ذرا سنبھل کے چلنا

میں نے شہر کراچی میں تقریبا دس سال گزارے ہر روز اس انسانی

 ہجوم سے بھری شہر میں کچھ نہ کچھ غور کرنے کو ملتا رہا ہے۔ آج

  کچھ تجربات آپ کےگوش گزار کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔۔

 ۔پیدل چلنے والا پارک میں بیٹھنے والوں کی پروا نہ کرتے ہوئے

گھاس پر پان تھوک جاتا ہے تو موٹر سائیکل سوار پیدل چلنے

 والوں کے انتہائی قریب سے لہراتے ہوئے گزرتا ہے، اور شیخی

 کے  ساتھ انہیں ڈراتا ہے۔ اسی طرح کار والا اپنی دولت کے نشے

میں دھت سُست رفتار گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں پر گرد اور کیچڑ

 اچھالتاچلاجاتاہے۔۔۔ نوجوان حضرات کسی پارٹی کا روپ جما کر اپنا 

بہادری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پان کھا کر دیواروں پر پچکاریاں مارنا

 اپنا واقار سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

ہم سے ہر شخص اپنے سے کم تر کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے

 اور اس کے ساتھ توہین امیز سلوک کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔

 اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو شاید اس کےاپنے رتبہ و مرتبہ میں کمی واقع ہو

 جائے گی۔ راہ چلتے افراد کو تنگ کرنا تو معولی بات ہے۔ اس لیے ہم ہر

 لحظہ و لمحہ اس “فرض” کو ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کر کے ہم فخر

 محسوس کرتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے زمانہ جاہلیت میں عرب سردار

اپنے غلاموں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا اپنی شان سجھتے تھے

۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج ہم جدید ترقی یافتہ دور میں صدیوں پرانی سوچ

 رکھتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کے بر عکس ہم نے اپنے بدن کو تو خوبصورت

 لباسوں سے ڈھانپ لیا لیکن ہم عقل و خرد اور فکر

 کو لباس شعور نہیں پہنا سکے۔ شاید ہم ننگے فکر و بدن کے ساتھ

اکسویں صدی میں خود کو معزز کہلوانا چاہتے ہیں؟

الغرض ہم میں سے ہر کوئی اپنے سے کمتر کو تنگ کرنا اور تکلیف میں

 مبتلا کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہر غریب اور کمزور

 شخص اپنے سے طاقتور کی طرف نقصان اٹھاتا اور اسے گالیاں دیتا نظر آتا ہے۔

مجھے یہ فکر روز ستاتی ہے کہ تہذیب یافتہ اور ١٠٠%خواندگی پر

 فخر کرنے والے کچھ نوجوان بھی روز بہ روز اس مرض میں مبتلا

 ہوتےہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اپنی وقار اور ثقافت سے محروم نوجوانوں سے

 اپیل ہے کہ اپنی تاریخ اور پہچان پر کبھی آنچ آنا نہ دے ہماری

 اقدار اور پرورش میں انسانیت اور محبت کا سبق  د یا گیا ہے۔۔اور

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تم میں سے ہر سواری والا پیدل چلنے والوں کے لئے اور پیدل چلنے والا

 کھڑے ہوؤں کے لئے اور کھڑا ہوا بیٹھے ہوؤں کے لئے باعثِ سلامتی بن جائے۔

اے فخر پاکستان کے نوجوانوں قوموں میں تمہاری حسن اخلاق کی

 مشالیں موجود ہیں ذرا سنبھل کے چلنا۔

Advertisements

One thought on “ذرا سنبھل کے چلنا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s