یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی

یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی

یہی ہم سوچتے تھے آج سے کچھ سال پہلے بھی

ردائے خواب سے باہر نہیں نکلے ہیں ہم اب تک

ستاروں سے بھری اوڑھے ہوئے تھے شال پہلے بھی

اسی دامن سے آنسو پونچھتے تھے خلوتوں میں ہم

اسی مٹی میں رلتے تھے ہمارے لال پہلے بھی

درو دیوار ہی سنتے تھے

سارے شہر کے دکھڑے

یہی تھا دامعینِ محترم کا کال پہلے بھی

یہی دامن تھا جس کی دھجیوں پر شعر لکھتے تھے

ہمارا شہر میں تھا میر جیسا حال پہلے بھی

یہ عشق آرزو پہلے بھی گلیوں میں پھراتا تھا

گلے کا طوق تھا کم بخت یہ جنجال پہلے بھی

نئی اب کون سی حالات کی صورت نکل آئی

یہی ہم تھے ، یہی تم تھے ، یہی احوال پہلے بھی

اعتبار ساجد

Advertisements

2 thoughts on “یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s