عید کا پیغام

آج ہم سب ایک ایسی دور سے گزر رہے ہیں جہاں اصل اور نقل کی پہچان اب بہت مشکل ہو چکی ہے،چاہے وہ علم و وعمل کی بات ہو یا اشیاء خورد و نوش کی  ..ہر چیز میں ملاوٹ.چاروں اور نحوست ، قتل و غارت ، راہ زنی،بد اخلاقی، بد کاری ، طلم و جبر  ہرسو پھیلی ہوِئی ہے۔لوگ مذہبی رسومات کے نام  پر انسانیت کی تزلیل کر رہے ہیں ۔

جب بھی کوئی مذہبی تہوار آتا ہے لوگ خوشی سےQizill Eid پاگل ہو جاتے ہیں۔ عقل و خرد پر تالے لگائیے ہوئے یہ لوگ ان مذہبی تہواروں کی حقیقت ، اور اسکی روح سے کوسوں دور ہیں ۔مشال کے طور پر شب برات کے پٹاخے پھوڑنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اسکا بیمار ہمسایہ رات بھر سو نہ سکا۔ اسی طرح ہم آج عید سیعد منایئگے۔۔۔جس میں بوڈھے، جوان اور بچے سب خصوصی طور پر تیار شدہ کھانوں پر ٹوٹ پڑیئنگے۔۔جہاں عید کے لئے قیمتی زیور بنانے والوں اور کپڑے خریدنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ انکے آس پاس، ہمسائے میں ہی بہت سے فاقہ زدہ یتیم ، اور غریب بنا کپڑوں کے موجود ہیں .. جہاں ہم عید کی پارٹیوں کے ہنگاموں میں کھو کر لاکھوں بے گھر ہم وطنوں کو بھول جانے کا اہتمام کرتے ہیں .. .. ہمارے انہی اطوار کی بدولت آج عید بھی نمائیش یا ٹی وی شو کی طرح فقط نئے کپڑے جوتے اور زیور دیکھانے اور پارٹیوں اڑانے ہی کا نام بن کر رہ گئی ہے

چنانچہ اس ملک میں عید یعنی  خوشی کا مطلب کھانا کھانا ہے۔ کسی بھی تقریب کا لب لباب بس کھانا کھانا ہوتا ہے۔ جبکہ اصل میں خوشی ہے کیا یہ تو آج ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں .. حقیقی خوشی ہنگاموں پارٹیوں کا نہیں بلکہ سکون کا نام ہےاور سکوں امن سے ملتا ہے اور امن انسان کے اپنے وجود میں اپنے اندر اپنے دل میں ہوتا ہے جسے ڈھونڈنے کے لئے مہنگے سے مہنگے کپڑے اور قیمتی سے قیمتی زیور نہیں بلکہ حالات کے مارے ہوؤں مجبوروں بیبسوں کے لبوں کی ہلکی سی ایک مسکان بھی کافی ہے۔۔ جب کہ انسانی تاریخ میں تہوار کا مطلب معمولات زندگی کو معطل کرنا ہوتا تھا۔ یہاں اس سے الٹ ہے، جو کام سال میں پانچ بار کرتے تھے۔۔اب چھٹی بار بھی وہی کرو۔۔۔۔اور تہوار ختم

تہوار ہم سوچنے کا موقعہ دیتی ہے۔ زندگی کو پرکھنے کا موقعہ دیتی ہے اسی طرح عید ہم سب کواتحاد واتفاق کادرس دیتی ہے۔ اجتماعیت ومساوات کاپیغام سناتی ہے۔ آپس میں اخوت’ مساوات ومحبت کوفروغ دینے کاجذبہ پیداکرتی ہے۔ صبر و شکر ، ہمدری ، اور انسانیت کا روح بیدار کرتی ہے۔۔۔غیر صحت مند مشاغل سے گریزاور فسق وفجور سے اجتناب کا درس دیتی ہے

رب کریم ہم سب میں روح انسانی کو پروان چڑھائے۔ امین

(ایم ایم قیزل)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s