ٹکراو


ٹکراو سوچ کا ہو یا انسانی فکر کا ، ٹکراوشخصیت کا ہو یا کردار کا، ٹکراو ثقافتوں کے درمیان ہو یا رہن سہن کا، ٹکراو جہاں کہیں بھی ہو چاہیے ہو  افراد میں ہویا انفرادی ،۔معاشرے کے کسی بھی حصے میں ہو، مذاہیب کے درمیان ہو یا نظریات کے درمیان، ٹکراو شخصی ہو یا اجتماعی ۔ ٹکراو کسی بھی صورت میں یو، جہاں کہیں بھی ہو اس کا ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے جہالت۔ کم علمی، ناخوانگی ، نادانی۔

انسان اپنی شخصیت میں ایک گہری تالاب کے مانند ہے،اور جب کوئی اس تالاب میں فکر،سوچ، فلسفہ،احساس، یا جذبات کا کوئی چھوٹاسا کنکر ہی کیوں نہ ڈالے ، انسانی ذیست کے اس تالاب میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جس سے لہریں پیدا ہوتی ہیں اور جب یہ لہریں مخالف سمت سے آنے والی سخت لہروں سے یا کسی ٹھوس شے ٹکر یا مل جاتی ہیں تو ٹکراو پیدا ہوتا ہے ۔ جس میں نہ صرف پانی کا یہ لہر ٹوٹ کر بکھر جاتا بلکہ سامنا کرنے والا وہ سخت چٹان بھی سنگلاخ ، قبیح اور نوکیلے دار ہو جاتا ہے، اور جب ٹکراو میں  شدت آجاتا ہے تو ساری ماحول وحشت طاری ہو جاتا ہیں،

انسانی ذات میں  پیدا ہونے والی لہروں کا بھی حال یہی ہے ۔جو ہمیشہ مد و جزر کی کیفیت میں ہوتی ہیں،مگر بن نوع و انسان کا ان لہروں پر فطری اختیار حاصل ہے ، کہ وہ علم کی طاقت سے عقل کو وہ فہم و ضاء بخشتا ہے جس سے نہ صرف ان لہروں کو مدہم کر سکتا ہے بلکہ انہیں مکمل اپنی ذات، ضمیز اور اپنی ضرف کے اندر فنا بھی کر سکتا ہے۔  اور ایک وسیع و پر سکون  سمندر کی مانند زندگی ، رہن سہن اور فکرکو مسرور کن بنا سکتا ہے ۔جسطرح  سمندر کے کھلے ساحل آنے والی تمام موجوں اور لہروں کو اپنی باہوں میں پھیلا کر موتیاں پاتا اسی طرح ہمیں بھی ہر فکری، شخصی، یعنی اختلاف کی ہر لہر کو اپنی وجود یا فکر میں سمونے کی طاقت پیدا کرنا چاہیےانسانی معاشرے میں پیدا ہونے والے گوناگوں  لہروں میں موتیاں ہیں ان میں زندگی کے اثار ہیں جسطرح ان کھلے ساحلوں پر آنے والی ہر لہراپنے ساتھ مچھلیاں لے آتی ہیں ۔اور اگر ہم ان لہروں کے آگے انا کی چٹان ، لا علمی اور جہالت کی دیوار بنے رہنگے تو ٹکراو پیدا ہوگا اور یہ ٹکراو دونوں اطراف کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس ٹکراو کے نتیجے میں چٹان قبیح اور بدنما نظر آئےگا ، زندگی کے اثار ختم ہونگے ، شور و غل ، بے چینی، بددلی،مایوسی، اچپلاہٹ۔اضطراب،بغاوت و سرکشی ، بے رحمی و سنگ دلی،  بربریت جیسے غیر یقنی کفتیات پیدا ہونگے۔ بہتر یہی ہے کہ  ہم اس گوناگونی میں ڈھل جائے ۔

۔قدرت نے اس کائنات میں ایسے ان گنت مثالیں تخلیق کی ہیں جسے  بن نوع انسان عقل و خرد کے ذریعے تسخیر کر کےذندگی کو پر سکون اور راحت بخش بنا سکتا ہے۔اگر ہم فطری نظام پر غوروخو ض کرئینگے تناو و ٹکراو سے دور رہینگے علم سے دل و دماغ کو روشن کرنینگے تو دل مطمئن اور ذھن پر سکون ہو گا، گھبراہٹ کی ساری پر چھائیاں اور ظلمتیں کافور ہونگے، پریشان کن خیالات کی آندھیاں يكدم تھم جاینگے، چہرے پر اطمینان بخش مسرت کی لہر دوڑے گی، یقین و اعتماد، عزم و ثبات، محبت و یگانگت ، کی فضا قائم ہوگی ۔

آج انسان نے مذہب وملت ، علاقہ پرستی، زبان، سیاست، پسند و ناپسند ، رنگ و نسل کی آڑ میں جہالت اور جھوٹ کی بہت ساری تہیں اپنے اوپر جمائے ہوئے ہے جہالت کے ان تہوں کے اندر قید انسان کو علم و دانش کے ذریعے آذاد ہونا پڑے گا اور یہ آزادی ہمیں ٹکراو سے محفوظ رکھے گا۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ٹکراو سے باز رہیے ۔اختلاف رائے کو باعث تحقیق و تخلیق کا ذریعہ بنائے ۔ اسانیت کا پرچار کرئے ۔ انسانی اقدار کو پروان چڑھائے ۔ ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s