گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ ۔ علامہ اقبال by NASHNAS

گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ ۔ علامہ اقبال

غزل

گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

آیا ہے تو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستئ ناپائدار دیکھ

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ

کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ

(علامہ اقبال)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s