( ناول: ٘محبت کے چالیس اصول (ایک جائزہ

40qiz٭٭ ناول: ٘محبت کے چالیس اصول ٭٭ از ٭٭ ایلف شفق ٭٭
**٭٭ تحریر: ایم ایم قیزل
محبت کے چالیس اصول ترکی اور انگریزی کے مشہور ناول نگارایلف شفق کی ایک بہترین ناول ہے جس میں انہوں نے رومی ا شمس تبریز کی دوستی میں تصوف کو بیان کیا ہے، اس ناول میں انہوں نے آٹھ سوسال قدیم رومی و شمس کی محبت کو اکیسوی صدی کی ایک کردار کے ذریعے نہایت دلچسپ انداز میں قرطاس قلم کی ہے
اس خوبصرت ناول کو پڑھ کر قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ زندگی محبت کا نام ہے عشق کی حلاوت بہت میٹھی ہوتی ہے چاہیے اس میں جتنا بھی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو، محبت کی کوئی تعریف نہیں ہوتی یہ پاک و صاف اور سادہ ہوتی ہے
اس ناول کو جس کردار کے ذریعے قرطاس قلم کی وہ ایک مانچسٹر میں رہایش پزیر چالیس سالہ ایلا ہے جسکی زندگی تین بچوں کی دیکھ بھال اور گھر میں طرح طرح کے کھانے پکانے میں گزر رہی ہے جبکہ شوہر کی غفلت انکے لئے باعث پریشانی بھی ہےانکی نظر میں محبت کو ایک فضول کام سمجھتی ہے اس لئے بیٹی کی پسند کی شادی کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔ ایلا کی زندگی میں تبدیلی تب آجاتی ہے جب انہیں ایک ادبی ایجنسی میں ایک ناول پڑھنے اور اسکا جائزہ لینے کی نوکری ملتی ہے یہ ناول دراصل فورٹی رولز آف لو ہی ہوتا ہے جس میں شمس تبریز اورمولانا رومی کی ملاقات اور انکے درمیان عشق کی داستان بیان کی گئی ہوتی ہے
یہ ناول شروع سے آخر تک نہایت ہی دلچسپ انداز میں دو متوازی محبت کے حکایاتی تذکرے کو قاری کے پر رنگین وخوبصورت وادی کی طرح صفحہ در صفحہ نہ صرف عیان کرتی ہے، بلکہ ہر صفحہ قاری میں ایک تجسس بھی پیدا کرتی ہے۔

ایلا کو جب سویٹ بلاسفمی نامی تاریخی و پر اسرار ناول جو کہ ممتاز صوفی و شاعر مولانا رومی اور شمش تبریزسے متعلق ہوتی ہے پر کام کرنے کے لیے دیا جاتا ہے تو وہ اس کتاب کے منصف عزیز زاہرا سے شروع میں بذریعہ سی میل پھر فون پر روجوع کرتی ہےبن دیکھے انکے خیالات و افکار سے متاثر ہوتی ہے اور ان سے محبت کرنے لگتی ہےمحبت کو خام سمجھنے والی ایلا کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی محبت کے بغیر بے کار اور ادھورا ہے جب انکے شوہر کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ انکی بیگم کسی کے محبت گرفتار ہوئی ہے تو وہ اسے منانے کی کوشش کرتا ہے وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اب کے بعد وہ اسے وقت دے گا اور وفادار رہے گا اسے نظر انداز نہیں کرے گا مگر تب تک ایلا عشق میں اتنا آگے بڑھ چکی تھی کہ واپسی محال ہوگیا تھا ۔ ایک دن عزیز ان سے ملنے انکے شہر آجاتا ہے جہاں ایلا سے وہ ایک ہوٹل میں ملاقات کرتا ہے ایلا انکے ساتھ جانے کا ارادہ کرتی ہے مگر عزیز انہیں بتاتا ہے کہ وہ انہیں کوئی روشن مستقبل نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ جلد کنسر کا مریض ہے نہ جانے کب اس کی سانس دم توڈ دے مگر ایلا سب کچھ چھوڈ چھاڈ کر شمس تبریز کے اس اصول کی پروی کرتی ہے اپنے دل کے فیصلے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔
ایلا اپنے شوہر اور تین بچوں کو چھوڈ کر عزیز کے ساتھ چلی جاتی ہے، ایک دن دونوں شہر قونیہ (ترکی) جہاں مولانا رومی مدفن ہے کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے ہوتے ہیں کہ اچانک عزیز فرش پر گر پڑتا ہے اسے قریبی ہسپتال لے جایا جاتا ہے ۔ ایلا ہسپتال میں عزیز کے بسترسے لگی بیٹھی انکے ہاتھ تھامے ان سے بات کرنے کی آرزو مند ہوتی ہے مگر عزیز نیم بے ہوش آنکھیں بند کئے بستر مرگ پہ لیٹا ہوتا ہے ۔ایلا چند لمحوں کے لئے مایوسی کے عالم میں کمرے سے باہر نکلتی ہے اور ہسپتال کے باہر جھیل کنارے کھڑی ہوکر جھیل میں کنکر پھنکتی ہے اور مایوسی کے عالم میں خدا سے شکایت کرتی ہے کہ زندگی کے کئی سال بیت جانے کے بعد انکے دل میں عشق کی چنگاری لگا دی اور اس کم عرصے میں پھر ان سے اسکی محبوب کو چھین لیا ۔
کچھ دیر بعد جب وہ کمرے میں واپس آتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک ڈاکٹر اور نرس نے عزیز کو سر سے پاوں تلک سفید چادر میں ڈھانپ لیا ہے عزیز اس دنیا سے جا چکا تھا انکی خواہش کے مطابق انہیں انکے مرشد مولانا رومی کی آرام گاہ کے پاس دفن کر دیا جاتا ہے اور ایلا ایک درویشانہ زندگی گزارنا شروع کرتی ہے

