وہی اسکا شناخت بن جاتا ہے۔ بلکل اسی طرح گلگت بلتستان کی حقیقی شناخت کو اسی دن ہی دفن کیا گیا جس دن یہ اسلامی جہوری سلطنت کے قبضے میں آگیا کبھی اسے ناردرن ایریاز کہا گیا تو کبھی گلگت ایجنسی اور آج کل گلگت بلتستان ۔۔۔ پھر کل کوئی اور نام ؟؟ حد تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ ذر خرید غلاموں کو اپنا حقیقی شناخت کا بھِی پتہ نہیں، وہ اسی میں ہی خوش جس نام سے ان کے  آقا انہیں بولاتے ہیں۔
اور جب یہ گمنام ، خاموش،  حسرتوں و محرمیوں کا کوئی غلام آذاد ہونا چاہتا ہے، برابری چاہتا ہے، غلاموں میں شعور پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسےذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،تاکہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بنے، اس قوم میں انتشار پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ انکے غلام رہے۔ اس قوم کو علمی اور شعور کی دنیا سے دور رکھتے ہیں انہیں جدید سہولیات سے محروم رکھتے ہیں، بقول  پاؤلو فریرے” کہ ترقی ، تعلیم، خوشحالی، غلام قوموں کے کب حصے میں آئی ہے وہ تو صرف تربیتی ادارے بناکر اپنی ریاست کے لیے فرمانبردار ملازم بناتے ہیں۔” ۔ ۔ ۔ ۔
تو جناب حقیقت بڑی تلخ ہےاورکہانی بہت طویل ۔۔ بات بس اتنی سی ہے کہ آپ کا ضمیر کتنا باضمیر ہے۔  آیا آپ کوغلامی میں جو بھِی پکارا جائے منظور ہے۔ آپ سے جو بھی کام لیا جائے منظور ہے، آپ کو جوبھی سمجھا جائَے منظور ہے ۔۔ تو بس آپ کی قسمت چاٹتے رہیے اپنے آقا کے تلے ۔ ۔ آپ بھی خوش آپکے آقا بھی  ۔ ۔ ۔

نوروز نام ہے خود احتسابی کا


ایم ایم قیزل

کوئی بہار سے بھلا منہ کیسے موڑسکتا ہے۔جناب یہ  بہار کا موسم ہی تو ہے جو ہر سال ایک نیا پن لے لاتا ہے۔ زمین ایک نئی زندگی پاتی ہے تو ادھر درختوں پر پھولوں کے شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ سورج اور زمین سمیت اس پورے نظام شمسی میں ایک  ارتقاء یا تبدیلی   جنم لیتا ہے۔ سردی سے ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﮯ ﺭﻭﺯ ﻭﺷﺐ کے ایام  بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں تو  روئے زمین پر بسنے والے تبدیلی پسند لوگ  زندگی میں آنے والی تمام تبدلیوں کو اجتماعی طور پر نوروز سے منسوب کر کے اس تبدیلی کو  مناتے ہیں۔

جناب ۱ اہل فارس  اسے عید کے طور پر برسوں سے مناتے ہیں کہتے ہیں مشہور ایرانی بادشاہ زرتشت کے دور میں نوروز کو خصوصی مقام حاصل ہوا۔ زرتشت کے دور میں نوروز چار قدرتی عناصر پانی ، مٹی ، آگ اور ہوا کا مظہر اور علامت سمجھا جاتا تھا۔  ۔مغربی چین سے ترکی تک،  ایران، افغانستان، تاجکستان، ازبکستان،پاکستان کے علاقے اور شمالی عراق کے لوگ نوروزبڑے اہتمام سے منا تے ہیں

