آخر کار ہنزہ جھیل سے کتنا خطرہ ہوگا؟

اسلام آباد سے ہنزہ کا سفر چھبیس گھنٹوں میں مکمل ہوا اور اس دوران ایک ہی بات میرے ذہن میں تھی کہ آخر کار اس جھیل سے کتنا خطرہ ہو گا؟ذہن میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے بعد بننے والی وہ جھیل آئی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر اس جھیل کا قدرتی بند ٹوٹا تو بہت تباہی پھیلے گی۔ لیکن وہ جھیل اب سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔

ہنزہ پہنچنے پر سیدھا عطا آباد کا رخ کیا جہاں چار جنوری کو تودا گرنے سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ رک گیا اور ایک جھیل قیام میں آئی جو کہ آج کل میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے۔

جھیل کی لمبائی تقریباً تیس کلومیٹر طویل ہو چکی ہے

اس سے قبل ہنزہ پہنچنے سے پہلے کھانے کے لیے رکے تو نجی ٹی وی چینلز پر خبریں آ رہی تھیں کہ قدرتی بند میں شگاف پڑ گیا ہے اور بند کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ لیکن جھیل پر پہنچنے پر ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔

تاہم جھیل کی قد و قامت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ جھیل کشمیر کی جھیل سے بہت مختلف ہے۔

یہ جھیل جس علاقے میں بنی ہے وہ تحصیل گوجال ہے۔ عطا آباد میں تودہ گرنے سے انیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ گاؤں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور اس کا نام و نشان محض یہ رہ گیا ہے کہ جس جگہ تودہ گرا اور وہاں آج کل فوج کا ادارہ ایف ڈبلیو او بند میں پانی کے اخراج کے لیے سپل وے بنا رہا ہے اسی مقام پر یہ گاؤں ہوتا تھا۔

اس تحصیل کے مزید دو گاؤں آئینہ آباد اور ششکٹ مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تیشے گاؤں گلمٹ جو گوجال تحصیل کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے اب اس قدرتی جھیل کا نشانہ ہے۔ اس گاؤں کے چند گھر زیر آب آ چکے ہیں جب کہ باقی افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔

سفر شروع کرنے سے قبل پانی کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب میرے سامنے ہی ایک کنارے پر ایک گڑھا پڑا اور اس میں پانی جانے لگا۔ اس کے ساتھ ہی دیکھتے ہی دیکھتے تین سے چار فٹ کے حصے میں دراڑیں پڑنی شروع ہو گئیں اور چند منٹوں ہی میں کنارے کا یہ حصہ پانی میں ڈوب گیا۔

اس عمل کے بعد لوگوں میں اور خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کہنے لگ گئے کہ انقریب اسی طرح اس قدرتی بند کو بھی پانی اسی طرح ’کھا‘ جائے گا۔

گلمت کی رہائشی نسرین اپنے گھر کا سامان ٹریکٹر پر لاد رہی تھیں۔ ان سے جب پوچھ گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے تو براہ راست گھر چھوڑنے کا نہیں کہا گیا لیکن ’جب رات کو جھیل کا پانی پہاڑوں کو کاٹتا ہے اور تودے گرتے ہیں تو خوف آتا ہے‘۔

حکومت کی طرف سے تو براہ راست گھر چھوڑنے کا نہیں کہا گیا لیکن جب رات کو جھیل کا پانی پہاڑوں کو کاٹتا ہے اور تودے گرتے ہیں تو خوف آتا ہے

نسرین

جہاں اس جھیل سے عام لوگ متاثر ہوئے ہیں وہیں پر میرے ساتھ کشتی میں ایک حاضر سروس کرنل بھی تھے۔ سفر کے دوران انہوں نے بتایا کہ یہ پہاڑ جو اس وقت اتنے بلند نہیں لگ رہے انہیں پہلے گردن اونچی کر کے دیکھنا پڑتا تھا۔

انہوں نے آئینہ آباد کے چند بچے کچھے گھروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مکانوں کا شمار ان مکانوں میں ہوتا تھا جن کے بارے میں گزرنے والے لوگ سوچتے تھے کہ یہ لوگ اتنی بلندی پر گھر کیوں بناتے ہیں اور اپنے مکانوں تک رسد کیسے لے کر جاتے ہیں۔