جبکہ دوسری جنانب شمس تبریز اور مولانا رومی کی داستان عشق کی کہانی قاری کو اپنی گرفت لئے آگے بڑھتا ہے شمس تبریزجو کہ بچپن سے روحانی خیالات کا پیکر ہوتا ہے وہ اپنے گھر کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہتا ہے اور ملکوں ملکوں ، شہر شہر درویشوں کی تلاش میں قونیہ پہنچ جاتا ہے جہاں وہ مولانا رومی سے ملتے ہیں، شمس جہاں بھی جاتے وہاں درویشوں کی دلوں پرانمٹ نقوش چھوڈ جاتے ہیں ۔ جیسے ہی رومی شمس تبریز سے ملتے ہیں وہ اپنی ظاہری نمود و نمایش ،عام مجالس ، اور تدریسی کام سے نکل کرعارفانہ و صوفیانہ راہ پر گامزن ہوتے ہے، شمس کی باتیں ہر عام شخص کی فہم میں نہیں آتی اور وہ انہیں بدعتی ، اسلام مخالف وغیرہ سمجھنے لگتے ہیں شمس کہتا ہے کہ ہر شخص کو کھلی اجازت ہے کہ اپنے طریقہ سے عبادت کرئے۔خدا کواس سے کوِئی سروکار نہیں وہ صرف دلوں کی دیکھتا ہے۔
مولانا رومی جب خطبے و تقایر، درس و تدریس چھوڈ کر خودشناسی کے سفرپر شمس تبریز کے ساتھ گوشہ نشنی اختیار کرتے ہیں توانکے گھر والے اورقونیہ کے لوگوں کو انکی خلوت پسندی و گوشہ نشنی پسند نہیں آتی وہ شمس تبریز کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شمس نے رومی پر کالا جادو کر کے اسے اپنی قابو میں کر لیا ہے۔ روز بہ روز شمس تبریز کے بد خواہوں میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مولانا رومی کا نرینہ اولاد علاوالدین انکا دشمن بن جاتا ہے۔ جبکہ مولانا رومی عشق کی انتہا کو چھو جاتے ہیں یہاں تک ایک دن شمس رومی سے شراب خانہ جا کے شراب لانے کو کہتے ہیں اور رومی بغیر کسی سوال کے سر عام شراب لے آتے ہیں ، رومی اپنے مرشد کے اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں یعنی ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﯾﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﮯ قربان کر جاتے ہیں ۔ شمس تبریز ایسے میں رومی کو چھوڈ کر چلے جاتے ہیں مولانا سے انکی جدائی برداشت نہیں ہوتی اور ہجر یار میں زار و قطار روتے ہیں رومی عشق کا پیکر بن جاتے ہیں انکے منہ سے نکلی ہر لفظ شاعری میں ڈھل جاتی ہے ، سلطان ولید سے اپنے والد کا یہ حال سہا نہیں جاتا اور شمس کو ڈھونڈ کر واپس لے آتے ہیں رومی اور شمس میں پھر وہی صحبتیں شروع ہو جاتی ہے مولانا کے مرید اور گھر والے سب مولانا کا قرب چاہتے ہیں مگر رومی ہے کہ وہ اپنے مرشد سے پل بھر کے لئے بھی دوری نہیں چاہتے ، آخر کار مولانا رومی کا ایک بیٹا علاو الدین اور قونیہ کے کچھ اوباش مل کر شمس کو قتل کرتے ہیں ۔اب رومی کی دنیا اجڑ جاتی ہے اور وہ شعر گوئی کے ذریعے غم جاناں کا تذکرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ ہر سنے والے پر اثر کرتی ہے اور انکے ان اشعار سےدیوان رومی بن گئی جسےمثنوی مولوی معنوی / هست قران در زبان پہلوی کہا جاتا ہے۔
یہ ناول اہل ادب کے لئے ایک منفرد تحفہ ہے جو قاری کے اندار صبر، محبت ، حق گوئی کے جذبات پیدا کرتا ہے ۔

Advertisements

میرغضنفر کا سیاسی اقتدار میں خاندانی حصار

ماہ ستمبر ۱۹۴۶کو میر محمد جمال خان کی تاج پوشی ہنزہ میں پولیٹیکل ایجنٹ گلگت میجرکاب کی زیر نگرانی بڑی دھوم دھام سے ہوئی جسمیں بالاورستان / بروشال کے میروں و راجاوں وغیرہ نے شرکت کی ۔ ہنزہ والوں نے اپنی روایات کے مطابق تین دن تک جشن منایا اور بھر پور مسرت کا اظہار کیا. ایسا نہیں تھا کہ ہر کوئی میری نظام سے نفرت کرتا تھا بلکہ میر آف ہنزہ سے ہنزہ کے لوگ دل و جان سے محبت بھی کرتے تھے۔ ۔میر جمال خان بذات خود اصلاح پسند آدمی تھے مگر زمانے کی نزاکتوں سے بے خبر تھے۔ اس نے وہ تمام ٹیکس جو انکے آباواجداد نے رائج کئے تھے سب معاف کیے ۔ علم حاصل کرنے کے لئے کسی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگایا ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہنزہ کے نوجوان علم حاصل کرئے کیوںکہ سر آغاخان سوئم نے انہیں تاکید کی تھی کہ انکی جماعت کو انگریزی ،عربی اور دوسری زبانیں سکھنے کی حوصلہ افزائی کرائے۔ اور میر جمال خان خود اسماعیلی سپریم کونسل فار سنٹرل ایشاء کے صدر بھی تھے ۔