 تو کچھ لوگوں کا دعویٰ ہیں کہ مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت و وصایت کا رسمی اعلان اسی دن ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دن منجی عالم بشریت  یعنی امام مہدی کے ظہور فرمائیں گے۔  تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار سورج کی روشنی اسی دن سیارہ زمین پرپڑی۔جناب وہ نوروز کا دن ہی تھا جس دن طوفان نوح تھم گیا۔ یہ وہی دن تھا جس دن حضر ت موسی نےعصا کا معجزہ  دیکھایا اور فرعون کے جادو گروں کو مات دی۔۔ تو جناب عالی ۱ ان دعوں کا ایک بہت بڑی لیسٹ ہے۔ ۔ ۔  ان میں کتنی صداقت ہے اس سے مجھے کوئی لین دین نہیں ۔۔ مگر جناب میں زندگی کے ہر شعبے میں وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلی کا خواہاں ضرور ہوں ۔

 بلا کوئی کیوں نہ ہو کیونکہ زندگی ۔۔ تبدیلی کا دوسرا نام  ہی تو ہے۔ ۔ اور یہ مثبت تبدیلی ہی ہے جو مجھے اور آپ سب کے لئے وجہ مسکراہٹ ہے۔ تو دوستو مسکراتے  رہیــــــے ،خوش رہیــــــے،شــــاد رہیــــــے آباد رہیـــــــــے ۔۔

اور یہی نو روز کا پغام بھی ہے جو مجھے اور آپ کو ایک لمحے کے لئے غور و فکر کرنے کا موقعہ دیتا ہے۔یہ سوال کرتا ہے  کہ اے اہل خرد ، اے حضرت انسان، نہ جانے تو کتنے ایسے مذہبی، ثقافتی و دنیاوی تہوار ازل سے  مناتے آ  چلے ہو، مگر کچھ ہی لوگ ہیں جنہوں نے ان رسومات سے حقیقی خوشی و شادمانی حاصل کی ۔ ذرا تو یہ بتا کہ نہ جانے تیرے زندگی میں کتنے  اس طرح کے ماہ وسال آتے اور جاتے رہتے ہیں اور  اس کا تجھے احساس تک نہیں ہوتا۔ ۔ میرے عزیز تہوار اچھے کھانے ، نئے کپڑے زیب تن کرنے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کا نام نہیں  بلکہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں پر سوچنے کا نام ہے  آنے والے سال کو کس طرح کارآمد اور قیمتی بنا سکتے اس پر کچھ  غور وفکر کرنے کا ایک موقعہ ہے۔ میرے رفیق ، یہ تہوار مادی و معنوی  خود احتسابی  کرکے سال نو کیلئے منصوبی بندی کا  نام ہے۔ یہ تہوارت  ایک فکری لمحے کا نام ہے۔ یہ ہمیں بغیر ٹہرے گزرتے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی گھنٹی ہے، یہ ایک ایسی فکری لمحے کا نام ہے جو انفرادی و اجتماعی بالخصوص قوموں کی زندگی میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اگر زندگی کے یہ لمحات چند گھنٹوں کی مادی خوشی کی نذر ہو، فضولیات اور خرافات میں گزارے۔ اور اگر ہم اپنے گزرے ہوئے لمحات کے آئینہ میں اپنے عمل کا محاسبہ نہ کریں  تو جناب سمجھ لیجے گا۔ کہ یہ ایک لمحہ کی بھول آپ کے کارموں پر پانی پھیر سکتی ہے جبکہ اس ایک لمحے کا صیح استعمال نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر قوموں کی زندگی سنوار سکتی ہے ۔ ۔ تو بس وہی لوگ بازی لے جاتے جو ماہ وسال کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ تو نوروز ایک بہترین موقعہ ہے کہ ہم خود احتسابی کر کے ایک نئی امنگوں بھری مستقبل کی طرف روان دواں ہوں

تودوستو ہم بات کر رہے تھے نوروز کی  یعنی شمسی سال کا  نیا دن یا پہلا دن جو کہ علامت ہے تبدیلی کا، بہار کی آمد کا موسم سرما کی موت اور فطرت میں خوبصورت رنگ بھرنے کا، خواب و غفلت سے انسان کے بیدار ہونے کا،سوچ و فکر کے نتجے میں جاگ جانے کا ، فطرت سے متصل ہوجانے کا،تو آیئے زندگی میں آنے والی ہر اس فطری تبدیلی کا خیرمقدم کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کی قدر کرے، ہر لمحے کو غنیمت جان کر اسے اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسل کے لئے بیش قمیت بنائے۔

