کانٹے دار الفاظ



اپنا من پسند کپڑا لیجئے اسے کانٹے دار جھاڑیوں میں پھینک دیجئے, اس طرح کہ وہ بری طرح الجھ جائے۔ اور جب وہ بری طرح ان جھاڑیوں میں الجھ جائے تب اس کو کھینچ لیجئے۔

کیا ہوا؟؟
کپڑا پھٹ گیا؟؟؟
پھٹا نہیں تو اس میں بہت سے چھید (سوراخ) ہو گئے، کپڑا پرانا اور بوسیدہ لگنے لگ گیا۔۔۔

نتیجتاً وہ کپڑا آپ کے استعمال کا نہیں رہا۔۔۔۔

بس بالکل ایسے ہی روح چھلنی ہو جاتی ہے جب آپ کسی کے اعتبار، بھروسے، مان، محبت اور عزت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پھر چاہے وہ آپکی اولاد ہو، آپکے والدین ہوں، آپکے بہن بھائی ہوں، دوست احباب ہوں یا آپکے پاس کام کرنے والا کوئی انسان… آپکا employee ہو۔


اپنے الفاظ کے چناؤ میں اپنے برتاؤ میں بہت محتاط رہیں۔۔۔ کانٹے دار الفاظ دل، دماغ اور روح کو بری طرح چھلنی کرتے ہیں۔۔۔

احساس سب سے زیادہ ضروری ہے۔۔۔ اپنے اندر احساس پیدا کیجئے۔

ننانوے (99) کا قانون


ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:
یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں. جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں.
وزیر نے کہا:
بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے
بادشاہ نے پوچھا:
اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟
وزیر نے کہا:
بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے سونے کی اشرفیاں ڈال کر، صراحی پر لکھیئے کہ اس میں تمہارے لیئے سو اشرفیوں کا ہدیہ ہے،
رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیں اور تماشہ دیکھ لیجیئے.
بادشاہ نے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے ہی کیا، صراحی رکھنے کے بعد دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا.
دستک سن کر اندر سے خادم نکلا، سونے کی اشرفیوں سے بھری صراحی دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔
اس نے صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا. اشرفیاں گنی تو ننانوے نکلی،
جبکہ صراحی پر لکھا سو اشرفیاں تھا.
خادم نے سوچا: یقینا ایک اشرفی کہیں باہر گری ہوگی. خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور اشرفی کی تلاش شروع کر دی.
ننانوے اشرفیاں غیب سے ملنے کی خوشی چھوڑ کر ان کی ساری رات ایک اشرفی کی تلاش میں گزر گئی.
خادم کا غصہ اور بے چینی دیکھنے لائق تھی۔
اس نے اپنے بیوی بچوں کوسخت سست بھی کہا کیونکہ وہ ایک اشرفی تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے.
کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری.
دوسرے دن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی.
بادشاہ سمجھ چکا تھا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے.
لوگ ان 99 نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں. اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی.
آگے بڑھنے کی جستجو ضرور ہونی چاہیے مگر جو پاس ہے اس پر شکر گزار بھی ہونا چاہیے ۔