پھر ایسا کیا ہوا کہ میری نظام کے خلاف ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئَے ؟

ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان جو کہ اس وقت کراچی میں مقیم تھے وہ ہنزہ میں اصلاحات چاہتے تھے وہ ہنزہ میں بہترین تعلیمی درسگاہیں، علاج ومعالجے کی اچھی سہولتیں، روزگار کے مواقعے وغیرہ چاہتے تھے ، مگر میر کے درباری ان نوجوانوں اور میر کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ میر اور عوام میں ایک خلا پیدا ہو چکا تھا ۔ ان اکابرین کی مخالفت نے میر آف ہنزہ کے خلاف طلباء کو مظاہرہ کرنے پہ مجبور کیا۔ جب میر آف ہنزہ کے خلاف اندرونی خلفشار نظر آیا تواسوقت کے پیپلز پارٹی پاکستانی حکومت نے اپنے اثر و رسوخ سے ان نوجوانون کی حوصلہ افزائی کی اور میرکے خلاف بغاوت پر اکسایا۔ ہنزہ کے نوجوان طالب علموں نے اپر ہنزہ پھسو گاوں میں پی پی پی کا پہلا دفتر کھولااور یوں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا ہنزہ آنا شروع ہوا۔ جب وزیر اعظم پاکستان ذولفقارعلی بھٹو کے حکم پر صدر پاکستان چودھری فضل الہی ہنزہ تشریف لائے تو ہنزہ کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو خوب مارا پیٹا۔ بھٹوصاحب کو یہ ناگوار گزرا اور ۲۴ ستمبر ۱۹۷۴ کو ریاست ہنزہ وریاست نگر کو ختم کر کے پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا ۔اور بس قصہ مختصر یوں عایشو خاندان کا ہنزہ پر حکومت ختم ہوئی۔

آج پھر میر غضنفر علی خان وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو میر جمال خان نے کی۔ میر صاحب سیاسی اقتدار حاصل کرتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہے۔ اپنے ارد گرد بیٹھے حضرات کی خوش آمد پر خوش ہے۔ ہنزہ کے پڑھے لکھے حضرات کیا چاہتے اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔ وہ اپنی گھر تک محدود ہو گئے ہیں جو انکی اورانکے اولاد کے سیاسی کریئر کو ہمیشہ ہمیشہ ختم کر دے گی ۔انہیں موروثی و خاندانی سیاست سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

آج ہنزہ کا بچہ بچہ برابری چاہتا ہے ۔ انصاف چاہتا ہے ، اپنی حقوق کے لئے آواز بلند کرنا چاہتا ہے۔ ہنزہ ایک نڈر، بے باک، غیور، دور اندیش، قابل ،بے لوث اور بےغرض رہنما چاہتا ہے۔ ہنزہ میرٹ کی بالادستی اور انصاف چاہتا ہے۔ ہنزہ تکثریت و گوناگونی چاہتا ہے ، ہنزہ اب کسی خاص فکری سوچ سے نکل کرزمانے کے اصولوں کی پاسداری چاہتا ہے، ہنزہ این جی اوز کے فنڈ نہیں بلکہ شہری حقوق چاہتا ہے ۔ ہنزہ لسانی، نسلی یا علاقائی تعصب کے دلدل سے نکلنا چاہتا ہے،ہنزہ والے آج کسی عایشو کے ذیر اثر نہیں بلکہ انکے سماج ،انکی معاشی و معاشرتی اوپر نیچے سے وقف ، انکے درمیان رہنے والا یا والی ، انکے دکھ درد کو سمجھنے والا ، کسی فرد کو اپنا رہنما چننا چاہتے ہیں۔ اور یقینا یہ گلگت بلتستان کا ہر فرد چاہتا ہے۔

مگر میر صاحب کو عوامی مینڈیٹ ملتے ہی اپنے گھر کوہی ہنزہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ جناب والا آپ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کے آباواجداد نے ہنزہ کو انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا تھا گوجال ، سنٹرل اور لور ہنزہ ،اب تک آپ تین کجا ایک انتظامی حلقے کے ساتھ انصاف نہ کر سکے ۔ خود گورنر ہمیں خوشی اور قابل فخر لیکن مشیر اپنا بیٹے کو رکھنا اور خواتین کی مخصوص نشت پر رانی صاحبہ اور اب کے انتخابات میں شہزادہ سلیم کو لے آنا کی کوشش ، کہاں کا انصاف اور عوام دوستی ہے ؟ آپ کو عوامی شکایات اور خواہشوں کا علم ہیں؟ اہل گوجال کی محرومیاں اور ایک الگ سیٹ کا مطالبہ ، متاثرین عطاآباد پر ریاستی دہشت گردی،پچھلے چھ سالوں سے متاثرین عطاآباد کا مذہبی و سیاسی طور پر استحصال، وغیرہ جیسے ناانصافیاں ان حالات میں کیسے حل کریں گے ؟ آپ تو اپنے گھر کے ہی ہوگئے ہیں ۔