سال نو آپ اور آپ کے خاندان ۔ ملک و ملت میں خوشیوں کا بہارلے آئے، ملک و ملت میں موجود گوناگونی مثل باغ و گلشن بن جائے۔ آمین

PT

گلگت بلتستان میں خواتین کی حکمرانی


اگر بزمِ انساں میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی

کچھ دن قبل “End Violence Against Women” کے موضوع پر ترقی پسند نوجوانوں کی ایک تنظیم نے ایک سمینار میں گلگت بلتستان کی تاریخ میں خواتین کی حکمرانی پر کچھ بولنے کی دعوت دی، جس میں اپنی ناقص علم و سمجھ کے مطابق اپنے خیالا ت کا اظہار کیا، اس میں کچھ شک نہیں کہ عورت ایک خوشحال اور زندہ معاشرے کا روح رواں ہے۔

انسانی معاشرے بحیثیت اجتماعی ہو یا انفرادی جب اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں تو وہ غیرصحت مندانہ معاشرہ یا فرد کہلاتا ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ مرد اور عورت ایک زندہ معاشرے کے دو پر ہیں جس پر پورے معاشرے کا اڑان اور بلندی کی طرف پرواز منحصر کرتا ہے اگر ان میں سے کوئی ایک پر بھی کاٹ دی جائَے تو یہ معاشرہ لنگڑا، گونگا، بہرا معاشرہ بن جاتا ہے،اور یہ لنگڑا معاشرہ کسی درندہ صفت مخلوق کا نظر ہوجاتا ہے اور آخر کار موت اسکا مقدر بن جاتا ہے ۔

ایم ایم قیزل

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کبھِی عورت کو کو بہت اونچا مقام دیا تو کبھی اسکی اتنی تزلیل کی کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے اسے کبھی دیوی بنا کر اسکی پوجا کی گئی تو کبھی شیطان ، کند ذہین ، فتنہ و فساد کی جڑ گردان کر زندہ درگور کیا گیا۔ اسے کبھی جنس لطیف، وجہ سکون، صنف ناک، جیسے الفاظ سے تعبیر کیا تو لونڈی، وجہ شر جیسے نازیب الفاب سے تشبہ دی گئی۔

جب فطرت کی جدید تخلیق، یعنی عورت معضوع گفتگو ہو اور تو کوئی وادی حسن و جمال، سر زمین آبشار، وادی گل پوش و برف پوش گلگت بلتستان کی بلند و بالا پہاڈوں پر بسیرا کرنے والی عورتوں کو کوئی صرف نظر کیسے کر سکتا ہے ۔ جس طرح گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے بلند اور اونچا ہے اسی طرح ان بلندیوں میں رہنے والی خواتین بھی با ہمت ، دلیر، بہادر اور بلند کردار کے مالک ہیں۔ اس کی مثال تاریخ میں حکمرانی کرنے والی ملکہ نوربخت، دادی جواری اور نور بی بی تھے اور عصر حاضر میں علم و فن ،سپورٹس، تحقیق اور آرٹ میں ملکی اور غیر ملکی سطح پر نمایاں کردار ادا کرنے والے کئی خواتین آپ کے سامنے ہیں ۔

