سوست ڈرائی پورٹ اور ہمارا رد عمل

پدرم سلطان بود۔ ۔

mmq

یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ناکام، سست، کاہل، خود غرض، انا پرست ،اور موقعہ پرست معاشرے کی اجتماعی سوچ و فکر ہے جو معاشرے کو اجتماعی طور پر لے ڈوبتا ہے. میران ہنزہ کی اہمیت ، عزت، وقار اپنی جگہ مگر ملی غیرت و عزت ان سب پہ مقدم اور بالا ہے۔ ہنزہ کے لوگ کبھی اپنے آباواجداد کے کارناموں کے گن گاتے ہیں تو کبھی اپنی نسل کو کسی بہادر سپاسالار سے جوڈ کر چوڈے ہو جاتے ہیں ۔ اور یہی حال گلگت بلتستان کے دوسرے حصوں کا بھی ہے جہاں ہر کوئی اپنے خاندانی تاریخ پر فخر سے سر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ۔ سوچنا یہ ہے کہ آج ہم کیا ہیں؟ آج معاشرے کی ترقی میں ہمارا کیا رول ہے؟ اپنی اس تاریخی وقار کو زندہ رکھنے میں ہمارا کیا کردار ہیں؟ معاشرے کے سماجی ، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی انحطاط سے ہم کتنا با خبر ہیں ؟ اور ان مسائل کو حل کرنے میں کتنا مخلص ہیں۔؟ لازمی یہ تمام پہلو ہیں نہ کہ پدرم سلطان بود کہنا ۔

سوست ڈارئی پورٹ پر ورنما ہونے والا واقعہ ہر پاک چین دوستی کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے کا دل تو برا ہوا ہوگا مگر اس موضوع پر میر آف ہنزہ کے پلیس پرہونےوالی پریس کانفرنس نے اس واقعے کو ایک اور پہلو دیا ہے۔

سوست ڈرائی پورٹ ہنزہ میں پچھلے دونوں رونما ہونے والی تنازعہ گو کہ ایک دل خراش واقعہ ہیں جس میں ہنزہ کے تعلیم یافتہ قیادت پر انگلی اٹھائی گئی ہیں ، میں ان شخصیات کے اتنا قریب نہیں نہ انکےحسن کردار کا گواہ ہوں مگر میرا یہ ایمان ہیں کہ وزیربیگ اور ظفر اقبال کسی عورت پر ہاتھ اٹھائے یہ ممکن نہیں ۔اور نہ یہ ہنزہ کی روایات میں سےہے ۔ یہ دونوں حضرات علمی اور اخلاقی طور پر گلگت بلتستان کے نوجوانون کے لئے مثالی ہیں۔ عمر کے اس حد میں وہ ایسی غلطی نہیں کر سکتے۔ اس کہانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی مفاد ضرور شامل ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو ضرور قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔

اگر گلگلت بلتستان کی سر زمین پر کوئی ریمنڈ ڈیوس بنے کی کوشش کریں، چاہیے اس کا تعلق دنیا کے کسی بھی حصے سے ہو، اور ہم اس پر زاتی مفاد کی خاطر خاموش رہے تو اس سے بڑھ کر غلامی کی کوئی اور نشانی نہیں۔ ہم پاک چین دوستی کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ اور یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی اسی انداز سے دیکھے اس جذبہ دوستی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنی وقار کھو دے۔ طاقت کے ذور پہ کوئی ہم پر مسلط ہو۔ کوئی غیر ملکی غیرقانوںی یا علاقائی روایات کی خلاف ورزی کریں اور اس پر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق طاقت کے ذور پر ہم پر لاگو  ہو تو خاموشی ہمارے  زوال کا سبب بن سکتا ہے۔ یاد رکھیئے ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل بادشاہ سے گائے کے چمڑے کے برابر زمین  مانگی تھی اور ہوا کیا آپ سب جانتے ہیں ، ، ،

گلگت بلتستان کے دانشوار اور اہل قلم کو چاہیے کہ ایسے معاملات کو علاقہ اور نظریہ کے حدود سے بالاتر ہو کر گہری نطر سے دیکھے۔ اور سنجیدگی سے ان معاملات کا مشاہدہ کرے۔ ان نا پاک عزائم میں ملوث حاضرات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ کسی کو اقتدار کی بھوک یا انفرادی خواہش کی تمکیل کے لیئے عوام کی عزت و واقار سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s