میرصاحب وقت بہت بدل چکا ہے۔ زمانے کی نزاکت کو سجمھ لیجے، بات صرف ان پانچ سالوں کی حکومت کا نہیں ہیں ۔آپ سے گلگت بلستان کے توقعات وابستہ ہیں۔ عوام میں پذیرائِی چاصل کرنا چاہتےہوتو اپنے اردگرد موجود ڈرائیور حضرات کی جگہ ہنزہ کے تعلیم یافتہ لوگوں رکھے ، ان سے مدد لے ، اپنی انا اور چاردیواری سے نکل کر عوامی خدمت کرے، ہنزہ کی نمائندگی ہنزہ والوں سے ہی کرائے نہ کہ اسے اپنی گھر تک محدود رکھے۔ ورنہ میری نظام کی طرح آپکا مورثی سیاسی مسقبل بھی ختم ہوسکتا ہے ۔کیونکہ آج بھی ہنزہ کے تعلیم یافتہ نوجوان ایسے تمام غیر مہذب، غیر قانونی، ناانصافی پر مبنی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ آپ کو ان ممالک سے سیاست سیکھنی چاہیےمثلا برطانیہ اور دوسرے مغربی ممالک جہاں موروثی بادشاہت ہونے کے باوجود ان کے خاندان کے افراد عمومی طور پر اقتدار کے ایوانوں سے دور ہی رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انکی عزت و احترام اب بھی موجود ہے۔مگر جناب والا آپ اقتدار میں آتے ہی خاندانی حصار بنا چکے ہیں۔

Also Published on
PT and Passu Times

کیا ہم آزاد ہیں ؟

آذادی کیا ہے ؟ شاید ہم اس کی معنوی حقیقت سے اب بھی آگاہ نہیں ہیں، ہم مادیت پرستی کا عروج کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم بےجا طاقت و اقتدار کےحصول اور اسکا نچلے طبقوں پر اطلاق کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم مذہبی انتہا پسندی کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں، ہم ذہنی غلامی کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ، ہم اقتدار کی خاطر سچے انسانی جذبوں کو لگام دینے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم انسانی روح کو مقید کرنے کی کوشش کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ہم ظلم وجبر کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور اس منبے کو سنگسار کرنے کو آذادی سمجھ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ہمیں حقیقی آزادی کا ادراک کرنے کی از حد ضرورت ہیں ۔
ہم غیر اخلاقی رویوں کوآزادی سمجھ بیٹھے ہیں اس معاشرے میں تہذیب آذاد نہیں، سچ آذاد نہیں ، انصاف آزاد نہیں، باقی سب آذاد ہیں۔
دودھ بیچنے والا آزاد ہے، جتنا مرضی ، پانی ڈال سکتا ہے، ہمارا میڈیا آزاد ہے۔ لفافے میں لپٹی ” صحافت” آزاد ہے۔پیسے دو اور چرچے لو۔ ہمارے ادھر انصاف بھی بکتا ہے، صرف دام بڑھاء.. فیصلہ اپنے حق میں کروائو ہمارا تاجر آزاد ہے۔ ملاوٹ شدہ مال بیچتا ہے، دوا فروش آزاد ہے دو نمبر ادویات بجتے ہیں،ہمارا ، ہر طبقہ آزاد ہے،حد تاکہ ٹریفک سگنل پہ کوئی قاعدہ و قانون نہیں کوئی روک ٹھوک نہیں آذادی ہے۔قاتل آذاد ہے اہل مقتول پابند سلاسل ۔جھوٹ آزاد ہے سچ پہ سزا ہے ۔ اور کیا کیا گنوا لوں ۔۔
اگر برصغیر کی تاریخ کاغایرانہ نگاہ سے مطالعہ کی جائے تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ جو انسانیت کی تذلیل اور ظلم بنی نوع انسان پر مذہب و آزادی کے نام پر سر زمین پاکستان پر ہوئی ہیں وہ سر زمین برصغیر پر اس سے پہلے نہیں ہوا۔ ۔۔ پاکستان اس لئیے آزاد نہیں ہوا کہ یہاں طاقتور اور اہل زر حکومت کریں اور نہ ہی اس لئیے کہ کمزوراور شریف انسانوں کے گلے میں غلامی کا دائمی طوق یا غلامی کی زنجیریں، ہاتھوں میں ظلم وجبر کی ہتھکڑیاں اور پیروں میں بے کسی و بے چارگی کی بیڑیاں ڈالے کے لئے آزاد ہوا تھا۔ یہ آزادی جسمانی آزادی کی غرض سے کم بلکہ عقلی و ذہنی آزادی کی خاطر ہوا تھا ۔ یہ آزادی انساتیت کو معراج بخشنے کے واسطے ہوا تھا ۔مگر سب کچھ الٹا ہوا ۔ اب بھِی وقت ہیں ہمیں سوچنا چاہیے
غلامی صرف جسمانی غلامی نہیں بلکہ غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔مثلا ۔۔۔میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ آج جسمانی غلامی ، قانونی غلامی ، نفسیاتی غلامی اور ذہنی غلامی پہلے کی نسبت بہت بڑھ چکی ہیں غلامی کی اس بدترین شکل کے نتیجے میں آج اس ملک جسمانی غلام ، نفسیاتی غلام ، اور ذہینی غلام بغاوت پر اتر آئےہیں۔ ۔۔۔
عصر حاضر کی عین ضرورت ہیں کہ اس ملک میں بسنے والے تمام انسانوں کو بغیر کسی تفرق کے علم سے آراستہ کیا جائے ۔۔۔ گلگت بلتستان کو مکمل خود مختاری دی جائے، خیبر پختونخواہ کےقبائلی علاقوں کی پسماندہگی دور کی جائے ، بلوجستان کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے عزم کا اعائدہ کیا جائے، سندھ میں نسلی تعصب ختم کی جائے ۔۔پنجاب میں جاگیردارانہ یا برادری نظام کو ختم کیا جائے ۔۔۔۔ قوم کی قسمت کا فیصلہ نئی نسل کے ہاتھ میں دی جائے ، اور پاکستان کو انسانیت پرست ملک بنا دیا جائے ۔۔۔۔ تو عین ممکن ہے کہ اس ملک میں امن و امان، ہو ،،،،،