آئیں آپ کو گلگت بلتستان پر حمکرانی کرنے والے ان با صلاحیت خواتین سے روشناس کراوں جنہوں نے تخت بادشاہت پر جلوہ فرما ہو کر حکومت سنبھالی۔ یہ قدیم دردستان ہو کہ بروشال یا موجودہ گلگت بلتستان گلگت ہمیشہ سے درالخلافہ رہا، کہتے ہیں کہ قصر نامی راجہ جو کہ بدھ مت کا پیروکار تھا نے یار قند، ترکتسان، بدخشان، اور چترال کو فتح کرتے ہوئے گلگت پر وارد ہوئے اور یہاں “بغیرتھم” کو اپنا گورنر بنا کر یہاں سے نکل پڑے۔اس کے بعد بغیر تھم کے خاندان نے اس علاقے پر حکومت کی، بغیرتھم کے بعد اس کا بیٹا آغور تھم نے تخت گلگت سنبھالا، جس سے تارِیخ گلگت بلتستان کے ظالم و جابر حکمران شری بدت پیدا ہوئَے۔اس جابربادشاہ کے متعلق بہت سی غیر یقینی روایات مشہور ہیں جو سینہ بہ سینہ چل کر یہاں تک پہنچیں ہیں، اس آدم خور بادشاہ شری بدت کی صرف ایک اکلوتی بیٹی نور بخت تھی جس کی پرورش انکا رضاعی باپ “جٹئےلوٹو” کے زمے تھا۔ لوگ اس آدم خور بادشاہ سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے مگر کرے بھی تو کیسے، ایک دن ہوا یوں کہ ایران سے ایک قافلہ پہنچا جس میں وہاں کے شاہی خاندان کا ایک فرد آزرجمشید تھا، جٹئے لوٹو، اور شری بدت بادشاہ کے دو وزیرشردہ بین اور اردہ کون نے اس شاہی خاندان کے اوالاد کو نجات دہندہ سمجھ کر ملکہ نور بخت کی آزرجمشید سے شادی کرالی جو کہ بعد میں واپس چلا گیا۔

لوگوں نے آخر کار ملکہ نور بخت کی مدد سے اس ظالم بادشاہ کو قتل کیا اور ملکہ نور بخت خود تخت گلگت پر براجمان ہوئی۔ ملکہ نور بخت نے 14 سال تک حکومت بڑی خوش اسلوبی اور نہایت تدبر سے چلائی۔ انہوں نے اپنے ظالم باپ کی حکومت سے نجات دلانے میں عوام کا بھر پور ساتھ دیا۔ پھراس نے حکومت کی بھاگ دوڈ اپنا بیٹا راجہ کرک کے حوالے کیا۔

یوں ابن بادشاہ ابن بادشاہ کی کہانی چل رہی تھی کہ گلگت کا راجہ شیر خان اپنا ہی وزیر ایشو اور یاسین کا راجہ خوشوقت کے ہاتھوں قتل ہوا تو اسکا بیٹا مرزہ خان تخت نشین ہوئے اسے بھی اسی وزیر ایشو نے نگر کا راجہ کمال خان کے ہاتھوں قتل کرایا۔ راجہ مرزا کی ایک اکلوتی بیٹی جوار خاتون کو گلگت کے تخت پر بیٹھایا گیا جوار خاتون انتہائی دانشمند اور دور اندیش تھی یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1635ء کا ہے ۔ جب چالاک وزیر ایشو نے دادی جواری کی شادی نگر کے ایک گشپور فردوس سے کرالی اور پھر اسے واپس نگر بھیج دیا تو دادی جواری نے ایشو کے عڑائم سمجھ گئی اور اسے بگروٹ کسی بہانے سے بلا کر قتل کیا اور حکومت کی بھاگ ڈور مکمل طور پر خود سنبھال لی۔ رانی یا دادی جواری اپنے وقت کی ایک مدبر اور بہترین حکمران ثابت ہوئِی وہ ان سے پہلے آئے ہوئے تمام حکمرانوں پر نمایاں نظر آتی ہے ۔ وہ جرات و استقلال میں بے مثال تھی۔کہتے ہیں کہ سلطنت کے ہر کام اور ہر گوشے پر اسکی نظر تھی۔ انہوں نے اپنی عہد میں کر گہ نالہ سے گلگت شہر کے لئے پانی کا نہر بنوایا۔ جو کہ ایک اہم کارنامہ ہے ۔ نیز وہ گرمیوں میں راریل جاتی اورمو سم خزان میں گلگت آجاتی تھی۔