کرنل ششکٹ کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ’میرے مکان کا شمار بھی اسی قسم کے مکانوں میں ہوتا تھا اور اب ان آئینہ آباد کے مکانوں کی طرح میرا گھر بھی ہماری آئی لیول پر ہے۔‘

اس سے قبل دسمبر سنہ اٹھارہ سو اٹھاون میں بھی تودہ گرنے سے جھیل بن گئی تھی۔ یہ جھیل آٹھ ماہ تک بنی رہی اور اس میں پانی جمع ہوتا رہا اور جولائی سنہ 1859 میں قدرتی بند ٹوٹا۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ اس جھیل کے پانی کا اتنا زور تھا کہ اس نے دریائے کابل کے پانی کو پانچ کلومیٹر واپس دھکیل دیا

مطابیئت شاہ

ہمارے کشتی تیزی سے ششکٹ گاؤں کی جانب بڑھ رہی تھی اور جھیل میں کئی جگہ کچھ پودے نظر آئے۔ ہمارے ساتھ اس جھیل کے ایک اور متاثر ڈاکٹر عامر احمد نے بتایا کہ یہ پودے نہیں بلکہ سفیدے کے درخت کا اوپر کا حصہ ہیں۔ سفیدے کے درخت کی اونچائی لگ بھگ ڈیڑھ سے دو سو فٹ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عامر نے کہا ’آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس جھیل کی گہرائی کتنی ہو گی۔ یہ گہرائی اس جگہ اور زیادہ ہو جاتی ہے جہاں سے دریا گزرتا تھا۔‘

کشتی کے ملاح نے بتایا کہ ان کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ حکومت ان کو ڈیزل فراہم نہیں کر رہی۔ ’ہم تو زیادہ چکر لگانے کے لیے تیار ہیں تاکہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ مدد ہو سکے لیکن جب ڈیزل ہی ایک محدود مقدار میں ملے گا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔‘

اس جھیل سے متاثر ہونے والوں میں گلگت بلتستان کے ایم ایل اے مطابیئت شاہ بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل دسمبر سنہ اٹھارہ سو اٹھاون میں بھی تودہ گرنے سے جھیل بن گئی تھی۔ ’یہ جھیل آٹھ ماہ تک بنی رہی اور اس میں پانی جمع ہوتا رہا اور جولائی 1859 میں قدرتی بند ٹوٹا۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ اس جھیل کے پانی کا اتنا زور تھا کہ اس نے دریائے کابل کے پانی کو پانچ کلومیٹر واپس دھکیل دیا۔‘

جیھل کے بند پر سپل وے یا پانی کے گزرنے کا راستہ بنایا جا رہا ہے

گلمٹ سے چند کلومیٹر دور ایک اور گاؤں حسینی میں بھی پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ اور مقامی انتظامیہ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جھیل گلمٹ اور حسینی کے بعد پسوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔ اور اس جھیل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی لمبائی تیس کلومیٹر ہو گئی ہے۔

شام کو عطا آباد کی پہاڑیوں پر دور سے روشنی نظر آئی جو کہ اس کیمروں اور لائٹوں کی تھی جو کہ حکمت گلگت بلتستان نے لگائی ہیں تاکہ قدرتی بند پر نظر رکھی جا سکے اور ممکنہ خطرے کے مدِ نظر سائرن بجا کر جھیل کے نچلے حصے یعنی ڈاؤن سٹریم پر واقع علاقوں کو خطرے سے بر وقت آگاہ کیا جا سکے۔

لیکن ان لائٹوں کو دیکھ کر کرنل صاحب کی بات یاد آئی: ’بی بی سی صاحب یہ جھیل دیکہ کر مجھے نیشنل جیوگرافک کی ایک دستاویزی فلم یاد آ گئی جس میں انہوں نے بتایا کہ ایک ڈیم کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی لیکن جب بند ٹوٹا تو ساری نگرانی دھری کی دھری رہ گئی۔‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s