قیزل

بدلا نام ،گم ہوئی تاریخ گلگت بلتستان

کرنل ڈین کے مطابق کسی قوم کو بغیر جنگ کے غلام بنانے کے لیئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے ذہن کنٹرول کیئے جائیں۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان۔ جب تک کسی انسان کا ذہن آزاد ہو گا وہ غلامی کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی عوام کا زندگی کے بارے میں نظریہ اور اقدار اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتا ہے تو وہ عوام کی سمت بھی کنٹرول کر سکتا ہے اور انہیں بڑی آسانی سےغلامی یا تباہی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ اس قوم کو غلام بنانے کے لئے لازمی ہے اس قوم کی جڑوں کو کاٹ دیا جائَے یعنی انکی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرئَے یا انہیں انکی تاریخ سے دور رکھا جائے

تاریخی معلومات کو دو طریقوں سے مسخ کیا جاتا ہے ایک غیر ارادی طور پر جسے روایات کے ذریعے اگلی نسل کومنتقل کیا جاتا ہے اور دوسرا ارادی طور پر جسے کسی خاص منصوبے کے تحت، جان بوجھ کر مسخ کیا جاتا ہے، گلگت بلتستان کی تاریخ کو نئے نسل تک حقیقی حالت میں پہنچانے سے گریز ارادی طور پر کیا گیا ۔ اسے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محض غلط فہمی یا لا پرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں مگر اس عمل میں شدت اس وقت آجاتا ہے، جب ایک شخص یا گروہ اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرتے ہیں ۔مثلا گلگت بلتستان کی تاریخ کو پاکستان اور کشمیر کے سیاسی و مذہبی رہنماوں نے اپنے مفادات کے خاطر تاریخ کو مسخ کرتے آرہے ہیں جس میں گلگت بلتستان کے نام نہاد سیاسی و مذہبی مفاد پرست لوگ بھی شامل ہیں۔ ہمیں جان بوجھ کر تاریخ سے دور رکھا جا رہا ہے، ہمیں ذبرستی کبھی پاکستان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر کا تو کبھی ہندوستان کا ،ہماری تاریخی کارناموں کا کہیں ذکر نہیں ہوتا ، ہمیں وہ اپنی تاریخی کارنامے ، اپنے سیاسی و مذہبی قائدین کے قصے، اپنی ثقافت و روایات ، اپنے طرز معاشرت ، وہ اپنی زبان ، اپنی ادب وغیرہ وغیرہ پڑھتاتے ہیں ، پچھلے ساٹھ ستر سالوں میں ہم نے اپنی زبانوں کو نہیں پڑھا، ہم نے اپنے روایات و ثقافت کا علمی تشہیر نہیں کی ، ہم اپنے طریقہ نظام حکومت سے نا واقف ہیں، ہمیں اپنے راجاوں و میروں کی تاریخ کو مسخ کر کے بتاایا گیا یا انکے صرف کمزریوں کو نما یاں کر کے ان سےنفرت پیدا کرایا گیا ۔

اول تو ہمیں علمی دنیا سے دور رکھا گیا اور اگر کہیں درسگاہیں ، اسکول، اور آذادی کے نصف صدی بعد کوئی یونیورسٹی بنایا بھی گیا تو ان مِیں طالب علموں کو غیر ممالک کے قدیم بادشاہوں کے حالات، میدان جنگ کے نقشے، اور واقعات پڑھائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے تو ہم ہندوستان ، عرب و عجم کے قدیم بادشاہوں کے حالات ایک ایک کرکے بتادئنگے لکین مادر وطن کے میروں و راجاوں، جنگ آذادی کے اعظیم رہنماوں کے متعلق پوچھو تو گونگے ہو جاتے ہیں یا کچھ حتمی علم نہیں ہوتا۔ انگلستان و برطانیہ کے بادشاہوں ۔رچرڈ، چارلس، اور جیمز خاندان کے حالات پوچھو تو بڑے فخر سے فرفر بتائے گے لیکن راجہ بغیر تھم، شری بدت، مغلوٹ، گرکس، میر جمال خان، ،خاندان تراخان و مقپون، علی شیر ایچن ، آزادی گلگت بلتستان کے نامور رہنما کرنل مرزا حسن خان وغیرہ کے بارے میں پوچھو تو لاعلمی کا اظہار کرئنگے۔ ہندوستان ،انگلستان و عرب کے قدیم باشاہوں کے کارناموں کا ،طرز سلطنت، عدل پروری، اور اصلاحات کے مداح ہونگے لیکن رانی جوار خاتون کی شجاعت،انصاف، رعاء پروری، اور اصلاحات سےکوئی فرد واقف نہیں ہوگا۔ اور دور حاضر میں ہم بھٹو، عمران خان، میاں ، اور الطاف و ذر کے شعلہ بیانی پر واہ واہ کرینگے لکین شہید وطن مرحوم حیدر شاہ رضوی، نواز خان ناجی، بابا جان،منظور پروانہ وغیرہ جیسے ںڈر سپوت کے فکر انگیز تقاریر سن کر خاموشی سادھ لیتے ہیں