آئیے گلگت کے مضافات سے نکل کر وادی ہنزہ کی طرف چلتے ہیں جہاں نور بی بی نام کے ایک خاتون حمکران کیسے بنی ۔ ریاست ہنزہ نگر کئی عشروں تک ایک ہی بادشاہ کے زیر تسلظ رہا۔ راجا میعور خان۔۔ لالی تھم ۔۔ جس کا نسب گلگت کے راجہ رئیس خان سے ملتا ہے نے گلگت کے راجہ ترا خان کی بیٹی سے شادی کی جس سے دو بچے جمشید مغلوٹ اور صاحب خان گرکس پیدا ہوئے۔ دونوں بچوں میں تناو ختم کرانے کے لئے لالی تھم نے بڑا بیٹا گرکس کو ہنزہ اور چھوٹا بیٹا مغلوٹ کو نگر کی حکومت دے دی۔ جس پر مغلوٹ نے گرکس کے ساتھ دشمنی مول لی ۔ چناچہ دونوں میں شدید مخالفت پیدا ہوئِ اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے، بعد اذاں جب مغلوٹ کو موقع ملا تو اسکے حامی آدمی مغل بیگ کی مدد سے گرکس کو قتل کر دیا۔

راجہ صاحب خان ۔۔گرکس کے قتل کے بعد اسکی اکلوتی بیٹی نور بی بی اسکا جانشین بنی اور تقریبا 13 سال تک ریاست ہنزہ پر حکمرانی کی ۔ جب اہلیان ہنزہ پر یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ تخت ہنزہ کا اگلا وارث کون ہوگا؟ اس سلسلے میں عمائدین نے آپس میں مشاورت کی اور شغنان سے ایک راجہ خاندان کے اوالاد عایشو کو لے آئے اور غنیش ملکہ نور بی بی سے شادی کرا کے بادشاہ کے تخت پر بیٹھایا۔ خواتین ہنزہ کو اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ جو دیکھا بال، عزت و احترام، انکی پرورش کا خیال ،انکی حوصلہ افزائی جس طرح تاریخ میں ہوئی آج ہم نے وہ بہترین اقدار کھو دئیے ہیں ۔ مثلاَ ایک عورت کی عزت و آبرو، اور انکی تحفظ کا ذمہ دار صرف انکے ماں باپ ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ انکا پورا قبیلہ اسکی عزت و احترام کے لئَے کھڑے ہوتے اسکی عزت یعنی” شلژن مو ننگ” کسی قبیلے میں ہونا ان کے لئے باعث فخر ہوتا تھا۔ آج ہم اس روایت کو کھو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنزہ کے لوگ علاقے میں موجود شریف ، پاک دامن اور فرماں بردار عورتوں کا ایک تہوار “بوت” مناتے تھے جس میں ایسے عورتوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کے نام پر مسافر خانے ، راستے ، نہریں اور دوسرے چیزیں بناتے اور یہ اس خاندان، قبیلہ اور علاقے کے لوگوں کے لئے باعث فخرہو تا، اس علاوہ کئی اورایسے مثبت اقدار ہیں جنہیں دوباراپنا سکتے ہیں۔

گلگت بلتسان کی تاریخ و حال کو اگر دنیا کے دوسرے حصوں سے موازنہ کیا جائے تو عورتوں کے لئے اس معاشرے میں ہمیشہ سے نرم گوشہ رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پندرھویں صدی ہجری میں بھی عورت کو اس علاقے پر حکمرانی کرنے کا حقوق ملا جو دور حاضر کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ، ہر معاشرے میں منفی اور مثبت پہلوں ہوا کرتے ہیں عورت کسی صورت بھی مرد سے کم نہیں انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک مرد کو ہیں، بزبان حمکت هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وہی خد اہے جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے.

PT