وفاقی جماعتوں کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

مولا مدد قیزل

یہ کوئی بہادر ، عوام دوست ، غریب پرست ، یا ان کا ماضی عوامی خدمت میں نمایاں کارناموں کی وجہ سے نہیں بلکہ  میرے پڑھے لکھے نوجوان دوست انہیں اس لئے  ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں روزگار ملے ، کہیں انکو گورنمنٹ سروس کا کوئی راستہ ملے ۔۔پاک چین راہ داری کا جو سوشا ہے اس میں کہیں کوئی دو چار آنے کمانے کا موقعہ نصیب ہو ۔۔اور وجہ کیونکہ یہ فیڈرل پارٹیز کے کارندے ہیں جو انہیں ترقیافتہ کاموں کے لئے فنڈز دینگے ۔ بس اتنی سی ہے ہمارے سوچنے اور غور کرنے کی حد ؟؟؟ بقول انکے کہ جب حق پرست ، نڈر ، بہادر ، سرزمین گلگت بلتستان کا سپوت نواز خان ناجی صاحب جیت کے اپنے لوگوں کے لئے کیا کیا ؟؟؟  ایک با شعور اور باضمیر ، انسانی جذبوں سے آراستہ و پوستہ فرد کے لئے نواز خان ناجی کا جیت جانا ہی سب کچھ ہے ۔ ان کے لئے امید کا ایک کرن ہے ،شبسنان میں رہنے والوں کے لئے طلوع آفتاب ہے ، کیونکہ انکی زندگی دو وقت کی روٹی نہیں ، انکا مقصد گلے میں زنجیر باندھے بادشاہ کے حکم پر ناچنا نہیں، یہ لذید کھانے کا شوقین نہیں۔ بلکہ انکی روح میں آزادی کی چاہت ہے ، انکی جذبوں میں برابری ، مساوات ، اور انسانی حقوق کی روانی ہے ،

جبکہ پاکستانی  فیڈرل پرست لوگوں کا رویہ افریقہ سے لائے گئے ان غلاموں کی ہے جو سفید فام ظالموں کے خلاف مزاحمت اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کے مطابق انسان کی زندگی میں بنیادی مسائل غذا، مکان ، اور تحفظ کا ہوتا ہے اور غلاموں کو ان میں سے کسی کی فکر نہیں کرنی پڑتی،کیونکہ غلامی میں ان سب کا ذمہ دار انکے آقا ہوتے ہیں اور اگر ان میں آزاد جینے کی تمنا بھی پیدا ہوتی تو انہیں ایسے سزائیں، پابندیاں اور مجبور کرتے کہ وہ کبھی بھی ایسے اقدام نہیں اٹھاتے ۔انہیں نشان عبرت بنا دیتے ۔مگر انسانی ذیست میں رب کائنات نے جو آذادی کے جراثیم رکھے ہیں ان سے کوئی روگردانی کیسےکر سکتا ہے ۔ غلامی دادا سہہ سکتا ہے، باپ سہہ سکتا ہے مگر بیٹا نہیں، وہ بول اٹھتا ، مذاحمت کرتا ہے ، تشدد سہتا ہے، وہ اپنی شناخت کے لئے سہنے  والی جبر و ظلم کو  کو آرام دہ زندگی پر فوقیت دیتا ہے۔

ںواز خان ناجی کا جیتنا اور انہیں اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومت کا مدد نہیں کرنا، انہیں اور عوام کو مجبور کرنا ، ہم پر مسلط باشاہوں، حکمرانوں اور غاصبوں  کا شیوہ رہا ہے اور یہ چال ہے کہ تمہیں یہ سب دیکھا کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ مگر دلیر ۔ بہادر اور دور اندیش نوجوان کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹتے ، اور اپنے جائز حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں ووٹ ایک نوکری کی مد نہیں دینی چاہیے ، ہمیں رشتہ دار ، ہم زبان ، اور ہم عقیدہ ہونے کی بنا پر نہیں دینا چاہیے ۔ ہمیں دور اندیش ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی اور حال میں درپیش مشکالات، سنحاحات، اورمسائل کو سامنے رکھنے کی ضرروت ہے ، ہمیں ایک روشن آذاد مستقبل کی مد میں ووٹ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ریاستی غنڈا گردی کا جواب سوچ و بچار سے دینے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اصلی اور کھوٹے سکوں  میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ووٹ کا صیحی حقدار وہ ہے جو ہمیں ہماری کھوئی شناخت دلانے کی بات کرے نہ کہ دو وقت کی روٹی دلانے کی
Published@ GBVotes & Pamirtimes

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s