ایسا کیوں ہے ؟ کسی قوم انکی تاریخ سے کیوں دور رکھآ جاتا ہے ؟؟ ہمارے اندر ایسا راویہ کیوں پیدا ہوا ہے ؟؟ایسا اس لیے ہیں کہ ہم تاریخ شناس نہیں اس لئے ہم باآسانی پنجابی، سندھی، پٹھان وغیرہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ہماری اپنی کوئی نمایاں پہلو نہیں رہا ہے ہمیں کالونیل حکومتوں کے ذہنی غلام بنانے کے لئے تاریخ سے دور رکھا گیا ہے، یا ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ سیاسی خاندانوں کی تبدیلی کی تاریخ ہے اسکی تاریخ میں کوئی فکر ، خیالات کی گوناگونی اور تبدیلی کی کشمکش نہیں ۔ ہماری تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کا تعلق ماضی سے ٹوٹ جائَے، جب لوگ تاریخ سے بیگانے ہوجائے ، ان میں تاریخ شناسی ختم ہوجائے تو اسکے نتیجے میں وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ انہیں اپنی شناخت کی کوئی فکر نہیں رہتی ۔ان کے پاس تاریخ سے حاصل کرنے والا کوئی جذبہ نہیں رہ جاتا ۔وہ مکمل طور پر ذہنی غلام بن جاتے ہیں۔

تاریخ شناسی ہی وہ ذریعہ ہے جو لوگوں میں شناخت کو پیدا کرتا ہے مزاحمت کا احساس دلاتا ہے، حقیقی تبدیلی کے لئے ذہنوں کو تیار کرتا ہے اپنی مارد وطن کی خدمت انجام دینے کا احساس پیدا کرتی ہے اپنی وطن سے محبت ان میں پیدا کراتی ہے۔ تو وقت حاضر اور دور جدید کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو کھونے نہ دے ، اپنی تاریخ کو آنے والی نسل تک درست انداز میں منتقل کرے، تعلمی اداروں میں اپنی زبان و ثقافت اور تاریخ کو پڑھائے ۔ تاریخ پر ریسریچ کرنے کے مواقعے فراہم کرئے۔حکومت وقت سے یہ امید ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جس سے قوم کے اندر شعور پیدا ہو۔


وفاقی جماعتوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

مولا مدد قیزل

یہ کوئی بہادر ، عوام دوست ، غریب پرست ، یا ان کا ماضی عوامی خدمت میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ  میرے پڑھے لکھے نوجوان دوست انہیں اس لئے  ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے ، کہیں انکو گورنمنٹ سروس کا کوئی راستہ ملے ۔۔پاک چین راہ داری کا جو سوشا ہے اس میں کہیں کوئی دو چار آنے کمانے کا موقعہ نصیب ہو ۔۔اور وجہ کیونکہ یہ فیڈرل پارٹیز کے کارندے ہیں جو انہیں ترقیافتہ کاموں کے لئے فنڈز دینگے ۔ بس اتنی سی ہے ہمارے سوچنے اور غور کرنے کی حد ؟؟؟ بقول انکے کہ جب حق پرست ، نڈر ، بہادر ، سرزمین گلگت بلتستان کا سپوت نواز خان ناجی صاحب جیت کے اپنے لوگوں کے لئے کیا کیا ؟؟؟  ایک با شعور اور باضمیر ، انسانی جذبوں سے آراستہ و پوستہ فرد کے لئے نواز خان ناجی کا جیت جانا ہی سب کچھ ہے ۔ ان کے لئے امید کا ایک کرن ہے ،شبسنان میں رہنے والوں کے لئے طلوع آفتاب ہے ، کیونکہ انکی زندگی دو وقت کی روٹی نہیں ، انکا مقصد گلے میں زنجیر باندھے بادشاہ کے حکم پر ناچنا نہیں، یہ لذید کھانے کا شوقین نہیں۔ بلکہ انکی روح میں آزادی کی چاہت ہے ، انکی جذبوں میں برابری ، مساوات ، اور انسانی حقوق کی روانی ہے ،

جبکہ پاکستانی  فیڈرل پرست لوگوں کا رویہ افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کی ہے جو سفید فام ظالموں کے خلاف مزاحمت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان ، اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی،کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار انکے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے ۔انہیں نشان عبرت بنا دیتے ۔مگر انسانی ذیست میں رب کائنات نے جو آذادی کے جراثیم رکھے ہیں ان سے کوئی روگردانی کیسےکر سکتا ہے ۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ، مذاحمت کرتا ہے ، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے سہنے  والی جبر و ظلم کو  کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

ںواز خان ناجی کا جیتنا اور انہیں اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کا مدد نہیں کرنا، انہیں اور عوام کو مجبور کرنا ، ہم پر مسلط باشاہوں، حکمرانوں اور غاصبوں  کا شیوہ رہا ہے اور یہ چال ہے کہ تمہیں یہ سب دیکھا کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر دلیر ۔ بہادر اور دور اندیش نوجوان کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ، اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں ووٹ ایک نوکری کی مد نہیں دینی چاہیے ، ہمیں رشتہ دار ، ہم زبان ، اور ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر نہیں دینا چاہیے ۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی اور حال میں درپیش مشکالات، سنحاحات، اورمسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے ، ہمیں ایک روشن آذاد مستقبل کی مد میں ووٹ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ریاستی غنڈا گردی کا جواب سوچ و بچار سے دینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اصلی اور کھوٹے سکوں  میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ووٹ کا صیحی حقدار وہ ہے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی دلانے کی
Published@ GBVotes & Pamirtimes

ہمیں کیسا سیاسی لیڈر چاہیے ؟؟؟

ایک ایسا معاشرہ جہاں ظلم و بربریت عام ہو، جہاں فرقہ واریت کا زہر انسانیت کی رگ و پے میں سریت کر  چکی ہو، جہاں انصاف طاقت کے بل بوتے پر ملے، جہاں دہشت گردی حکومت کی سر پرستی میں یا پھر آنکھوں کے عین نیچے ہورہی ہو، جہاں غریب سہمے اور خوف سے لرز جاتے ہوں ،جہاں نوکریاں مسلک ، علاقے، اور سیاسی تناظر میں ملتے ہوں  جہاں انسان وحشی درندے بنے ہو،  ایک ایسے علاقے میں آپ کو کیسا لیڈر چاہیے ؟؟

ایسا بہارد لیڈر جو اس ظلم و جبر کی خوف ناک  طوفان  سے ٹکرائے جس نے سارا معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لی ہے ۔۔ ۔۔ یا ایسا دور اندیش لیڈر جو ان حالات کامقابلہ نرمی اور دانشمندی سے کرے، یا ایسا لیڈر جو خود غرض ، دھوکے باز اور نادیدہ قوتوں کا کھٹ پتلی ہو ؟؟؟ یا پھر ایک ایسا لیڈر جس کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہو؟؟ یا ایسا لیڈر جو شہرت کا بھوکا ہو ؟؟

 ذرا سوچیے کہ معاشرے کے ان مایوس کن حالات میں آپ اپنی ووٹ کی طاقت سے کیسے لیڈر کو آگے لانا چاہتنے ہیں؟ بتائے کہ ووٹ کسے دیا جائَے ۔ کیا ووٹ نظریاتی بنیاد پر دی جائے ، یا لسانی، علاقائی یا نسلی بنیاد پر دی جائے یا پھر اپنے  “عزیزوں” کو دی جاِئے ؟؟؟ بتائے کہ آپ کے ووٹ کا صیح حقدار کون ہے؟ آخر ووٹ کسے دیا جائَے ؟؟

عصر حاضر کا ہم سے کیا تقاضا ہے ؟ ہمیں کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟ ہمیں کیسا ماحول چاہیے ؟ کیا ہم دوسروں پر فوقیت نہیں بلکہ ہم برابری چاہیتے ہیں ؟؟ کیا ہمیں سوچ و فکر، طرز زندگی، ثقافت ونمدن ، بول چال ،رہن سہن وغیرہ میں گونا گونی چاہیے نہ کہ انتہا پسندی ؟؟؟ کیا ہم ذات برادری، پیری فقیری وغیرہ وغیرہ سے نکنا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم معاشرے کے ہر طبقے میں ہم آہنگی چاہتے ہیں ؟ کیا ہم جدید زمانے سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں ؟؟ کیا ہم دنیا کے آزاد اور ترقی یافتہ معاشرے کے صف میں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔؟؟

اگر ہاں تو یہ سب ایک مخلص ، دیانت دار، صالح اور عقل و فہم سے آراستہ لیڈر ہی کی بدولت ممکن ہے جسے آپ اپنی قیمتی ووٹ کے ذریعے اپنا حمکران چنتے ہیں۔ یہ سب وہ سولات ہیں جن کے تناظر میں آپ کو ایک سیاسی رہنما کا انتخاب کرنا ہے۔ ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ دانشمندی سے فیصیلہ کرنا ہے ۔ ہمیں اپنی کمزریوں  کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، ہمِیں اپنی ذات، انا، خاندان، مذہب ، علاقہ ، زبان،سیاسی وابستگی ، نظریات وغیرہ کو بالائے طاق  رکھ کر فیصلہ کرنا ہے  ہمیں کم از کم  آنے والے دس بیس سالوں کومد نظر رکھ کے فیلصہ کرنا ہے ،ہمیں ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،ہمیں اتحاد باہمی اور احترام باہمی کو ملحوظ رکہ کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔

  ہماری بے بسی کا مذاق  اڑایا جاتا ہے، ہماری بے حسی پر اغیار  ہنستے ہیں۔ کھبی ہمیں بزدل  گردان کر فساد پر اکستاتے ہیں تو کبھِی ہمیں قتل کر کے غدار شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔کبھی ہمارے عقائد میں دراڈیں اور شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی انہی عقائد کو مسلمہ جان کر اسکی دفاع کے لئے مذہبی غنڈے تیار کرتے ہیں۔

یوں نت نیے انداز میں ہمیں آپس میں لڑائَے اور الجھائے رکھتے ہیں۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے ، اپنی دھرتی،سے ، اور اپنے لوگوں سے مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔ اجتماعی استحکام، یگانگت، یکجہتی اور ترقی کیلئے ہمیں تمام انفرادی مفادات کو قوم اور ملی مفادات کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں علاقائی، ذاتی اور نسلی تعصبات اور نفرتوں کو خیرباد کرنے کی ضرورت ہے اور ہم تب ہی ایک حقیقی ، باکرادا، صالح، دلیر، دانشمند، کھرا ، نڈر اورسچا لیڈر منتخب کر سکیں گے۔   تب ہی ہم ایک ایسے لیڈر کے انتخاب میں کامیاب ہونگے جو ہماری امنگوں کا ترجمان ہوگا جو ہماری دلوں کی آواز ہوگا ۔۔ ۔

پس ہمیں ایک ایسے لیڈر چاہیے جن کے پاس ان تمام سولات کا عملی اور مثبت جواب موجود ہو، آئیں اپنی انا اور ذات سے بالا تر ہو کر ایسے لیڈر کو منتخب کرے۔
published@ Pamirtimes

غلامی اور گلگت بلتستان

گلے کا طوق ہے اب بھی غلامی کی یہ زنجیریں
لگے ہیں عقل پہ تالیں جو بولے اس پہ تعزیریں

وہ پہلے کنگ تھا پھر سنگھ پھرجمہور کے نخرے
سب ہی نے ہم کو پہنائیں بڑی رنگیں زنجیریں
قیزل
یہ بات سچ ہے کہ غلام معاشرے ہمیشہ انتشار کا شکار رہتے ہیں۔اور ان  پرقابض حکمرانوں کا منشا بھی یہی ہوتا ہے ۔جب تاریخ کے اوراق کا مطالیہ کرتے ہیں تو یہ بات عیان ہوتی ہے کہ دنیا کےتمام تہذیبوں نے غلامی کو مذہبی ،اخلاقی، اور انسانی بنیادوں پر جائز قرار کر اسے معاشرے کے استحکام اور ترقی کا ضامن قرار دیا۔ بلکل اسی طرح گلگت بلتستان کو کشمیر کی آذادی سے منسوب کر کے انہیں اپنی غلام بنایا رکھا ہے جبکہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے قانون تحت اپنے ماتحت رکھا ہے۔
غلام نجی جائیداد کے زمرے میں آتے ہیں اس لیے ان کی حیثیت ملکیت کی ہوتی ہے۔ اس لیے غلاموں کے انسانی درجہ کو گھٹا کر اسے محض جائیداد کا ایک بے جان حصہ سمجھا گیا ہے جس پر اس قابض ملک کے آقا کا اختیار ہوتا ہے کہ جس طرح کا وہ چاہے اس کے ساتھ سلوک کریں اور اسے استعمال کرے یا کسی اور کے ہاتھ بھیج دے۔ اسی لیے ایک غلام کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسکا اپنا نام بھی نہیں ہوتا ہے اسکا مالک جو چاہیے وہی نام رکھتا ہے اور وہی اسکا شناخت بن جاتا ہے۔ بلکل اسی طرح گلگت بلتستان کی حقیقی شناخت کو اسی دن ہی دفن کیا گیا جس دن یہ اسلامی جہوری سلطنت کے قبضے میں آگیا کبھی اسے ناردرن ایریاز کہا گیا تو کبھی گلگت ایجنسی اور آج کل گلگت بلتستان ۔۔۔ پھر کل کوئی اور نام ؟؟ حد تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ ذر خرید غلاموں کو اپنا حقیقی شناخت کا بھِی پتہ نہیں، وہ اسی میں ہی خوش جس نام سے ان کے  آقا انہیں بولاتے ہیں۔
اور جب یہ گمنام ، خاموش،  حسرتوں و محرمیوں کا کوئی غلام آذاد ہونا چاہتا ہے، برابری چاہتا ہے، غلاموں میں شعور پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسےذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،تاکہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بنے، اس قوم میں انتشار پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ انکے غلام رہے۔ اس قوم کو علمی اور شعور کی دنیا سے دور رکھتے ہیں انہیں جدید سہولیات سے محروم رکھتے ہیں، بقول  پاؤلو فریرے” کہ ترقی ، تعلیم، خوشحالی، غلام قوموں کے کب حصے میں آئی ہے وہ تو صرف تربیتی ادارے بناکر اپنی ریاست کے لیے فرمانبردار ملازم بناتے ہیں۔” ۔ ۔ ۔ ۔
تو جناب حقیقت بڑی تلخ ہےاورکہانی بہت طویل ۔۔ بات بس اتنی سی ہے کہ آپ کا ضمیر کتنا باضمیر ہے۔  آیا آپ کوغلامی میں جو بھِی پکارا جائے منظور ہے۔ آپ سے جو بھی کام لیا جائے منظور ہے، آپ کو جوبھی سمجھا جائَے منظور ہے ۔۔ تو بس آپ کی قسمت چاٹتے رہیے اپنے آقا کے تلے ۔ ۔ آپ بھی خوش آپکے آقا بھی  ۔ ۔ ۔